قطب شمالی پر پہلا انسانی قدم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فروری 1909 میں امریکی بحریہ کا انجینئر رابرٹ پیرے جزیرہ ایلس میرے کی بندرگاہ کیپ شیریڈان پر لنگر انداز ہوا۔ اپنے ساتھی میتھیو ہینسن اور کچھ اسکیمیو افراد کے ساتھ 480 میل کا سفر طے کر کے قطب شمالی پہنچا ۔ اس بارے میں اس نے اپنی یاداشتوں میں لکھا ‘ بالآخر قطب ! صدیوں کا راز اور میرا 23 سالہ خواب ، جو آج میرا ہے ۔ ‘ جب وہ اپنی مہم سے واپس آیا تو ایک اور امریکی مہم جو فریڈرک اے کک نے دعوی کیا کہ وہ رابرٹ سے پہلے 21 اپریل 1908 کو قطب شمالی سر کر چکا تھا لیکن وہ اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا۔ رابرٹ کا یہ دعوی کہ وہ قطب شمالی پر پہنچنے والا پہلا شخص تھا اس وقت متنازع ہو گیا جب کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ وہ دراصل وہاں سے 121 میل دور تھا اور اسے ہی قطب شمالی سمجھ رہا تھا۔

آج کل قطب شمالی کی سیاحت بذریعہ ہوائی جہاز اور برف توڑ بحری جہاز کے ذریعے معمول کی بات ہے۔ اب تو ایسی سیاحتی کمپنیاں ہیں جو قطب شمالی کے سفر کرواتی ہیں۔ ۲۰۰۷ میں ایک ولندیزی طائفہ عین قطب شمالی پر گیا ان لوگوں نے وہاں زمین کی رفتار کے ساتھ گھومنے کا مظاہرہ کیا اور گھڑی کی سوئیوں کی طرح آہستگی سےحرکت کرتے رہے جس وقت زمین اپنے مدار پر اس کی مخالف سمت میں متحرک تھی ۔

ترجمہ از لسٹورس ڈاٹ کام