قمر جلالوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قمَر جلالوی
معلومات شخصیت
پیدائش 1888[1]
جلالی، بھارت, علی گڑھ, بھارت
وفات 4 October 1968[1]
کراچی, پاکستان
قومیت پاکستانی
عملی زندگی
پیشہ شاعر
وجہ شہرت popularity of his poems

سید محمد حسین عابدی، استاد قمر جلالوی کی پیدائش 1887ء میں علی گڑھ کے قریب ایک تہذیبی قصبہ جلال میں ہوئی اور انہوں نے آٹھ سال کی عمر سے ہی اشعار موزوں کرنے شروع کردیے۔ انہوں نے کسی بڑے تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ مگر ان کی آواز میں غضب کا درد اور کرب تھا اور ترنم بھی اچھا تھا جس کی وجہ سے سامعین ان کے کلام سے متاثر ہو تے۔

معاشی بدحالی[ترمیم]

کم عمری میں ہی قمر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے ان کی شہرت جلال سے نکل کر علی گڑھ پہنچی اور علی گڑھ سے ملک کے دوسرے حصوں میں۔ وہ جلال سے نکل کر میرٹھ چلے گئے اور ایک سائیکل مرمت کی دکان میں میں کام کرنے لگے۔ 24 سال کی عمر میں ہی انہوں نے بہت سے نوخیز شعرا کو اصلاح دینی شروع کر دی تھی۔ تقسیمِ ملک کے بعد وہ پاکستان چلے گئے لیکن وہاں بھی ان کے معاشی حالات ویسے ہی رہے البتہ جب علامہ رشید ترابی کو پتا چلا کہ قمر جلالوی جیسا باکمال شاعر کراچی کی ایک سائیکل کی دکان پر پنکچر لگاتا ہے تو انہوں نے ان کو بلا کر اپنے پاس رکھا اور پاکستانی حکومت سے ان کا وظیفہ مقرر کروایا۔

استادی[ترمیم]

اپنی قادر الکلامی کے سبب وہ 30 برس کی عمر میں ہی استاد قمر جلالوی کہے جانے لگے تھے۔ یہاں تک کہ یہ لفظ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ انہوں نے بہت سے شعرا کے کلام پر اصلاح دی لیکن اپنے کلام کی اشاعت سے بے نیاز رہے۔ وہ بہت خوددار طبیعت کے مالک تھے اس لیے کبھی انہو ں نے کسی کے سامنے دامنِ طلب دراز نہیں کیا اور شاید یہی وجہ رہی کہ ان کی زندگی میں ان کے مجموعہٴ کلام کی اشاعت تک نہیں ہو سکی۔ بعد میں ان کی صاحبزادی کنیز جلالوی نے جو کلام انہیں مل سکا اسے جمع کر کے شائع کروا دیا۔ جو ’رشک قمر‘، ’اوجِ قمر‘ اور ’تجلیاتِ قمر‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ لیکن یہ مکمل کلام نہیں ہے کیوں کہ استاد قمر جلالوی کی غزلیں ان کے مداحوں اور شاگردوں نے اڑا لی تھیں۔ جو اپنے نام سے مشاعروں میں پڑھتے تھے اور بہت سا کلام دوسرے شعرا کے نام سے شائع بھی ہو گیا۔ استاد قمر جلالوی کو مرثیہ نگاری میں بھی کمال حاصل تھا انہوں نے خاصی تعداد میں نوحے اور مراثی لکھے ہیں۔ جنہیں ”غم جاوداں“ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ 24 اکتوبر 1968ء کو 91 سال کی عمر میں کراچی ہوا۔

گلوکاروں کا شاعر[ترمیم]

قمرجلالوی کو زبان پر بلا کی دسترس حاصل تھی۔ اسی لیے ان کے یہاں فکر کی شدت کم ہے اور زبان کا ذائقہ بہت زیادہ۔ ان کے اشعار سہل ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے اور سامع کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی سادگی کی وجہ سے قمر کے کلام کو ایسی زبردست مقبولیت حاصل ہوئی کہ ہندو پاک کا شاید ہی کوئی ا یسا نامور گلوکار اور گلوکارہ ہو جس نے ان کے کلام کو اپنی آواز نہ دی ہو۔ بلکہ ان کی کچھ غزلوں کو پاکستان کے کئی گلو کاروں اور قوالوں نے صدا بند کیا ہے۔ قمر جلالوی کی چند گائی جانے والی غزلیں بے حد مشہور ہوئیں:

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں ۔۔۔ حبیب ولی محمد، منی بیگم
مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے ۔۔۔ منی بیگم
میرا خاموش رہ کر بھی انھیں سب کچھ سنا دینا ۔۔۔ عابدہ پروین
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو ۔۔۔ نورجہاں
آئے ہیں وہ مزار پہ ۔۔۔ صابری برادران

کتب[ترمیم]

ان کی درج ذیل کتابیں شائع ہو چکی ہیں:

  1. رشکِ قمر
  2. اوج ِ قمر
  3. تجلیاتِ قمر
  4. غمِ جاوداں

اجمالی خاکہ[ترمیم]

قمرؔ جلالوی نام سیّد محمد حسین، قمرؔ تخلص 19 اگست 1884ء میں قصبہ جلالی، ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بچپن میں سیّد زندہ علی سے باقاعدہ اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ضلع علی گڑھ میں بائیسکل کی دکان تھی، یہی ان کی روزی کا ذریعہ تھا۔ امیرؔ مینائی ان کے روحانی استاد تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے کراچی میں سکونت اختیار کرلی۔ معاش کے لیے پاکستان کوارٹرز میں سائیکل کی دکان کرلی تھی۔ شاعری کے جملہ اصناف سخن پر قادر تھے۔ ہندوستان اور پاکستان میں آپ کے متعدد شاگرد تھے۔

وفات[ترمیم]

24 اکتوبر 1968ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ یہ کلاسیکی روایت کے آخری مقبول شاعر تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے قدر دانوں نے ان کی حسب ذیل کتابیں شائع کیں۔ ’عقیدتِ جاوداں‘ (سلام اور مراثی کا مجموعہ)، ’رشکِ قمر‘، ’روحِ قمر‘، ’غمِ جاوداں‘، ’اوجِ قمر‘۔ [2]


( ان کی لوحِ مزار پر انہی کا یہ شعر کنندہ ہے )

  • ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریری
  • یہ وہ تاریخ ہے بجلی گری تھی جب گلستاں پر

  • اگر آ جائے پہلو میں قمرؔ وہ ماہ کامل بھی
  • دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگی

نمونہ کلام[ترمیم]

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو
چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت
طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو
مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے
حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو
سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے
کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو
دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو
اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو

کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں
نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں
بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو
تری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں

بہاروں میں یہ بھی ستم دیکھتے ہیں
کہ جلتا ہے گھر اور ہم دیکھتے ہیں
زمانے کو ان کے کرم دیکھتے ہیں
مگر اپنی قسمت کو ہم دیکھتے ہیں

تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے
چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے

قمر اک دن سفر میں خود ہلالِ عید بن جاؤں
اگر قبضے میں میرے گردشِ ایام آجائے

چاندنی کی سیر ان کے ساتھ یہ حسرتِ فضول
اے قمر نفرت ہے ان کو چاند کی تنویر سے

اے قمر صبح ہوئی اب تو اٹھو محفل سے
شمع گل ہو گئی رخصت ہوئے پروانے تک

سیر فلک کو بام پہ آئے وہ جو قمر
تاروں نے آسماں کو چراغاں بنا دیا

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات

  1. ^ ا ب
  2. بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:311