قیامت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

اسلامی عقیدہ کے مطابق جس دن ﷲ تعالٰیٰ تمام مردوں کو زندہ کرے گا اور پھر ان سے ان کے تمام نیک و بد اعمال کا حساب لے گا اورجس کے اعمال اچھے ہونگے اس کو جنت ملے گی اور جس کے اعمال برے ہونگے اس کو دوزخ ملے گی، اس دن کا نام یومِ قیامت یا یومِ آخرت ہے۔

علاماتِ قیامت[ترمیم]

علاماتِ قیامت سے مراد قیامت کی وہ نشانیاں ہیں، جن کا ظہور قیامت سے قبل ہوگا۔ متعدد احادیث میں قیامت کی بہت سی علامات ملتی ہیں۔ اور قیامت سے پہلے کے بہت سے حالات احادیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ جیسے دنیا کا ظلم و جور سے پر ہونا، منجی عالم بشریت امام مہدی کا ظہور ہونا، وغیرہ

قیامت کی علامات صغریٰ[ترمیم]

قیامت کی علامات صغریٰ میں سے سب سے پہلی علامت حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور آپ کی وفات ہے ‘پچھلی آسمانی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لقب ”نبی الساعۃ“ لکھا ہے۔ جس کا معنی ہے: ” قیامت کا نبی “یعنی آپ وہ آخری نبی ہوں گے کہ جن کی امت پر قیامت قائم ہو گی ۔

  • اولاد نافرمان ہو جائے گی
  • بیٹیاں تک ماں کی نافرمانی کرنے لگیں گی
  • دوست کو اپنا اور باپ کو پرایا سمجھا جانے لگے گا۔
  • علم اٹھ جائے گا اور جہالت عام ہو جائے گی
  • دین کا علم لوگ دنیا کمانے کے لیے حاصل کرنے لگیں گے۔
  • نااہل لوگ امیر اور حاکم بن جائیں گے
  • اور ہر قسم کے معاملات ‘عہدے اور مناصب نااہلوں کے سپرد ہو جائیں گے
  • جوجس کام کا اہل اور لائق نہ ہوگا وہ کام اس کے سپرد ہو جائے گا۔
  • لوگ ظالموں اور برے لوگوں کی تعظیم اس وجہ سے کرنے لگیں گے کہ یہ ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں۔
  • شراب کھلم کھلا پی جانے لگے گی
  • زنا کاری اور بد کاری عام ہو جائےگی۔
  • علانیہ طور پر ناچنے اور گانے والی عورتیں عام ہو جائیں گی
  • گانے بجانے کا سامان اور آلات موسیقی بھی عام ہو جائیں گے۔
  • لوگ امت کے پہلے بزرگوں کو برا بھلا کہنے لگیں گے۔
  • جھوٹ عام پھیل جا ئے گا اور جھو ٹ بو لنا کمال سمجھا جانے لگے گا۔
  • امیر اور حاکم ملک کی دو لت کو ذا تی ملکیت سمجھنے لگیں گے۔
  • اما نت میں خیا نت شرو ع ہو جا ئے گی
  • اما نت کے طو ر پر رکھوائی جا نے والی چیزوں کو لوگ ذاتی دو لت سمجھنے لگیں گے۔
  • نیک لو گو ں کی بجا ئے رزیل اور غلط کار قسم کے لوگ اپنے اپنے قبیلے اور علا قے کے سردا ر بن جا ئینگے
  • شرم و حیا بالکل ختم ہو جا ئے گا۔
  • ظلم و ستم عا م ہو جا ئے گا۔
  • ایمان سمٹ کر مدینہ منورہ کی طرف چلا جائے گا جیسے سانپ سکڑ کر اپنی بل کی طرف چلا جا تا ہے۔
  • ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ دین پر قائم رہنے والے کی وہ حالت ہوگی جو ہاتھ میں انگارہ پکڑ نے والے کی ہو تی ہے۔
  • زکوٰة کو لوگ تاوا ن سمجھنے لگیں گے‘ مال غنیمت کو اپنا مال سمجھا جانے لگے گا۔
  • ماں کی نافر مانی اور بیوی کی فرماں برداری شروع ہو جائے گی۔
  • عورتیں زیادہ اور مرد کم ہو جائیں گے‘ یہاں تک کہ ایک مرد پچاس عورتوں کا نگران ہو گا۔
  • قیامت سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت میں سے تیس بڑے بڑے کذاب اور دجال آئیں گے‘ ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا‘ حا لانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آخری نبی ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کو ئی نبی نہیں۔
  • عرا ق کا مشہو ر دریا فرات سونے کا ایک پہاڑ یا سونے کا ایک خزانہ ظاہر کرے گا‘ جس پر لو گ لڑ ینگے‘ چنانچہ اس لڑائی میں ہر سو میں سے ننانوے قتل ہو جائینگے۔ ممکن ہے سونے کے پہاڑ یا سونے کے خزانے سے مراد عراق کا تیل ہو۔ واللہ اعلم

جب یہ علا متیں ہو چکیں گی تو سخت قسم کا عذاب شروع ہوگا

  • اس میں سرخ آندھیاں آئیں گی
  • آسما ن سے پتھر برسیں گے
  • کچھ لوگ زمین میں دھنسا دیے جائیں گے
  • لوگو ں کی شکلیں مسخ ہو جائیں گی
پھر پے در پے کئی نشانیاں ایسے ظاہر ہوں گی جیسے ہار کا دھاگہ ٹوٹنے پر مسلسل دانے گرنے لگتے ہیں۔

احادیث[ترمیم]

ایک حدیث کے مطابق علامات قیامت یہ ہیں: حذیفہ بن اسید غفاری بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف متوجہ ہوئے ہم اس وقت مذاکرہ کر رہے تھے‘ آپ نے پوچھا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ صحابہ نے کہا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں‘ آپ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس علامتیں نہ دیکھ لو پھر آپ نے دخان (دھوئیں) دجال‘ دابۃ الارض‘ سورج کا مغرب سے طلوع‘ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول‘ یاجوج ماجوج‘ تین بار زمین کا دھنسنا (مشرق میں دھنسنا‘ مغرب میں دھنسنا‘ جزیرۃ العرب میں دھنسنا) اور اس کی آخری علامت آگ ہوگی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔[1]

وغیرہ

حساب کتاب[ترمیم]

جب قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہوں گی تب حکم الٰہی سے حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے، جس سے سب کچھ فنا ہو جائے گا۔ پھر جب ﷲ تعالٰیٰ کو منظور ہوگا تب دوبارہ صور پھونکا جائے گا، جس سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے۔ پھر سب جن و انس کا حساب و کتاب لیا جائے گا، نیک اعمال انجام دینے والوں کو جنت میں اور برے اعمال انجام دینے والوں کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔

      حقیقتِ معاد

قرآن مجید میں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں وہ صرف اس دن کا ہلکا سا تصور دینے کے لیے بیان ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا سمجھنا مشکل ہے۔ ہم ہر چیز کو اپنے مشاہدہ، تجربہ، علم اور اپنے فہم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو سمجھانے کے لیے ان ہی چیزوں کا حوالہ دیا جاتا ہے جن کا اس دنیا میں ہمیں تجربہ اور مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ قیامت کے احوال کو ہمارے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ صرف اصل حقیقت کا ہلکا سا تصور ہے جب کہ ان کی اصل حقیقت ان کے مقابلہ میں نہ معلوم کتنے گنا زیادہ ہوگی۔ اس کے باوجود اس ہلکے سے تصور یا حقیقت کے پرتو سے بھی جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی ہولناکیوں کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے جو اس انتباہ کے لیے کافی ہے کہ جو لوگ دوزخ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں وہ خدا کی نافرمانی ترک کرکے فرماں بردار بندے بن جائیں۔ اس کے باوجود لوگ آخرت کے عذاب سے متنبہ نہ ہوں اور جانتے بوجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی زندگی گزار دیں تو یہ انتباہ ان پر اتمام حجت کے لیے کافی ہوگا جس کے بعد قیامت کے دن ان کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ اس طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن کر زندگی بسر کریں گے، ان کے لیے خوش خبری ہے کہ اگر وہ اس راہ پر ثابت قدم رہیں اور اس راہ کی مشکلات اور مصائب کو برداشت کریں تو اس کے صلہ میں وہ جنت کی نعمتوں کے حق دار ٹھہریں گے۔


برزخ:

موت اور قیامت کے درمیان برزخ کی زندگی ہے جو دراصل قیامت ہی کا دیباچہ ہے۔ موت کے ساتھ ہی عالم آخرت کے احوال کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اہل ایمان کو ایمان کی حقانیت اور اس کے اچھے انجام کی شہادت مل جاتی ہے اور کفار کے سامنے اس کے انجام کے ظہور کا آغاز ہوجاتا ہے جس کی وہ دنیا کی زندگی میں بھی تکذیب کرتے رہے تھے۔ اس کے بعد کسی کے لیے بھی روزِ جزا و سزا کے متعلق کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔


عذابِ قبر:

عذابِ قبر کے متعلق بعض غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی اعمال کے مطابق فیصلہ کردیا جاتا ہے اور اس کو دوزخ یا جنت میں بھیج دیا جاتا ہے، لیکن یہ بات قرین قیاس نہیں ہے کیوں کہ حساب کتاب اور اعمال کی جواب دہی سے قبل کسی کے انجام کا فیصلہ عدل کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ اعمال کی جواب دہی کا دن تو قیامت کا دن ہے۔ اس دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، اس کے نتیجہ میں کسی کو جنت یا دوزخ میں بھیجنے کا فیصلہ ہوگا لہٰذا حساب کتاب سے قبل جو قبر کی زندگی یا برزخی زندگی ہے اس میں عذاب کے کیا معنی ہوسکتے ہیں۔ اس کو ہمارے روزمرہ کے تجربات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص دن میں اچھے اور نیک کام کرتا ہے تو اس کو رات میں سہانے خواب نظر آتے ہیں، وہ میٹھی نیند کے مزے لوٹتا ہے اور وہ صبح جب بیدار ہوتا ہے تو چاق و چوبند، خوش و خرم اور ہشاش بشاش ہوتا ہے۔ جو شخص دن برے کاموں میں گزارتا ہے، اس کو رات میں ڈراؤنے خواب نظر آتے ہیں، اس کی رات بڑی بے چین گزرتی ہے۔ صبح کے وقت وہ بہت مضمحل ہوتا ہے۔ اسی طرح برزخی زندگی انسان کے دنیاوی اعمال کا ہلکا سا پرتو ہوگا۔ ایمان اور عمل صالح کی زندگی گزارنے والے برزخی زندگی میں نہایت سکون اور اطمینان سے رہیں گے۔ وہ جنت کی معمولی جھلک بھی دیکھیں گے اور اپنے انجام سے خوش و خرم ہوں گے۔ ان کے اعمال نامے علیون میں ہوں گے۔ اس کے برعکس خدا کے باغی اور سرکش بندوں پر ان کی بدانجامی اپنی جھلک دکھائے گی لہٰذا وہ اپنی برزخی زندگی میں مضطرب، ڈرے اور سہمے ہوئے ہوں گے۔ قرآن میں جگہ جگہ اس بات کی تصریح ہے کہ مرنے کے بعد نیک روح پر ان کے اعمال کے اعتبار سے کیفیات کا صدور ہونے لگتا ہے اور ارواحِ خبیثہ پر ان کے اعمال کے اعتبار سے۔ یہ گویا ان کے لیے جنت یا دوزخ کی تہمید ہوگی۔ برزخی زندگی میں ان کو صبح و شام جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے کہ وہ دیکھتے رہیں کہ ان کا اصل ٹھکانہ کیا ہوگا۔

سورۂ مومن میں بتایا گیا ہے کہ فرعون کو صبح و شام دوزخ کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے اور جب قیامت کا دن آئے گا تو حکم ہوگا کہ فرعون اور اس کے اتباع کرنے والوں کو دوزخ کے شدید ترین عذاب میں جھونک دو۔ چناں چہ فرمایا:

النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْْہَا غُدُوّاً وَعَشِیّاً وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَۃُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ (المومن40: 46)

’’آگ ہے جس پر صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت ہوگی حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب میں داخل کردو۔‘‘

حدیثوں میں عذابِ قبر کا جو ذکر آتا ہے، وہ اسی برزخی زندگی سے متعلق ہے۔


صورِ اوّل:

قیامت واقع ہونے سے قبل اس کائنات کی بساط لپیٹ دی جائے گی، اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے صور پھونکا جائے گا جو صورِ اوّل کہلاتا ہے۔ صور ایک کڑک اور دل ہلا دینے والی چیخ ہوگی ۔ اس کی پہلی کڑک اتنی ہولناک ہوگی جو کانوں کو بہرہ کردے گی، جس طرح کوئی رات میں آنے والا دروازہ کو ٹھونکتا ہے اور گھر کے تمام سونے والوں کو دفعتاً ہربڑا دیتا ہے، وہی حال صور پھونکنے کے بعد ہوگا جس سے دفعتاً سارے عالم میں ہلچل برپا ہوجائے گی۔ زمین بالکل ہلا دی جائے گی، پہاڑ غبار کی طرح پراگندہ ہوجائیں گے۔ زمین کی ساری بلندیاں پست کردی جائیں گے، ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کردے گا۔ فرمایا:

إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَہَا۔ (الزلزال99: 1)

’’جب کہ زمین ہلا دی جائے گی، جس طرح اس کو ہلانا ہے۔‘‘

مزید فرمایا:

وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً ہ فَیَوْمَءِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ہ (الحاقہ 69: 14-15)

’’اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اُٹھا کر پاش پاش کردئیے جائیں گے۔ پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی۔‘‘

اس دن کائنات کی نمایاں ترین چیزوں کا جو حال ہوگا اس کا اجمالاً تذکرہ ذیل میں کیا جارہا ہے۔


آسمان کا حال:

صورِ قیامت سے آسمان کی کھال کھنچ لی جائے گی، یہ نیلگوں چھت سرخ کھال کی طرح نظر آنے لگے گی، جس طرح سے کہ گوشت پر سے کھال کھینچ لی جائے تو اندر سرخ سرخ گوشت نظر آنے لگتا ہے۔ سورہ رحمن میں فرمایا:

فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاء فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ ۔ (الرحمن55: 37)

’’پس یاد رکھو اس وقت کہ جب آسمان پھٹ کر کھال کی مانند سرخ ہوجائے گا۔‘‘

اس دن یہ آسمان جو آج نہایت مستحکم اور گنبد بے در کی شکل میں نظر آتا ہے، اس طرح کھول دیا جائے گا کہ اس میں ہر طرف دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے، اس طرح یہ گنبد بے در ہزاروں دروازوں میں تبدیل ہو کر نابود ہوجائے گا۔ چناں چہ فرمایا:

وَفُتِحَتِ السَّمَاء فَکَانَتْ أَبْوَاباً ۔ (النبا78: 19)

’’اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہی دروازے ہوں گے۔‘‘

اجرامِ فلکی:

آسمان بلکہ اس پوری کائنات کی روشن ترین چیز سورج اور چاند ہے۔ صورِ قیامت کے ساتھ ہی سورج اور چاند جمع کردئیے جائیں گے، جن کا جمع ہونا اس دنیا میں محال نظر آتا ہے۔ سورہ قیامہ میں فرمایا:

وَخَسَفَ الْقَمَرُ ہ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ہ (القیامہ75: 8-9)

’’پس جب نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی اور سورج گہنا جائے گا اور سورج اور چاند اکٹھے کردئیے جائیں گے۔‘‘

سورج اور چاند جمع ہونے کے متعلق مولانا حمید الدین فراہیؒ نے سورہ قیامہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ بہت سے اجرام سورج کی طرف جذب ہوکر اس میں جاپڑنے ہیں ۔۔۔ اور چوں کہ سورج کی حرارت اس وقت کم ہوجائے گی۔ اس وجہ سے سورج کے قریب ہونے کے باوجود انسان زندہ رہ سکیں گے، لیکن اس کی روشنی سے اس کی نگاہیں خیرہ ہوں گی۔ اسی طرح چاند پہلے تو گہنا جائے گا کیوں کہ کرۂ زمین کے سورج کے قریب پہنچ جانے کی وجہ سے چاند کی روشنی باقی رہے گی اور پھر وہ سورج کے اندر جا پڑے گا۔‘‘

آخرکار سورج کی بساط بھی لپیٹ دی جائے گی جس سے سارا عالم تیرہ و تار ہوجائے گا جو اس کی تابانی سے روشن ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سورج ہی تاریک ہوجائے گا تو اس کے نظام سے وابستہ جتنے بلب اور قمقمے ہوں گے سب بے نور ہوجائیں گے یعنی چاند اور ستارے جو سورج سے روشنی مستعار لیتے ہیں، از خود بے نور ہوجائیں گے جس کے بعد سارے عالم پر ظلمت طاری ہوجائے گی۔ چناں چہ فرمایا:

إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ہ وَإِذَا النُّجُومُ انکَدَرَتْ ہ (التکویر81: 1-2)

’’جب کہ سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور ستارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘

زمین کا احوال:

اس دن زمین تان دی جائے گی۔ آج زمین میں جو بہت سی شکنیں اور سلوٹیں اور نشیب و فراز، وادیاں، کہسار اور پہاڑ ہیں ان کی اونچ نیچ اور تہوں میں بے شمار چیزیں چھپی ہوئی ہیں جو نظر نہیں آرہی ہیں، لیکن قیامت کے دن یہ ایک چادر کی طرح تان دی جائے گی اور جو کچھ اس کی سلوٹوں میں ہے، وہ اس کو نکال باہر کرکے فارغ ہوجائے گی۔ یعنی صرف مُردے ہی نکال کر باہر نہیں پھینکے گی بلکہ وہ ساری چیزیں جو زمین میں دفن ہیں زمین نکال باہر کرے گی، جن میں سرمایہ داروں کے خزانے بھی ہیں۔ چنانچہ فرمایا:

وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ہ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ. (الانشقاق84: 3-4)

’’اور جب کہ زمین تان دی جائے گی اور وہ اپنے اندر کی چیزیں باہر ڈال کر فارغ ہوجائے گی۔‘‘

پہاڑ:

زمین کی سب سے شان دار چیز پہاڑ ہیں جو زمین میں گڑے ہوئے ہیں، جن کو غیرفانی اور اٹل سمجھا جاتا ہے کہ ان کو چلایا نہیں جاسکتا۔ یہ اس دن چلا دئیے جائیں گے اور یہ اس طرح اُڑتے پھریں گے جس طرح بادل اُڑتے پھرتے ہیں۔ یہ پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے جس طرح دھنکی ہوئی اون کا ریشہ ریشہ الگ ہوجاتا ہے، اسی طرح پہاڑوں کا ذرہ ذرہ پراگندہ ہوجائے گا۔ آج یہ پہاڑ ٹھوس پتھر ہیں لیکن قیامت کے دن یہ ریت کے تودوں کی طرح پھسپھے ہوجائیں گے۔ سورہ القارعہ میں فرمایا:

وَتَکُونُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنفُوشِ۔ (القارعہ 101: 5)

’’اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہوجائیں گے۔‘‘

وحشی جانور:

قیامت کے ہول سے جانوروں پر بھی ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری ہوگی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہوگی، آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب اکٹھے ہوجائیں گے۔ جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب کا پانی پھیل جائے تو جنگلی جانور سراسیمگی کی حالت میں جس ٹیلے اور ٹھیکرے پر ان کو پناہ ملنے کی توقع ہو، وہاں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور مشترک مصیبت کا ہول ان سب پر ایسا طاری ہوتا ہے کہ بکری، شیر اور بھیڑیے پاس کھڑے ہوجاتے ہیں، لیکن کسی کو ہوش نہیں رہتا کہ اس کا حریف شکار اس کے بغل میں ہے۔ یہی صورتِ حال خوف ناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے وقت پیش آئے گی۔ چنانچہ فرمایا:

وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ۔ (التکویر81: 5)

’’وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے۔‘‘

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح مسلم‘ رقم الحدیث :‘ 2901‘ سنن ابوداؤد‘ رقم الحدیث :‘ 4311‘ سنن ترمذی‘ رقم الحدیث :‘ 2190‘ سنن ابن ماجہ‘ رقم الحدیث :‘ 4041‘ مسند احمد ج 5‘ رقم الحدیث :‘ 1644‘ مسند الطیالسی‘‘ رقم الحدیث :‘ 1067‘ مسند الحمیدی‘ رقم الحدیث :‘ 827‘ شرح السنہ‘ رقم الحدیث :‘ 4250