قنبل
ظاہری ہیئت
| قنبل | |
|---|---|
| (عربی میں: قنبل) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 810ء مکہ |
| وفات | سنہ 904ء (93–94 سال) مکہ |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | ماہر اسلامیات ، قاری |
| درستی - ترمیم | |
| دس قراء اور ان کے راوی | ||||
| قاری | اس کے راوی | |||
|---|---|---|---|---|
| مدنی قراء | ||||
| نافع | ||||
| ابو جعفر | ||||
| مکی قاری | ||||
| ابن کثیر | ||||
| بصری قراء | ||||
| ابو عمرو | ||||
| یعقوب | ||||
| شامی قاری | ||||
| ابن عامر | ||||
| کوفی قراء | ||||
| عاصم | ||||
| حمزہ | ||||
| کسائی | ||||
| خلف | ||||
| ||||
امام قنبل عبد اللہ ابن کثیر قاری مکہ کے شاگرد ہیں جوقراء سبعہ میں شامل ہیں۔
اساتذہ
[ترمیم]قنبل نے قراءت (قرآن کی قراءت کی روایت) عرضاً حاصل کی احمد بن محمد بن عون النبال سے اور یہی ان کے بعد مکہ مکرمہ میں قراءت کا منصب سنبھالنے والے تھے۔ نیز انھوں نے قراءت البزِّي سے بھی روایت کی۔ انھوں نے قراءت ابو الحسن احمد القواس سے پڑھی، جنھوں نے ابو الأخريط وہب بن واضح سے، انھوں نے اسماعیل بن شبل اور معروف بن مشکان سے اور ان دونوں نے ابن کثیر (المکّی) سے قراءت اخذ کی۔
پولیس کی ولایت
[ترمیم]ابو عبد اللہ القصاع بیان کرتے ہیں:
| ” | "وہ مکہ مکرمہ میں پولیس کے سربراہ (والیِ شرطة) تھے، کیونکہ اس منصب پر وہی شخص فائز کیا جاتا تھا جو اہلِ فضل، نیک سیرت اور صاحبِ صلاح ہو، تاکہ وہ جو کچھ حدود و احکام کے نفاذ سے متعلق کام انجام دے، وہ درست ہو۔ اسی وجہ سے قنبل کو یہ منصب سونپا گیا کیونکہ وہ علم اور فضیلت کے حامل تھے۔" | “ |
امام شمس الدین ذہبی کہتے ہیں:
| ” | "یہ منصب ان کے درمیانی عمر میں انھیں دیا گیا اور ان کی حکمرانی و کارکردگی کو سراہا گیا۔"[3] | “ |
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ معرفۃ القراء :1؍452
- ↑ معرفۃ القراء :1؍453
- ↑ تراجم القراء أصحاب القراءات العشر ومن روى عنهم آرکائیو شدہ 2017-12-06 بذریعہ وے بیک مشین