قلعہ اٹك بنارس دور عالمگیری ميں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہ جہان کے بعد دور عالمگیری میں اٹک کا قلعہ دار کامل خان تھا جو شمس آباد کے ایک مجذوب شاہ ربانہ بابا کا معتقد تھا۔ اس نے یوسف زئی افغانوں کے ساتھ موضع ہارون کے قریب ایک خونین معرکہ لڑا اس معرکہ میں اس قدر افغان قتل ہوئے کہ اٹک کے مقام پر سروں کا مینار تعمیر کیا گیااور کئی اونٹ سروں سے لاد کر کابل روانہ کیے گئے اس معرکہ کی تفصیلات مجلس نوادرات علمیہ اٹک کی شائع کردہ کتاب’’ قصہ مشائخ ‘‘ مصنفہ خواجہ محمد زاہد اٹکی، میں موجود ہیں۔ جو ’’مغلوں اور یوسف زئی افغانوں کا عظیم معرکہ‘‘ کے زیر عنوان فراہم کردی گئی ہیں۔

قلعہ اٹک درانی عمل داری میں