قیامت کی علامات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام میں قیامت کی علامات یا قیامت کی نشانیوں سے مراد وہ حوادث واقعات ہیں جو قیامت سے قبل پیش آچکے ہیں یا آئیں گے، گویا یہ وہ نشانیاں ہیں جن کے ظاہر ہونے کے بعد ہی قیامت آئے گی۔[1] [2]

علاماتِ قیامت کی اقسام[ترمیم]

پہلی قسم: علامات صغری (چھوٹی نشانیاں)[ترمیم]

  • علامات بعیدہ: یہ وہ نشانیاں ہیں جو ظاہر ہو چکی ہیں، مثلا پیغمبر اسلام کی بعثت اور پھر آپ کی وفات، چاند کے دو ٹکڑے ہونا اور اسی طرح عہد صحابہ کے آخر میں مدینہ سے ایک بڑی آگ کا نکلنا جس سے بصریٰ کے اونٹ نظر آنے لگے۔ ان علامات کو علامات صغری کہا جاتا ہے کیونکہ قیامت کی آمد ان کے زمانۂ وقوع کے بہت بعد میں ہوگی۔
  • علامات متوسطہ: یہ وہ علامات ہیں جو ظاہر ہوئیں لیکن اب تک ختم نہیں ہوئیں بلکہ جاری ہیں اور مزید بڑھتی اور زیادہ ہوتی جا رہی ہیں، انھیں بھی علامات صغری کہا جاتا ہے، ان کی تعداد بہت ہے جن میں کچھ یہ ہیں: باندی کا آقا جننا، کم حیثیت اور چرواہوں دیہاتیوں کا اونچی اونچی عمارتیں بنوانا، تیس دجال اور جھوٹے مدعیان نبوت کا نکلنا وغیرہ۔

دوسری قسم: علامات کبری (بڑی نشانیاں)[ترمیم]

یہ وہ علامات ہیں جن کے ظاہر ہونے کے بعد قیامت واقع ہو جائے گی، یہ دس علامات ہیں:

حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں کہ "ہم لوگ آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے کہ اللہ کے نبی تشریف لائے، پوچھا کیا باتیں چل رہی ہیں؟ کہا گیا کہ قیامت کا تذکرہ ہو رہا ہے، اللہ کے نبی نے فرمایا : قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک دس نشانیاں نہ دیکھ لی جائیں، پھر انہیں شمار کرایا:

  1. دھواں
  2. دجال
  3. دابۃ الارض
  4. مغرب سے طلوعِ آفتاب
  5. نزولِ عیسیٰ مسیح
  6. یاجوج اور ماجوج کا ظہور
  7. مشرق میں زمین کا دھنسنا
  8. مغرب میں زمین کا دھنسنا
  9. جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسنا
  10. ایک آگ یمن کی جانب سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کر محشر میں جمع کرے گی۔ [3]

قیامت کی علامات صغری[ترمیم]

وہ علامات جو ظاہر ہو چکی ہیں اور اب تک باقی ہیں[ترمیم]

  1. بعثت نبوی
  2. وفات نبوی
  3. شق القمر
  4. صحابہ کرام کی وفات
  5. بیت المقدس کی فتح
  6. طاعون عمواس
  7. فتنوں کا بکثرت ظہور
  8. جنگ صفین
  9. خوارج کا ظہور
  10. جھوٹے مدعیان نبوت کا نکلنا
  11. خوشحالی اور عیش پرستی کا عام ہو جانا
  12. حجاز سے آگ کا نکلنا
  13. ترک کی جنگ
  14. لوگوں پر کوڑے برسانے والے ظالموں کا ظہور
  15. قتل و خونریزی کی کثرت
  16. امانت کا دلوں سے اٹھ جانا
  17. گزشتہ اقوام کی اندھی تقلید
  18. باندی کا آقا جننا
  19. بے حیائی اور عریانیت کا عام ہونا
  20. کم حیثیت اور چرواہوں دیہاتیوں کا اونچی اونچی عمارتیں بنوانا
  21. خاص اور بڑے لوگوں کی بندگی
  22. تجارت خوب زیادہ عام ہو جانا
  23. شوہر کی تجارت میں بیوی کا شریک ہونا
  24. بعض تاجروں کا پوری منڈی پر قابض ہونا
  25. جھوٹی گواہی
  26. حق کی گواہی کا چھپانا
  27. جہالت کا عام ہونا
  28. بخل کا عام ہونا
  29. قطع رحمی
  30. پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی
  31. فحش عام ہونا
  32. امانت دار کا خیانت کرنا اور خائن کا امانت داری کرنا
  33. پہاڑی بکروں کا ہلاک ہونا
  34. حلال و حرام مال کی تمیز کا ختم ہو جانا
  35. مال غنیمت کو دولت سمجھا جانے لگنا
  36. امانت کے مال کو غنیمت کا مال سمجھنا
  37. زکوۃ کو خراج اور ٹیکس کی طرح بوجھ سمجھنا
  38. دنیوی مفادات کے لیے علم حاصل کرنا
  39. بیوی کی فرماں برداری اور ماں کی نافرمانی
  40. دوستوں سے قربت اور والدین سے دوری
  41. مسجدوں میں شور و غل
  42. قبیلوں پر فاسقوں کی سرداری قائم ہو جانا
  43. سب سے گھٹیا اور ذلیل شخص کا قوم کا لیڈر اور رہنما بننا
  44. لوگوں کے ڈر کی وجہ سے ان کی عزت کرنا
  45. آزاد کو (غلامی کے لیے) حلال سمجھنا
  46. مردوں کے لیے ریشم حلال سمجھا جانے لگنا
  47. گانے بجانے کے آلات کا جائز سمجھا جانے لگنا
  48. لوگوں کا موت کی تمنا کرنے لگنا
  49. ایسا زمانہ آنا جس میں آدمی کا صبح مومن رہنا اور شام تک کافر ہو جانا
  50. مساجد کی حد سے زیادہ ظاہری زیبائش و آرائش کا ہونا
  51. گھروں کو خوب شاندار بنوانا
  52. قیامت کے قریب بہت زیادہ بجلی گرنا
  53. تحریر و کتابت کا خوب زیادہ عام ہو جانا
  54. محض چرب زبانی اور فخریہ کلام سے مال کمانا
  55. قرآن کے سوا دیگر کتابوں کا خوب عام ہو جانا
  56. قاریوں کی کثرت اور علما و فقہا کی قلت
  57. کم علم والوں کے پاس علم حاصل کرنا
  58. اچانک موت کا خوب ہونا
  59. بیوقوف لوگوں کا حاکم بن جانا
  60. زمانہ کا قریب ہو جانا (دن و سال تیزی سے گزرتا محسوس ہونا)
  61. روبیضہ کا بات کرنا
  62. نسلی کمینے شخص کا دنیا کا سب سے نیک بخت انسان بن جانا
  63. مساجد کو راستہ اور گزرگاہ بنا لینا
  64. مہر کا بہت زیادہ پھر بہت کم ہو جانا
  65. قریب قریب بازار بن جانا
  66. دیگر اقوام کا مسلم قوم پر غالب آ جانا
  67. نماز کی امامت کے لیے لوگوں کا آپس میں جھگڑنا
  68. مومن شخص کے خواب کا سچ ہونا
  69. جھوٹ کا عام ہونا
  70. لوگوں میں دھوکا دہی اور چالاکی کا عام ہونا
  71. زلزلہ کی کثرت
  72. عورتوں کی کثرت
  73. مردوں کی قلت
  74. عورتوں کے ساتھ کھلم کھلا فحش و بدکاری
  75. قرآن پر اجرت کا لیا جانا
  76. لوگوں میں موٹاپا زیادہ ہونا
  77. ایسے لوگوں کا ہونا جو خود گواہی دیں گے لیکن دوسروں کی گواہی قبول نہیں کریں گے
  78. ایسے لوگوں کا ہونا جو دوسروں کو کسی کام سے روکیں گے اور خود وہی کام کریں گے
  79. طاقتور کا کمزور پر ظلم کرنا
  80. اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کا نہ ہونا
  81. رومیوں کی کثرت اور عربوں کی قلت ہونا
  82. نئی نئی سواریوں کا آنا
  83. زمین سے طرح طرح کے خزانے اور معدنیات کا نکلنا
  84. زمین کا دھنسنا
  85. ایسا فتنہ پیش آنا جس سے عربوں کا صفایا ہو جائے
  86. لوگوں میں مال کی بہتات ہونا
  87. تہمت و بہتان کو جائز سمجھا جانے لگنا
  88. ایسا زمانہ آ جانا جس میں فسق و فجور یا عاجز رہنے میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا پڑے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دیکھیے الصحاح للجوهري (136/3)، وغريب الحديث لابن الأثير (460/2).
  2. غريب الحديث لابن الأثير (460/2).
  3. مسلم، من حديث حذيفة بن أسيد.