قومی مرکز برائے انسداد امراض

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قومی مرکز برائے انسداد امراض
NCDC India Logo 2020.png
ایجنسی کا جائزہ
قیام1909؛ 111 برس قبل (1909)
پیش رو ایجنسیاں
  • National Institute of Communicable Diseases (NICD) (1963–2008)
  • Central Malaria Bureau (1909–1963)
Superseding agency
  • none
دائرہ کاربھارت
صدر دفترNew Delhi
وزرا ذمہ دار
ایجنسی ایگزیکٹو
  • Dr Sujeet Kumar Singh (2018-incumbent)، Director
اعلیٰ ایجنسیوزارت صحت و خاندانی بہبود، حکومت ہند
ویب سائٹncdc.gov.in

قومی مرکز برائے انسداد امراض (انگریزی: National Centre for Disease Control) یا قومی مرکز برائے متعدی امراض وزارت صحت و خاندانی بہبود، حکومت ہند کے تحت ایک ادارہ ہے جسے جولائی 1963ء میں انفیکشن اور وبائی امراض پر تحقیق کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ بھارتی ادارہ برائے ملیریا کے کام کاج کی نگہداشت بھی کرتا ہے۔ فی الحال اس کی 8 مختلف شاخیں ہیں جو الور، بنگلور، تروواننتاپورم، کالیکٹ، کنور، جگدل پور، پٹنہ، راجامنڈری اوروارانسی میں واقع ہیں۔ یہ مرکز کی یہ تمام شاخیں ریاستی حکومت کو عوامی صحت سے باخبر کرتی رہتی ہیں۔ مرکز کا صدر دفتر شام ناتھ مارگ نئی دہلی میں واقع ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ادارہ کے تبدیلی نام کے موقع پر ڈاکٹر ایس پی رادھا کرشنن

قومی مرکز برائے ضبط امراض کو 1909ء میں کسولی، ہماچل پردیش میں قائم کردہ سینٹرل ملیریا بیورو سے جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ 1938ء میں اس کا نام بدل کر ملیریا انسٹییوٹ آف انڈیا (بھارتی ادارہ برائے ملیریا ) کیا گیا اور 1963ء میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈزیز (قومی مرکز برائے متعدی امراض) کردیا گیا۔[1] جب تنظیم کا ڈھانچہ مستحکم ہو گیا تب ایک ایسے ادارے کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا جہاں متعدی امراض کی روک تھام اور وبائی امراض کی تعلیم اور تحقیق پر توجہ دی جائے۔ ادارہ میں ماہرین کو تیار کیا جائے اور انہیں متعدی امراض کی روک تھام کی بہترین تربیت دی جائے۔ اجمالی طور پر ادارہ کے تین بنیادی مقاصد تھے: تربیت دینا، خدمت فراہم کرنا اور متعدی امراض سے تحفظ اور روک تھام پر تحقیق کرنا۔ ارادہ گرو گوبند سنگھ اندرپرستھ یونیورسٹی، دہلی سے ملحق ہے۔ اسی ادارہ میں 2002ء میں ناکو کی ہدایات کے تحت ایڈز کے متعلق امراض کا مرکز بھی قائم کیا گیا۔ اس سے قبل 1985ء سے ایڈر ریفرینس سینٹر لیباریٹری موجود تھی جسے ملک میں ایڈز کی روک تھام کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ 30 جولائی 2009ء کو ادارہ کا نام بدل کر نیشنل سینٹر فار ڈزیز کنٹرول (قومی مرکز برائے انسداد امراض)۔

شعبہ جات[ترمیم]

ادارہ میں فی الحال 14 مختلف شعبے موجود ہیں جن میں مندرجہ ذیل اہم ہیں:

بجٹ[ترمیم]

ادارہ میں کل 434 افسران ملازم ہیں۔[2] اس کا کل بجٹ ₹233.04 کروڑ ہے۔

سرگرمیاں[ترمیم]

ادارہ کے ڈاکٹروں کو کئی وبائی امراض کی روک تھام اور تحقیق کے لئے طلب کیا جا چکا ہے جیسے 2002ء میں پنجاب، بھارت میں طاعون کی وبا۔ اور 2006ء میں برڈفلو۔ ادارہ بھارت میں کورونا وائرس کی وبا، 2020ء بہت مستعدی سے کام کررہا ہے۔[3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Singal، Manish Kumar (17 نومبر 204). "IN FOCUS: Shaping health experts and aiding research". Tribune India. 30 اگست 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 29 جنوری 2020. 
  2. "India National Centre for Disease Control". International Association of National Public Health Institutes (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 28 جنوری 2020. 
  3. ANI (2020-01-27). "NCDC reviews preparedness regarding coronavirus in RML hospital". Business Standard India. اخذ شدہ بتاریخ 30 جنوری 2020. 
  4. Sharma، Neetu Chandra (2020-01-25). "11 people under observation for coronavirus, PMO holds high-level meeting". Livemint (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 30 جنوری 2020. 

بیرونی روابط[ترمیم]