قلعہ نندنہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Ruins of Nandna Fort looking down the hill of Nandna Fort
Ancient Temple Nandna Near Village Baghanwala hall Fallen inside view

قلعہ نندنہ چوآسیدن شاہ سے 12 میل مشرق کی طرف واقع ہے نندنہ درہ چوآسیدن سے شروع ہوتا ہے

  • قلعہ نندنہ دسویں صدی عیسوی کی تعمیر ہے۔ جس کا رقبہ45 کنال 16 مرلے ہے چوآسیدن شاہ سے ایک تنگ پتھریلا راستہ قلعہ نندنہ کے آثار تک لے جاتا ہے۔ جو 1500 فٹ تک بلند ہے۔ اس میں ایک شہر اور مندر کے آثار ہیں۔ اس پر ہندو شاہی سلسلے کے راجا گیارہویں صدی تک حکمران رہے جنہیں محمود نے یہاں سے مار بھگایا۔ اس کے اندر ہندو شاہی راجا انند پال کے بیٹے جے پال نے شیو کا مندر تعمیر کرایا تھا۔ سنسکرت میں نندنہ کا مطلب ’’بیٹا‘‘ ہے اس قلعے کا نام اِندرَ دیوتا کے دیو مالائی باغ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
  • ابو ریحان البیرونی نے اسی مقام پر کھڑے ہو کر ہاتھ کی ایک چھڑی کے ذریعے پورے کرۂ ارض کا قطر ناپا تھا جس میں موجودہ قطر سے 43 فٹ کا فرق ہے۔
  • سر اورل کے مطابق یہ راستہ سکندر کی افواج نے بھی دریائے جہلم کو پار کرنے کے لیے اختیار کیا جو اس نے جلالپور (بوکے قالیہ) سے پار کیا اور یہ علاقہ بھیم پال اور محمود غزنوی کی فوجوں 1014ء میں میدان جنگ بنا۔
  • محمود غزنوی کا قبضہ قلعہ نندنہ پر ہو گیا یہاں اس نے ساروغ کو کوتوال مقرر کیا۔
  • نندنہ قلعہ کا ذکر تاریخ میں 991ء میں ملتا ہے جب لاہور کے راجا نے 999ء میں مشرق کی طرف سے حملہ کی کوشش کی 13ویں صدی کے شروع میں اس پر قمرالدین کرمانی کا قبضہ تھا جس سے جلال الدین خوارزمی نے قلعہ کا قبضہ لیا۔ جلال الدین خوارزمی کو چنگیز خاں نے 1021ء میں دریائے سندھ کے کنارے شکست دی تو اسی کے امیر ترقی کے زیر تسلط یہ قلعہ آیا۔
  • التتمش کی فتوحات کے زمرہ میں بھی نندنہ قلعہ کا نام آتا ہے التتمش کے بیٹے محمود نے 1247ء میں کوہ نمک کے راجا کو سزا دینے کے لیے حملہ کیا جو چنگیز خان فوج کا ہمرکاب تھا اس کے بعد اکبر اور جہانگیر کے زمانہ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اس دور میں یہاں مغلوں کا ایک باغ بھی تھا۔
  • اس قلعے کی مسجد میں نماز کی جگہ اور صحن موجود ہے اس کے آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پرانے آثار زیر تعمیر شدہ مسجد ہے یہاں پر ایک کتبے کا کچھ حصہ بھی ہے جو بہت مشکل سے پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ تین آثار بدھ سٹوپا کے بھی ہیں جو ساتویں یا آٹھویں صدی کے ہیں اور مسلمانوں کی قبریں مغربی ڈھلوان پر نمایاں ہیں جن پر کوئی کتبہ نہیں ہے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]