قلعہ قموص
| ||||
|---|---|---|---|---|
| ملک | ||||
| درستی - ترمیم | ||||
قلعہ قموس ایک قلعہ ہے جسے یہودیوں نے خیبر میں بنایا تھا ۔ جو یہودیوں نے خیبر میں، مدینہ منورہ کے شمال میں، بنایا تھا۔ یہ مسلمانوں کے قبضے میں غزوہ خیبر کے دوران آیا۔ یہ خیبر کے مشہور ترین قلعوں میں شمار ہوتا ہے اور "حصن خیبر" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، تاہم اس کا اصل نام حصن القموص ہے۔ یہ قلعہ براہ راست قدیم خیبر پر نظر رکھتا تھا اور اس کی حفاظت کرتا تھا۔ خیبر کے سعودی ریاست میں شامل ہونے کے بعد، شاہ عبد العزیز کے دور میں، اسے دوبارہ تعمیر کرکے امارت (حکومتی مرکز) بنایا گیا۔
غزوہ خیبر
[ترمیم]جب رسول اللہ ﷺ نے نطاة اور شق کے علاقے فتح کر لیے تو آپ حصن القموص (جو بنی ابی الحقیق کے قلعوں میں شامل تھا) کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہاں حصن الوطیح اور حصن السلالم بھی موجود تھے۔ اس علاقے میں وہ تمام یہودی جمع ہو گئے جو نطاة اور شق سے شکست کھا کر بھاگے تھے اور انھوں نے سختی سے قلعہ بند ہو کر دفاع کیا۔ مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے کہ ان تینوں قلعوں میں کہیں باقاعدہ جنگ ہوئی یا نہیں۔ ابن اسحاق کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ حصن القموص جنگ کے ذریعے فتح کیا گیا اور بغیر کسی مذاکرات کے مسلمانوں نے اسے صرف قتال کے ذریعے حاصل کیا۔ دوسری طرف، واقدی صراحت سے کہتا ہے کہ یہ تینوں قلعے مذاکرات کے نتیجے میں مسلمانوں کے قبضے میں آئے۔
ممکن ہے کہ حصن القموص پہلے جنگ کے ذریعے دباؤ میں آیا ہو اور پھر اس کے حوالے کرنے کے لیے مذاکرات کیے گئے ہوں، جبکہ دیگر دو قلعے (حصن الوطیح اور حصن السلالم) بغیر کسی جنگ کے مسلمانوں کے حوالے کر دیے گئے ہوں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے کتبیہ (یہودیوں کے اس علاقے) کا رخ کیا تو وہاں کے یہودیوں پر سخت محاصرہ مسلط کر دیا۔ یہ محاصرہ چودہ دن تک جاری رہا اور اس دوران یہودی قلعوں سے باہر نہ نکلے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے منجنیق نصب کرنے کا ارادہ کیا تو یہودیوں نے اپنی یقینی شکست دیکھ کر صلح کی درخواست کر دی۔
مذاکرات اور ہتھیار ڈالنا
[ترمیم]ابن ابی الحقیق نے رسول اللہ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ: "میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، کیا میں نیچے آ سکتا ہوں؟" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہاں" چنانچہ وہ نیچے آیا اور صلح کا معاہدہ طے پایا کہ:
- قلعوں میں موجود تمام جنگجوؤں کی جان بخشی کی جائے گی۔
- ان کی عورتیں اور بچے ان کے پاس رہیں گے۔
- وہ خیبر اور اس کی زمین چھوڑ کر اپنے اہل و عیال کے ساتھ نکل جائیں گے۔
- وہ اپنی زمین، مال و دولت، سونا، چاندی، ہتھیار اور ساز و سامان مسلمانوں کے حوالے کر دیں گے، سوائے اس کپڑے کے جو کسی کے جسم پر ہوگا۔
- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر تم نے ہم سے کچھ بھی چھپایا تو اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاؤ گے۔"
یہودیوں نے اس شرط پر صلح کر لی اور اس کے بعد تمام قلعے مسلمانوں کے حوالے کر دیے گئے، یوں خیبر کی فتح مکمل ہو گئی۔[1][2]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ فتح الشطر الثاني من خيبر الرحيق المختوم آرکائیو شدہ 2016-03-05 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ كتاب: زاد المعاد في هدي خير العباد نداء الإيمان آرکائیو شدہ 2020-04-14 بذریعہ وے بیک مشین

