قیامت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلامی عقیدہ کے مطابق جس دن ﷲ تعالٰیٰ تمام مردوں کو زندہ کرے گا اور پھر ان سے ان کے تمام نیک و بد اعمال کا حساب لے گا اورجس کے اعمال اچھے ہونگے اس کو جنت ملے گی اور جس کے اعمال برے ہونگے اس کو دوزخ ملے گی، اس دن کا نام یومِ قیامت یا یومِ آخرت ہے۔

علاماتِ قیامت[ترمیم]

علاماتِ قیامت سے مراد قیامت کی وہ نشانیاں ہیں، جن کا ظہور قیامت سے قبل ہوگا۔ متعدد احادیث میں قیامت کی بہت سی علامات ملتی ہیں۔ اور قیامت سے پہلے کے بہت سے حالات احادیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ جیسے دنیا کا ظلم و جور سے پر ہونا، منجی عالم بشریت امام مہدی کا ظہور ہونا، وغیرہ

قیامت کی علامات صغریٰ[ترمیم]

قیامت کی علامات صغریٰ میں سے سب سے پہلی علامت حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور آپ کی وفات ہے ‘پچھلی آسمانی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لقب ”نبی الساعۃ“ لکھا ہے۔ جس کا معنی ہے: ” قیامت کا نبی “یعنی آپ وہ آخری نبی ہوں گے کہ جن کی امت پر قیامت قائم ہو گی ۔

  • اولاد نافرمان ہو جائے گی
  • بیٹیاں تک ماں کی نافرمانی کرنے لگیں گی
  • دوست کو اپنا اور باپ کو پرایا سمجھا جانے لگے گا۔
  • علم اٹھ جائے گا اور جہالت عام ہو جائے گی
  • دین کا علم لوگ دنیا کمانے کے لیے حاصل کرنے لگیں گے۔
  • نااہل لوگ امیر اور حاکم بن جائیں گے
  • اور ہر قسم کے معاملات ‘عہدے اور مناصب نااہلوں کے سپرد ہو جائیں گے
  • جوجس کام کا اہل اور لائق نہ ہوگا وہ کام اس کے سپرد ہو جائے گا۔
  • لوگ ظالموں اور برے لوگوں کی تعظیم اس وجہ سے کرنے لگیں گے کہ یہ ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں۔
  • شراب کھلم کھلا پی جانے لگے گی
  • زنا کاری اور بد کاری عام ہو جائےگی۔
  • علانیہ طور پر ناچنے اور گانے والی عورتیں عام ہو جائیں گی
  • گانے بجانے کا سامان اور آلات موسیقی بھی عام ہو جائیں گے۔
  • لوگ امت کے پہلے بزرگوں کو برا بھلا کہنے لگیں گے۔
  • جھوٹ عام پھیل جا ئے گا اور جھو ٹ بو لنا کمال سمجھا جانے لگے گا۔
  • امیر اور حاکم ملک کی دو لت کو ذا تی ملکیت سمجھنے لگیں گے۔
  • اما نت میں خیا نت شرو ع ہو جا ئے گی
  • اما نت کے طو ر پر رکھوائی جا نے والی چیزوں کو لوگ ذاتی دو لت سمجھنے لگیں گے۔
  • نیک لو گو ں کی بجا ئے رزیل اور غلط کار قسم کے لوگ اپنے اپنے قبیلے اور علا قے کے سردا ر بن جا ئینگے
  • شرم و حیا بالکل ختم ہو جا ئے گا۔
  • ظلم و ستم عا م ہو جا ئے گا۔
  • ایمان سمٹ کر مدینہ منورہ کی طرف چلا جائے گا جیسے سانپ سکڑ کر اپنی بل کی طرف چلا جا تا ہے۔
  • ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ دین پر قائم رہنے والے کی وہ حالت ہوگی جو ہاتھ میں انگارہ پکڑ نے والے کی ہو تی ہے۔
  • زکوٰة کو لوگ تاوا ن سمجھنے لگیں گے‘ مال غنیمت کو اپنا مال سمجھا جانے لگے گا۔
  • ماں کی نافر مانی اور بیوی کی فرماں برداری شروع ہو جائے گی۔
  • عورتیں زیادہ اور مرد کم ہو جائیں گے‘ یہاں تک کہ ایک مرد پچاس عورتوں کا نگران ہو گا۔
  • قیامت سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت میں سے تیس بڑے بڑے کذاب اور دجال آئیں گے‘ ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا‘ حا لانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آخری نبی ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کو ئی نبی نہیں۔
  • عرا ق کا مشہو ر دریا فرات سونے کا ایک پہاڑ یا سونے کا ایک خزانہ ظاہر کرے گا‘ جس پر لو گ لڑ ینگے‘ چنانچہ اس لڑائی میں ہر سو میں سے ننانوے قتل ہو جائینگے۔ ممکن ہے سونے کے پہاڑ یا سونے کے خزانے سے مراد عراق کا تیل ہو۔ واللہ اعلم

جب یہ علا متیں ہو چکیں گی تو سخت قسم کا عذاب شروع ہوگا

  • اس میں سرخ آندھیاں آئیں گی
  • آسما ن سے پتھر برسیں گے
  • کچھ لوگ زمین میں دھنسا دیے جائیں گے
  • لوگو ں کی شکلیں مسخ ہو جائیں گی
پھر پے در پے کئی نشانیاں ایسے ظاہر ہوں گی جیسے ہار کا دھاگہ ٹوٹنے پر مسلسل دانے گرنے لگتے ہیں۔

احادیث[ترمیم]

ایک حدیث کے مطابق علامات قیامت یہ ہیں: حذیفہ بن اسید غفاری بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف متوجہ ہوئے ہم اس وقت مذاکرہ کر رہے تھے‘ آپ نے پوچھا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ صحابہ نے کہا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں‘ آپ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس علامتیں نہ دیکھ لو پھر آپ نے دخان (دھوئیں) دجال‘ دابۃ الارض‘ سورج کا مغرب سے طلوع‘ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول‘ یاجوج ماجوج‘ تین بار زمین کا دھنسنا (مشرق میں دھنسنا‘ مغرب میں دھنسنا‘ جزیرۃ العرب میں دھنسنا) اور اس کی آخری علامت آگ ہوگی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔[1]

وغیرہ

دیگر احادیث[ترمیم]

حساب کتاب[ترمیم]

جب قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہوں گی تب حکم الٰہی سے حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے، جس سے سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ پھر جب ﷲ تعالٰیٰ کو منظور ہوگا تب دوبارہ صور پھونکا جائے گا، جس سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے۔ پھر سب جن و انس کا حساب و کتاب لیا جائے گا، نیک اعمال انجام دینے والوں کو جنت میں اور برے اعمال انجام دینے والوں کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح مسلم‘ رقم الحدیث :‘ 2901‘ سنن ابوداؤد‘ رقم الحدیث :‘ 4311‘ سنن ترمذی‘ رقم الحدیث :‘ 2190‘ سنن ابن ماجہ‘ رقم الحدیث :‘ 4041‘ مسند احمد ج 5‘ رقم الحدیث :‘ 1644‘ مسند الطیالسی‘‘ رقم الحدیث :‘ 1067‘ مسند الحمیدی‘ رقم الحدیث :‘ 827‘ شرح السنہ‘ رقم الحدیث :‘ 4250