قیامت کی علامات صغری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قیامت کی علامات صغریٰ

قیامت کی علامات صغریٰ میں سے سب سے پہلی علامت حضرت محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور آپ کی وفات ہے ‘پچھلی آسمانی کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لقب ”نبی الساعۃ“ لکھا ہے۔ جس کا معنی ہے: ” قیامت کا نبی “یعنی آپ وہ آخری نبی ہوں گے کہ جن کی امت پر قیامت قائم ہو گی ۔

اولاد نافرمان ہو جائے گی ‘بیٹیاں تک ماں کی نافرمانی کرنے لگیں گی ‘ دوست کو اپنا اور باپ کو پرایا سمجھا جانے لگے گا۔

علم اٹھ جائے گا اور جہالت عام ہو جائے گی ‘دین کا علم لوگ دنیا کمانے کے لیے حاصل کرنے لگیں گے۔

نااہل لوگ امیر اور حاکم بن جائیں گے ‘اور ہر قسم کے معاملات ‘عہدے اور مناصب نااہلوں کے سپرد ہو جائیں گے۔ جوجس کام کا اہل اور لائق نہ ہوگا وہ کام اس کے سپرد ہو جائے گا۔

لوگ ظالموں اور برے لوگوں کی تعظیم اس وجہ سے کرنے لگیں گے کہ یہ ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں۔

شراب کھلم کھلا پی جانے لگے گی‘ زنا کاری اور بد کاری عام ہو جائےگی۔

علانیہ طور پر ناچنے اور گانے والی عورتیں عام ہو جائیں گی،گانے بجانے کا سامان اور آلات موسیقی بھی عام ہو جائیں گے۔

لوگ امت کے پہلے بزرگوں کو برا بھلا کہنے لگیں گے۔

جھوٹ عام پھیل جا ئے گا اور جھو ٹ بو لنا کمال سمجھا جانے لگے گا۔

امیر اور حاکم ملک کی دو لت کو ذا تی ملکیت سمجھنے لگیں گے۔

اما نت میں خیا نت شرو ع ہو جا ئے گی ‘اما نت کے طو ر پر رکھوائی جا نے والی چیزوں کو لوگ ذاتی دو لت سمجھنے لگیں گے۔

نیک لو گو ں کی بجا ئے رزیل اور غلط کار قسم کے لوگ اپنے اپنے قبیلے اور علا قے کے سردا ر بن جا ئینگے

شرم و حیا بالکل ختم ہو جا ئے گا۔

ظلم و ستم عا م ہو جا ئے گا۔

ایمان سمٹ کر مدینہ منورہ کی طرف چلا جائے گا جیسے سانپ سکڑ کر اپنی بل کی طرف چلا جا تا ہے۔

ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ دین پر قائم رہنے والے کی وہ حالت ہوگی جو ہاتھ میں انگارہ پکڑ نے والے کی ہو تی ہے۔

زکوٰة کو لوگ تاوا ن سمجھنے لگیں گے‘ مال غنیمت کو اپنا مال سمجھا جانے لگے گا۔

ماں کی نافر مانی اور بیوی کی فرماں برداری شروع ہو جائے گی۔

عورتیں زیادہ اور مرد کم ہو جائیں گے‘ یہاں تک کہ ایک مرد پچاس عورتوں کا نگران ہو گا۔

قیامت سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت میں سے تیس بڑے بڑے کذاب اور دجال آئیں گے‘ ہر ایک نبو ت کا دعویٰ کرے گا‘ حا لانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آخری نبی ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کو ئی نبی نہیں۔

عرا ق کا مشہو ر دریا فرات سونے کا ایک پہاڑ یا سونے کا ایک خزانہ ظاہر کرے گا‘ جس پر لو گ لڑ ینگے‘ چنانچہ اس لڑائی میں ہر سو میں سے ننانوے قتل ہو جائینگے۔

ممکن ہے سونے کے پہاڑ یا سونے کے خزانے سے مراد عراق کا تیل ہو۔ واللہ اعلم

جب یہ علا متیں ہو چکیں گی تو سخت قسم کا عذاب شروع ہوگا‘ اس میں سرخ آندھیاں آئیں گی‘ آسما ن سے پتھر برسیں گے‘ کچھ لوگ زمین میں دھنسا دیے جائیں گے‘ لوگو ں کی شکلیں مسخ ہو جائیں گی‘ پھر پے در پے کئی نشانیاں ایسے ظاہر ہوں گی جیسے ہار کا دھاگہ ٹوٹنے پر مسلسل دانے گرنے لگتے ہیں