قیام امام حسین کا ساتھ دینے والی خواتین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

قیام امام حسین کا ساتھ دینے والی خواتین وہ ہیں جنہوں نے مختلف مقامات پر کسی نہ کسی طرح اس عظیم تحریک کا ساتھ دیا اور باطل کے سامنے حق کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

میدان کربلا میں[ترمیم]

حضرت زینبؓ کے علاوہ اور بھی خواتین کربلا کے میدان میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ ان میں حضرت ام کلثومؓ، حضرت رقیہ بنت الحسینؓ، حضرت سکینہ بنت الحسینؓ، حضرت فضہؓ، جناب ربابؓ، جناب رملہؓ، جناب ام لیلیؓ، جناب ام وہبؓ، جناب بحریہ بنتِ مسعودؓ، جناب خزرجیہؓ، جناب ہانیہؓ اور حضرت وہب کی منکوحہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

ہاشمی خواتین[ترمیم]

کربلا میں کئی رشتہ دار اور رشتہ دار خواتین موجود تھیں۔

  • زینب کبری وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے اندام باطل پر لرزہ طاری کر دیا اور ظلم و ستم کی تلواریں اور دیواریں ان کی شجاعانہ تحریک اور خطبوں کے سامنے سر نگوں ہوئیں۔ نبیؐ کی نواسی، زینت حیدرؑ، ثانی زہراؑ، شریکۃ الحسینؑ کا نام اللہ نے لوح محفوظ پر "زین اب" یعنی زینب رکھا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا عصر عاشور تک معمار کربلا امام حسین علیہ السلام کی مشاور تھیں۔ اس کے بعد مقصد کربلا کی محافظ اور پیغام کربلا کی مبلغہ ہیں۔

کربلا در کربلا می ماند اگر زینب نبود

شیعہ پژمردہ می شد اگر زینب نبود

  • ام کلثوم بنت علی، جس طرح حضرت عباس علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے نہ صرف بھائی بلکہ باوفا پیروکار تھے اسی طرح نبی کی چھوٹی نواسی، امیرالمومنین علیہ السلام کی آخری میزبان حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا تعمیر، تحفظ اور تبلیغ کربلا کے ہر محاذ پر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے شانہ بہ شانہ رہیں۔ کوفہ میں خطبہ دیا اور مدینہ واپسی پر وہ نوحہ پڑھا جسے سن کر آج بھی ہر دل غمژدہ اور ہر آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے۔
  • حضرت رقیہ بنت الحسینؓ،
  • حضرت سکینہ بنت الحسینؓ، سکون نفس مطمئنہ، باعث تسکین قلب وارث انبیاء حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا نے کمسنی میں ایثار و قربانی کے وہ نقوش چھوڑے ہیں جن تک دنیاکی بزرگ خواتین بلکہ مردوں کی بھی رسائی ممکن نہیں۔ بھوک و پیاس، یتیمی اور مظلومیت کے باوجود اس کمسنی میں اہداف حسینی کی حفاظت فرمائی۔
  • حضرت فضہؓ، ایک جلیل القدر صحابیہ اور عالمہ فاضلہ متقیہ خاتون تھیں۔ اس خاندان کے تمام غموں میں شریک رہیں۔ بی بی فاطمہ زہرا کی ساتھی اور مونس تھیں ان کے بعد ان کے بچوں کے لیے ماں کا کردار جاری رکھا۔
  • جناب ربابؓ، امام حسین علیہ السلام کی شریکہ حیات و شریکہ مقصد حضرت رباب سلام اللہ علیہا نے کربلا میں سہاگ کی قربانی دی اور اس سے پہلے اپنے شیر خوار بچے علی اصغر کی وہ قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت اور حقانیت کی دلیل بن گئی۔ امام حسین علیہ السلام کے غم میں نوحہ کیا اور جب واپس مدینہ آئیں تو ایک سال تک کربلا والوں کی عزاداری کی کبھی سایہ میں نہ بیٹھیں یہاں تک کہ روح جسم سے پرواز کر گئی۔
  • جناب رملہؓ،
  • جناب ام لیلیؓ زوجہ امام حسین تھیں۔
  • 9۔ حضرت ام اسحاق سلام اللہ علیہا، امام حسین علیہ السلام کی زوجہ جناب ام اسحاق سلام اللہ علیہا کربلا میں موجود تھیں۔ آپ حاملہ تھیں۔ مظلوم کربلا نے اپنے مظلوم بھائی حضرت محسن بن علی و فاطمہ سلام اللہ علیہم کے نام پر ولادت سے قبل اپنے نور نظر کا نام محسن رکھا تھا۔ راہ شام میں حلب کے نزدیک یزیدی ظلم و ستم کے سبب یہ محسن مظلوم اپنے مظلوم چچا کی طرح بطن مادر میں ہی شہید ہو گئے اور وہیں دفن ہوئے۔ حلب کے نزدیک "مشہد السقط" و "مشہد المحسن" کے نام سے آپ کا مزار مقدس عاشقان اہلبیت علیہم السلام کی زیارت گاہ ہے۔

غیر ہاشمی خواتین[ترمیم]

مدینہ سے ساتھ تھیں[ترمیم]

1۔کَبشَہ، کنیز امامِ حسینؑ: ان کی کنیت ام سُلَیمان ہے۔ امام حسینؑ کی کنیز جنہیں آنحضرت نے 1000 درہم (چاندی کے سکے) میں خریدا اور امامؑ کی زوجہ ام اسحاق (فاطمہ صغریٰ کی والدہ) کے گھر میں خدمت کیا کرتی تھیں۔ پھر ابو رَزِّین کے ساتھ عقد نکاح کیا اور ان کے بطن سے سلیمان نامی فرزند متولد ہوئے۔ سلیمان امام حسینؑ کے غلام تھے۔ سلیمان کو امام حسینؑ نے اپنا قاصد بنا کر بصرہ کے رؤسا و اشراف کی طرف بھیجا تھا کہ عبید اللہ ابن زیاد کے حکم سے قتل کر دیا گیا۔

یہ وہی سلیمان ہیں جن کا نام زیارت ناحیہ مقدسہ میں آیا ہے۔ ام سلیمان نے اپنے مولا حسینؑ کے ہمراہ کربلا کا سفر کیا۔ آپ کے شوہر بھی امام حسینؑ کے صحابی تھے۔ ام سلیمان عالمہ، فاضلہ، صالحہ و متقی خاتون تھیں کہ جو اپنے آقا حسینؑ کے ساتھ راہی کربلا ہوئیں اور بعد عاشورا اہلبیتؑ حرم کے ساتھ قیدی بنیں۔ انہوں نے تمام مصائب کو راہ خدا میں تحمل بھی کیا۔

2۔ فُکیہ: صحابی رسول عبد اللہ ابن اریقط کی بیوی تھیں۔ جناب رُباب، زوجہ امام حسینؑ کے گھر میں خدمت کیا کرتی تھیں۔ عبد اللہ سے ایک فرزند اس دنیا میں آیا جن کا نام قارب تھا جو کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔

فکہیہ بھی جناب ربابؑ کے ساتھ کربلا میں آئیں اور اہلبیت ؑ کے ساتھ اسیر ہو کر شام کے قید خانہ تک گئیں۔

3۔حُسنِیہ مادر مُنجحؑ: حضرت سید الشہداءؑ کی آزاد کردہ کنیز ہیں، امام حسینؑ نے انہیں نوفل بن حارث بن عبد الملک سے خریدا۔ ان کا عقد نکاح "سہم" نامی شخص سے کر دیااور ان کے بطن سے منجح بن سہم متولد ہوئے۔ حسنیہ امام زین العابدینؑ کی خدمت کیا کرتی تھیں یہاں تک کہ سید الشہداءؑ اور اپنے فرزند منجح کے ساتھ کربلا آئیں۔ منجح کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ حسنیہ اہلبیتؑ کے مصائب میں شریک رہیں نیز ان کی یاور و غمخوار بھی بنی رہیں۔

دیگر خواتین بھی کربلا میں موجود تھیں مگر طوالت مضمون کے خوف سے ہم ان کے ناموں کے ذکر سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔

بعد میں ملحق ہوئیں[ترمیم]

مدینہ سے کربلا کے درمیان میں قافلہ امامؑ سے ملحق ہونے والی خواتین یہ ہیں۔

1- ام وہب کلبی: زوجہ عبد اللہ بن حباب کلبیؑ: ام وہب شجاع، و بہادر خاتون تھیں ان کا اصل نام قمر بنت عبد ہے جو قبیلہ بنی فمر بن قاسم اور زوجہ عبد اللہ بن عُمَیر سے تعلق رکھتی تھیں جو بنی عُلیم کے قبیلہ سے متعلق تھے جیسے ہی ان کے شوہر نے کوفہ سے کربلا امام حسینؑ کی مدد کیلئے نکلنے کا ارادہ کیا، ام وہب نے بھی اصرار کیا انہیں بھی اپنے ہمراہ لے چلیں۔

عاشورا کے روز جب عبد اللہ ابن عمیر میدان جنگ میں گئے تو انہوں نے بھی اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیا اور میدان جنگ کی طرف دوڑیں لیکن امام حسینؑ نے منع کیا اور فرمایا: عورتوں سے وظیفۂ جہاد ساقط ہے۔" لیکن اپنے شوہر کی شہادت کے بعد اس کے سرہانے پہنچیں اور ان کے چہرے کو صاف کرتے ہوئے کہتی تھیں: "تمہیں بہشت مبارک ہو!" خدا سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے تمہارے ہمراہ قرار دے کہ شمر نے اپنے غلام رستم کو اس کی طرف بھیجا تو اس غلام نے ایک ستون خیمہ سے اس خاتون کے سر پر ضرب مار کر سر شگافتہ کر دیا جس سے وہ درجہ شہادت پر فائز ہوئیں۔ ام وہب عاشور کے روز سب سے پہلی شہید ہونے والی خاتون تھیں۔

بعض کتب منابع میں اس سے مشابہ مضامین تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ وہب بن عبد اللہ بن عمیر کے سلسلہ میں نقل ہوئے ہیں اور کربلا میں شہید ہونے والی خاتون کو زوجہ وہب بتایا ہے۔

منجملہ علامہ مجلسیؒ اپنی کتاب بحار الانوار میں تحریر کرتے ہیں:

"وہب بن عبد اللہ کلبی شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ ان کی والدہ اور زوجہ بھی کربلا میں موجود تھیں اور شہید ہونے ولی خاتون میں سے تھیں۔"

شیخ عباس قمیؒ نے بھی علامہ مجلسیؒ سے نقل کرتے ہوئے تحریر کیا ہے:

میں نے ایک حدیث و روایت میں دیکھا ہے کہ ابن وہب نصرانی تھے اور اپنی مادر گرامی کے ساتھ امام حسینؑ کے دست مبارک پر مسلمان ہوئے تھے؛ میدان جنگ میں اپنے ہاتھوں سے 24 پیادہ اور 12 سوار کو قتل کیا اور دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ اسے عمر ابن سعد کے پاس لے گئے اور کہا: "عجیب شجاع و بہادر شخص ہے؟ پھر حکم دیا کہ اس کا سر قلم کر دیا جائے اور اس کا سر لشکر امام حسینؑ کی طرف بھینکا گیا۔ ان کی مادر گرامی نے سر اٹھایا اور بوسہ دیا اور پھر اسے لشکر عمر سعد کی طرف پھینکا اور وہ سر ایک شقی کو لگتا ہے جو اس کے جہنم رسید ہونے کا سبب بنتا ہے۔ پھر ایک چوب خیمہ لے کر حملہ آور ہوئیں اور دیگر 2 اشقیا قتل کیا۔ امام حسینؑ نے ان سے فرمایا: اے ام وہب واپس آجاؤ، جہاد عورتوں پر ساقط ہے۔ ام وہب واپس پلٹیں اور کہتی جا رہیں تھیں: "پروردگارا! مجھے نا امید نہ کرنا۔"

تب امام حسینؑ نے فرمایا: "خداوند متعال تجھے نا امید نہ کرے! اے ام وہب۔"

سید ابن طاؤس اس سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں:

"وہب بن جناح کلبی، زوجہ اور والدہ کو اپنے ہمراہ کربلا لے کر آئے تھے۔

بعض روایت میں 2 "وہب" كے نام تذکرہ ملتا ہے۔ بہر حال زوجہ وہب سپاہ حسینؑ میں درجہ شہادت پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں اور مادر وہب ان سے راضی نہیں ہوئیں جب تک کہ وہ امام حسینؑ کی رکاب میں قتل ہوتا ہوا نہ دیکھا اور یہ جذبہ و فطرت تربیت حسینی و فاطمی کے زیر سایہ اور عشق اہلبیتؑ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

2۔ ام خلف؛ زوجہ مسلم: ام خلف پہلی صدی ہجری کی نامور خاتون ہیں، آپ کے شوہر مسلم ابن عوسجہ، امام حسینؑ کے با وفا صحابی تھے ان سے شادی کی ثمرہ "خلف بن مسلم بن عوسجہ" نامی ایک فرزند کی صورت میں تھا۔ مسلم بن عوسجہ اپنے فرزند کے ساتھ روز عاشورا اپنے امام حسینؑ کی رکاب میں جام حق پیتے ہیں ام خلف با ایمان خاتون تھیں جو اہلبیتؑ کی محبت میں پورے وجود سے سرشار تھیں، ام خلف اپنے شوہر و فرزند کے ساتھ مکہ سے کربلا تک درمیان میں راستہ میں ہی کاروان امام سے ملحق ہوئیں تھیں، اپنے شوہر کی شہادت کے بعد اپنے فرزند کو میدان جنگ میں بھیجا۔ مسلم ابن عوسجہ کی شہادت کے بعد ان کے فرزند خلف سے امام نے فرمایا: "اگر میدان جنگ میں جاؤ گے تو قتل ہو جاؤ گے، تمہاری والدہ تنہا و بیکس ہو جائیں گی، تمہارے لئے مناسب یہی یے کہ جنگ کی جگہ اپنی والدہ کا سہارا بنو۔

ام خلف جو اس مکالمہ کو سن رہیں تھیں اپنے فرزند کے سامنے آئیں اور خطاب کرتے ہوئے کہا: "اے میرے بیٹے! اپنی سلامتی پر فرزند رسول خداؐ کی مدد و نصرت کو ترجیح دو، اگر اپنی سلامتی کو منتخب کرتے ہو تو میں تم سے کبھی بھی راضی نہیں رہوں گی"

خلف شجاعت و بہادری کے ساتھ میدان جنگ میں گئے، ام خلف انہیں شوق دلاتی تھیں اور کہتی تھیں: اے میرے بیٹے تمہیں بشارت ہو کہ عنقریب آب کوثر سے سیراب ہونے والے ہو، خلف نے 30 دشمنان امام كو قتل کیا اور دفاع دین و امامؑ كي راہ میں شہادت کا جام نوش فرمایا۔ کوفیوں نے خلف کے سر کو ان کی والدہ کی طرف پھینکا، اس بہادر و لائق خاتون نے جو ان کے فرزند کے سر کو اپنی آغوش میں لے کر بوسہ دیا اور ایسا گریہ و زاری کرنے لگیں کہ جو لوگ اس مقام پر موجود تھے وہ لوگ بھی گریہ و زاری کرنے لگے اور دشمنوں کی ظاھري فتح کی شیرینی کو ان کے منہ میں تلخ کر دیا۔

3۔ ام عَمرو زوجہ جنادہ انصاریؑ: ان کا نام بحریہ بنت مسعود خزرجی ہے۔ زوجہ جُنادہ بن کعب انصاری جو شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ جن کا نام جُنادہ بن حرث بھی تاریخ میں لکھا ہے قبیلہ خزرج سے آپ کا تعلق تھا۔ جُنادہ بن کعب مکہ سے ہی کاروان حسینؑ سے ملحق ہوئے اور روز عاشورا پہلے ہی حملہ میں جان بحق نوش فرمایا۔ ان کے فرزند عَمرو بن جنادہ انصاری بھی کربلا میں شہید ہوئے۔

عَمرو بن جنادہ انصاری کربلا کے نوجوان شہدا میں سے تھے اور جب میدان جنگ میں جانا چاہا تو امامؑ نے فرمایا: "اس جوان کا باپ مارا جا چکا ہے ممکن ہے کہ اس کی ماں میدان جنگ میں جانے پر راضی نہ ہو، تب عمرو نے کہا: "میری ماں نے حکم دیا ہے کہ میں میدان جنگ میں جاؤں اور جنگ کا لباس بھی میری ماں نے ہی پہنایا ہے۔"

جبکہ عَمرو بن جُنادہ کا سن مبارک 9 یا 11 سال سے زیادہ نہ تھا، میدان جنگ میں گئے اور شہید ہوئے، سر کو ان کی ماں کی طرف پھینکا، ماں نے بھی اس سر کو اٹھایا اور کہا: میرے بیٹے تم نے کتنا اچھا جہاد کہا، اے میرے دل کے چین! اے میری آنکھوں کے نور! پھر فوج اشقیاء کی طرف پھینک دیا اور وہ سر ایک شقی کو لگتا ہے جو اس کی موت کا پیغامبر بنتا ہے، پھر خیمہ کی ایک لکڑی اٹھایا اور فوج اشقیا پر حملہ آور ہوئیں، امام حسینؑ نے روکا اور اسے خواتین کے خیمہ میں واپس لائے، عَمرو بن جُنادہ کا نام زیارت ناحیہ مقدسہ میں آیا ہے۔

4۔ رُوَیحہ؛ زوجہ ہانی: رویحہ کوفہ میں اپنے مکان پر مسلم بن عقیل کے وارد ہوتے ہی میزبانی و مہان نوازی کرتی رہیں، اپنے شوہر ہانی بن عروہ مرادی اور مسلم بن عقیلؑ کی شہادت کے بعد اپنے فرزند یحیی بن ہانی کے ساتھ کوفہ میں مخفی ہو جاتی ہیں پھر امام حسینؑ کے کربلا میں وارد ہونے کی اطلاع کے ساتھ ہی آنحضرت کے پاس پہونچتی ہیں اور یحیی امام حسینؑ کے مخالف لشکر یزید میں شامل ہوتے ہیں، کربلا میں اس خاتون کا والد عمرو بن حجاج زبیدی لشکر عمر بن سعد میں تھا اور نہر فرات پر 500 سپاہیوں کو معین کیا جس کی سرداری اسی کے سپرد تھی اور وہ تاکید کرتا تھا کہ سپاہ امام حسینؑ پانی تک دست رسی نہ ہو سکے لیکن یہ بہادر اور محبت اہلبیتؑ سے سرشار خاتوں اپنے ہی شوہر کے مثل تھیں۔

کربلا میں موجود نہ تھیں[ترمیم]

کچھ خواتین ایسی بھی تھیں جو کربلا میں موجود نہ تھیں لیکن پیغام امام حسینؑ کو سننے کے ساتھ ہی مختلف طریقوں سے بنی امیہ کی حکومت کے خلاف قیام امام حسین کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، ان خواتین نے کربلا میں موجود خواتین کی تأسی و پیروی میں خطابت، اشعار، روایت و حدیث، مجلس عزا برپا کرنا، عزاداری کے ذریعہ امام حسینؑ کی تحریک کے پیغامات کو عام کرنے نیز حقیقی اسلام کی بقاء کی حفاظت اور بنی امیہ کی حکومت کی حقیقت کو واضح کرانے میں بہترین کردار اد ا کیا۔

"تحریک کی حمایت کروانے والی خواتین کو دو حصے ہاشمی و غیر ہاشمی میں تقسیم کر سکتے ہیں"

ہاشمی خواتین[ترمیم]

1۔ ام المومنین ام سلمہ: ہند بنت ابو امیہ، زوجہ پیامبرؐ: ام المؤمنین ام سلمہ ازواج مطہرات میں سے تھیں۔ ان کا نام ہند اور کنیت ام سلمہ تھی جو ابو امیہ حذیفہ بن مغیرہ بن عبد اللہ کی بیٹی اور صدر اسلام کی عظیم و نامور خاتون تھیں۔ انہوں نے پہلے ابو سلمہ بن عبد الاسد مخزومی سے شادی کی اور ان کے بطن سے "زینب، سلمہ، عمر اور درۃ" نامی اولاد ہوئیں تھیں۔

ابو سلمہ کی وفات کے بعد 2 یا 3 ہجری میں رسولخداؐ کی زوجیت میں آئیں۔ ام سلمہ، اہلبیتؑ عصمت و طہارت خصوصاً امام حسینؑ سے بہت ہی محبت کرتی تھیں اور امام حسینؑ انہیں مادر گرامی سے مخاطب فرماتے تھے، ام سلمہ نے واقعہ کربلا کے بارے میں رسولخداؐ سے سنا تھا اور آپ جانتی تھیں کہ امام حسینؑ یک و تنہا و تشنہ لب و غریب الوطنی میں قتل کئے جائیں گے، آپ نے بہت کوشش کی کہ امامؑ کربلا کے سفر سے باز رہیں، جب امامؑ نے سفر کا مصمم ارادہ کر لیا تو ام سلمہ نے کہا: "اے میرے عزیز! عراق کی طرف آپ کے نکلنے سے ہمیں محزون و مغموم نہ کرو میں نے تمہارے نانا رسولخداؐ سے خود سنا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "میرا حسینؑ کربلا میں قتل کیا جائے گا۔" امام حسینؑ نے جواب میں فرمایا: مادر گرامی! میں جانتا ہوں کہ کربلا، میں قتل کیا جاؤں گا اور میرے اہلبیتؑ دشمن کے ہاتھوں اسیر و قیدی بنیں گے لیکن اس راستہ پر چلنا ہے پڑے گا کیونکہ دین خدا کی مصلحت اسی میں ہے، جب امام حسینؑ نے عراق جانے کا عزم کیا تو اپنی وصیت ام سلمہ کے سپرد فرمایا اور انہوں نے بھی بعد میں امام سجادؑ کی تحویل میں دیا۔

ام سلمہ نے بھی رسولخداؐ کے مطابق فاطمہ زہراؑ کی سرپرستی اپنے ہی ذمہ لی تھی، ام المؤمنینؑ اس سلسلہ میں کہتی ہیں: "سب لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ میں جناب فاطمہؑ کو ادب کی تعلیم دیتی ہوں! حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ مجھے تعلیم دیے رہین ہیں" ام سلمہ نے کسی بھی حالت میں جناب فاطمہؑ کیلئے جان نثاری میں کوتاہی نہیں کیا، فدک کے بارے میں ام سلمہ نے جناب فاطمہ زہراؑ کے حق میں گواہی دی تو ابو بکر و عمر نے ان کے وظیفہ کی رقم منقطع کر دیا، ام سلمہ رسولخداؐ کی وفات کے بعد ہمیشہ اہلبیت رسولؐ کی حمایت و مدد کرنے پر ثابت قدم رہیں اور معاویہ ہاویہ کے ذریعہ امام علیؑ پر لعنت کرنے کی مخالفت کرتی رہیں، یہ محترم خاتون حدیث رسولخداؐ کی راویوں میں سے بھی ہیں۔

ابن اثیر نے اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں بیان کیا ہے: "پیغمبر اسلامؐ نے ایک مشت تربت سید الشہداءؑ ام سلمہ کو دیتے ہوئے فرمایا: "جس وقت بھی یہ خاک خون میں تبدیل ہو جائے، تو سمجھ لینا کہ میرا فرزند حسینؑ درجہ شہادت کو پہونچ گیا ہے"۔

اسی دلیل کی بنا پر ام سلمہ نے کوشش کی کہ امام حسینؑ کو عراق جانے سے باز رکھیں۔ عاشور کے دن جس وقت امام حسینؑ کی شہادت واقع ہوئی، تو وہ خاک خون میں تبدیل ہو گئی۔

ام سلمہ نے رسولخداؐ سے درخواست کیا: خداوند عالم سے ان کے (امام حسینؑ) قتل ہونے کو دور فرمائے۔ تو رسولخداؐ نے فرمایا: میں نے خداوند عالم سے درخواست کیا لیکن وحی نازل ہوئی کہ ان کیلئے بلند و بالا درجہ و مقام ہے کہ کوئی بھی اس درجہ تک نہ پہونچ سکے گا۔ وہ اپنے شیعوں کی شفاعت کریں گے اور امام مہدیؑ انہیں ہی کی اولاد میں سے ہوں گے۔ جو کوئی بھی حسینؑ کے دوستوں اور شیعوں میں سے ہوگا اس کیلئے خوشحالی ہے۔ خدا کی قسم اس کے شیعوں کو نجات و فلاح ملے گی۔

ایک روز ام سلمہ، نے رسولخداؐ کو خواب میں غمگین چہرہ و خاک آلودہ لباس کے ساتھ دیکھا، آنحضرت نے ان سے فرمایا: "ابھی ابھی میں سرزمین کربلا سے شہدا کو دفن کر کے آرہا ہوں، اچانک ام سلمہ خواب سے بیدار ہوئیں اور ان کے گریہ و شیون کی صدا پڑوسیوں کی سنائی دی عورتوں نے سبب دریافت کیا: انہوں نے اسی روز سے سید الشہداءؑ کیلئے عزاداری برپا کی۔ ام سلمہ نے اس روز کو یاد کر لیا وہ محرم الحرام کی 10 تاریخ تھی، بعد میں جب کربلا میں موجود اہلبیتؑ سے واقعہ کی تفصیلات پوچھی تو اسی روز کو شہادت امام حسینؑ کے مطابق پایا۔

ام سلمہ نے پیغمبر اکرمؐ اور جناب فاطمہؑ سے 287 احادیث نقل کیا ہے، انہوں نے یہ بھی پیغمبر اسلامؐ سے نقل کیا ہے: "میرے بعد 12 امام ہوں گے جو بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے مثل ہوں گے ان میں سے 9 ائمہ نسل امام حسینؑ سے ہوں گے، خداوند عالم نے میرا علم انہیں دیا، پس ان کے دشمنوں پر نفرین ہے۔"

عمر رضا کحالہ کہتے ہیں: (ام سلمہ) مہاجرہ، جلیل القدر، صاحب رائے، با کمال و عقلمند خاتون تھیں حبشہ و مدینہ کی طرف ہونے والی دونوں ہجرت میں شریک تھیں۔

شیخ محلاتی تحریر کرتے ہیں: تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ جناب ام سلمہ صاحب علم، با تقوا و فصاحت، اور بلاغت اہلبیتؑ رسالتؐ سے محبت کرنے والیوں میں "کَالنُّورِ عَلیٰ شَاھِقِ الطُّورِ" کے مانند ہیں۔

ام سلمہ نے اہلبیتؑ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے آخر کار شہر مدینہ میں یزید کے دور اقتدار میں 62ھ میں واقعہ کربلا کے بعد 84 سال کی عمر میں اس دار فانی کو الوداع کہا ار جنت البقیع نامی قبرستان میں مدفون ہوئیں۔

2۔ ام البنین، فاطمہ کلابیہ؛ زوجہ امیر المومنینؑ: ام البنین فاطمہ بنت حزام بن خالد بن ربیعہ جو "وحید بن کلاب" کے نام سے مشہور تھے، آپ کی مادر گرامی کا نام ام لیلی تھا۔ اس معظمہ کا نام فاطمہؐ نیز کنیت ام البنین ہے۔ یہ خاتون گرچہ کربلا میں موجود نہ تھیں لیکن آپ کی 4 اولاد رشید نے واقعہ عاشور میں امام حسینؑ کی نصرت و مدد کرتے ہوئے جان بحق نوش فرمایا۔ ان کے بطن سے سے حضرت علی ؑکے 4 فرزند، عباس (35 سال) عبد اللہ (25 سال) عثمان (23 سال) و جعفر (21 سال) كے تھے اور سب کے سب کربلا میں شہید ہوئے، آپ نے کربلا کے بعد اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں سے پردہ اٹھا کر دشمنوں کو ذليل و رسوا کرنے کيلئے عزاداری کا بے آواز اسلحہ استعمال کیا۔

حضرت ام البنین شعر گوئی کا ذوق بھی رکھتی تھیں، لہذا ہر روز عبد اللہ بن عباس علمدار کے ساتھ جنت البقیع میں جاتی تھیں اور اپنے 4 بیٹوں کو یاد کر کے اس طرح گریہ و زاری کیا کرتی تھیں کہ لوگ ان کے گرد جمع ہو جاتے تھے اور عزاداری كيا کرتے تھے اور ان کے نوحہ و مرثیہ کو سنتے تھے، یہاں تک کہ مروان بن حکم جو بنی ہاشم کی دشمنی میں مشہور تھا اس مقام پر حاضر ہوتا تھا اور گریہ بھی کرتا تھا اس غم زدہ خاتون کے مشہور و معروف مرثیوں میں سے دو کا ترجمہ اس طرح ہے:

"میرے دل کی رگوں کو پارہ پارہ کر دیا، اے میرے بیٹوں جو کچھ بھی نیلے آسمان کے نیچے ہے سب کچھ ابو عبد اللہ الحسینؑ پر فدا ہوا"۔

اسی طرح اپنے فرزند ابو الفضل العباسؑ کے بارے میں مرثیہ کہا:

"آہ مجھے خبر دی کہ میرے فرزند عباسؑ کے سر پر گرز آہنی مارا ہے اس حالت میں کہ بدن پر ہاتھ نہیں تھا، ہائے کیا مصیبت میرے سر پر آئی اور کیا مصیبت میرے بیٹے پر ڈھائی گئی، اگر میرے فرزند عباسؑ کے جسم پر ہاتھ ہوتا تو کس میں ہمت و جرات ہوتی کہ اس کے قریب آ سکے!؟

ام البنین فاضلہ و نامور خواتین میں سے تھیں کہ جنہیں اہلبیتؑ عصمت و طہارت کے حق کی معرفت حاصل تھی نیز وہ زہد، تقوا، فصاحت و بلاغت کی ملکہ تھیں۔

جس وقت واقعہ کربلا کی خبر بشیر بن جزلم کے ذریعہ مدینہ میں ام البنین تک پہونچی تو انہوں نے سوال کیا: امام حسینؑ کی کیا خبر ہے؟ بشیر نے جواب دیا: خدا آپ کو صبر دے، آپ کا فرزند عباسؑ قتل ہوا۔، ام البنین نے فرمایا: اس خبر کے کیا معنی ہے۔؟ امام حسینؑ کے سلسلہ میں مجھے بتا۔

بشیر نے ام البنین کو ان کے 4 بیٹوں کی خبر شہادت سنائی پھر بھی اس با ایمان معظمہ نے امام حسینؑ کے بارے میں ہی پوچھتی رہیں، بالآخر جب امام حسینؑ کی خبر سنی تو گریہ و زاری کیا اور فرمایا: میری تمام اولاد ابو عبد اللہ الحسینؑ پر قربان ہیں۔

ام البنین نے 70ھ میں اس دنیا سے دار بقاء کی طرف کوچ کیا اور انہیں شہر مدینہ کے مشہور قرستان جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔

ام البنیننؑ کا مرثیہ

یَا مَن رَأیَ العَبَّاسَ کَرَّ عَلیٰ جَمَاهِیرِ النَقَدِ

ديكھا ہے جس نے حملۂ عباس نامور

وَ وَرَاہُ مِن أَبنَاءِ حَیدَرَ کُلُّ لَیثٍ ذِی لَبَدٍ

تھے جس کے ساتھ اور بھی کرار کے پسر

أُنبِئتُ أَنَّ اِبنِي أُصِيبَ بِرَأسِهِ مَقطُوعَ يَدٍ

سنتی ہوں ہاتھ کٹنے پہ زکمی ہوا تھا سر

وَیلِی عَلیٰ شِبلِی أَمَالَ بِرَأسِهِ ضَربُ العَمَدِ

یا رب گرا تھا لال مرا کیسے خاک پر

لَو کَانَ سَیفُکَ فِی یَدَیکَ لَمَا دَنیٰ مِنهُ أَحَدُُ

ہوتی جو تیغ پاس نہ آتا کوئی نظر۔

ان کا ایک اور مرثیہ یہ ہے

لَا تَدعُوِنِّي وَيكِ أَمُّ البَنِينَ

ام البنین کہہ کے پکارے نہ اب کوئی

تُذَكِّرِينِي بِلُيُوثِ العَرِينِ

آتے ہیں یاد مجھ کو وہ شیران حیدری

كَانَت بَنُون لِيَ أُدعيٰ بِهِم

جب تک تھے میرے لال میں ام البنین تھی

وَ اليَومَ أَصبَحتُ وَ لَا مِن بَنِينَ

اجڑی ہے ایسی کوکھ کہ اب کچھ نہیں رہی

أَربَعَةُُ مِثلُ نُسُورِ الرُّبيٰ

وہ میرے چار شیر نیستان مرتضیی

قَد وَاصَلُوا المَوتَ بِقَطعِ الوَتِينِ

سر دے کے سو گئے جو سر خاک کربلا

تَنَازَعَ الخِرصَانُ أَشلَائَهُم

میداں میں جو بھی آ گیا ان سب کے رو برو

فَكُلُّهُم أَمسىٰ صَرِيعاً طَعِينَ

وہ جنگ کی زمیں پہ برسنے لگا لہو

يَا لَيتَ شِعرِي أَكُمَا أَخبَرُوا

اے کاش کوئی آ کے مجھے دینا یہ خبر

بِأَنَّ عَبَّاساً قَطِيعُ اليَمِينِ[1]

کیا واقعاً تھا دست بریدہ مرا پسر[2]

3۔ ام لقمان، زینب صغریٰ: بنت عقیل بن ابیطالبؑ، امام علیؑ کے بھائی جناب عقیل کی دختر زینب صغری ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جس وقت امام حسینؑ کی شہادت ہوئی تو زینب صغری کچھ خواتین کے ساتھ اس حالت میں نکلیں کہ گریہ و زاری کر رہی تھیں اور کہتی تھیں: پیغمبر اسلامؐ کو کیا جواب دو گے جب تم سے وہ پوچھیں گے کہ میرے اہلبیت عترت کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ آخری امت … یا تو انہیں اثیر و قیدی بنایا یا ظلم و ستم ڈھاتے ہوئے انہیں قتل کر دیا، کیا میری محبتوں کا صلہ یہی تھا کہ تمہیں میں نے نصیحت کی کہ میرے بعد میرے قرابتداروں سے برا سلوک نہ کرو۔

شیخ محلاتی رقم طراز ہیں: "ام لقمان جو عقیل بن ابیطالب کی دختر ہیں، یہ خاتون مدینہ میں ہی تھیں جیسے ہی شہادت سید الشہدا کی خبر سنی تو اپنی بہنوں "ام ہانی، اسماء، رملہ اور زینب" کے ہمراہ اپنے گھر سے باہر دوڑیں زار و قطار گریہ کر رہی تھیں اور بہت سے مرثیہ کے اشعار کہے اور دشمنوں کے ایسے اعمال کے ارتکاب پر سر زنش بھی کر رہیں تھیں۔

غیر ہاشمی خواتین[ترمیم]

1۔ بنی اسد کی کچھ خواتين: بنی اسد عرب کا ایک بڑا مشہور و معروف اور بہادر و شجاع قبیلہ ہے جو اسد بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار کی اولاد سے ہے، علماء، اصحاب و شعراء کا ایک گروہ حتی کہ پیغمبر اسلامؐ کی بعض ازواج بھی اسی قبیلہ سے تعلق رکھتی تھیں، اس قبیلہ نے کوفہ کی بنیاد رکھتے وقت مسجد کوفہ کے جنوبی حصہ ميں رہنے کيلئے انتخاب کیا، جنگ جمل میں امام علیؑ کے شانہ بشانہ جنگ کی۔

61ھ میں تحریک امام حسینؑ کے وقت بنی اسد 3 گروہ میں تقسیم ہوگئے: پہلا گروہ: ناصران آنحضرت، دوسرا گروہ: مخالفین آنحضرت اور تیسرا گروہ: غیر جانبدار تھا۔

پہلا گروہ ناصرین آنحضرتؑ: قبیلہ بنی اسد کے سرداروں میں سے جو کربلا میں شہید ہوئے ان میں حبیب بن مظاہر اسدیؑ، انس بن الحرث، کاہل بن اسدی، مسلم بن عوسجہ اسدیؑ، عمرو بن خالد صیداوی اسدیؑ قیس بن مسہر صیداوی اسدیؑ کے نام پائے جاتے ہیں۔

دوسرا گروہ مخالفین آنحضرتؑ: مخالف گروہ کا سردار حرملہ بن کاہل اسدی ہے جس نے روز عاشور امام حسین ؑششماہہ فرزند علی اصغر ؑ کا قتل کیا اسی قبیلہ سے سپاہ یزید میں ازرق بن حرث صیداوی بھی شامل تھا۔

تیسرا گروہ غیر جانبدار: جو نہر علقمہ کے کنارے نیز کربلا کے شمال مشرقی سر زمین کے علاقہ غاضریہ نامی بستی میں سکونت پزیر ہوئے اور روز عاشور غیر جانبدار رہنا پسند کیا، اس گروہ کو خود سید الشہداءؑ و حبیب بن مظاہر اسدیؑ نے مدد کے لئے بلایا لیکن آخری لمحات تک اس قبیلہ کی اکثریت نے ازرق بن حرث صیداوی کے 4000 سپاہیوں کے ڈرانے کی وجہ سے غیر جانبداری کو ہی اختیار کئے رکھا۔

سید الشہداء کے عظیم و با وفا اصحاب کی شہادت کے بعد بنی اسد کے غیر جانبدار گروہ کی خواتین کا گزر میدان جنگ کی طرف سے ہوا تو امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کی نعشوں کے زیر آفتاب جلتی ہوئی سر زمین پر مشاہدہ سے شدت کے ساتھ متأثر ہوئیں اور سرزمین غاضریہ پر غیر جانبدار گروہ کی محل سکونت کی طرف بھاگتے ہوئے گئیں، اپنے مردوں سے شہداء کی لاشوں کو دفن کرنے کیلئے کہا، لیکن اس قبیلہ کے مرد ابن زیاد کے خوف سے لاشوں کو دفن کرنے کیلئے حاضر نہیں ہوئے کہ عملی اقدام کریں، لہذا بنی اسد کی خواتین نے بیلچے پھاؤڑے اور کدال اٹھایا اور کربلا کی سمت روانہ ہوئیں کچھ لمحوں کے بعد قبیلہ کے مردوں کا ضمیر بیدار ہوا تو اپنے قبیلہ کی خواتین کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے اور شہداء کے پیکر مطہر کو امام سجاد ہی کی راہنمائی میں دفن کرنے لگے۔

واقعہ کربلا کے بعد یہی سب سے پہلی تحریک شمار کی جاتی ہے جو ابن زیاد اور بنی امیہ کے خلاف اٹھی، بنی اسد کی اسی قربانی نے انہیں دنیا کے شیعوں کے درمیان میں شہرت کے بام عروج پر پہونچا دیا۔

2- عبد اللہ بن عفیف کی بیٹی نے بھی اپنے والد کی کوفہ میں شہادت کے بعد آواز بلند کی اور اپنے شوہر کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا۔

3- ہند، زوجہ یزید: ہند: عبد اللہ بن عامر بن کُرَیز کی دختر تھیں۔ ابو مخنف رقم طراز ہیں: "جب امام حسینؑ کا سر اقدس یزید کے سامنے تھا اور وہ اپنے ہاتھ کی چھڑی سے آنحضرت کے سر مبارک پر مارتا رہا تھا" تو رسولخداؑ کے ایک صحابی ابو برزہ اسلمی نے اعتراض کیا کہ تو ان دہن و دندان مبارک پر چھڑی مار رہا ہے جس کو میں نے بارہا رسولخداؐ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، شائد ایسا نہیں ہے کہ قیامت کے روز تیری شفاعت کرنے والا ابن زیاد اور حسینؑ کی شفاعت کرنے والے محمدؐ ہوں گے پھر اٹھے اور اس مجلس سے باہر نکلے۔

یزید کی زوجہ نے جب یہ کلمات سنے تو اپنا لباس لپیٹا اور اندر سے باہر آئیں اور یزید سے کہا: کیا یہ سر فاطمہؑ کے دلبند حسینؑ کا ہے؟ یزید نے کہا: ہاں، پھر اس کی زوجہ نے اپنا خواب بیان کیا جس میں اس نے دیکھا تھا کہ تمام پیغمبرانؐ، امام علیؑ، حضرت زہراؑ اور مشہور خواتین مریمؑ، حاجرہؑ، سارہؑ، خدیجہؑ موجود تھے اسی عالم میں تھیں کہ گویا عزادار ہوں، کو بیان کیا، پھر اس نے کہا رسولخداؐ نے گریہ و زاری کرتے ہوئے فرمایا: اے پدر بزرگوار آدمؑ! آپ نے نہیں دیکھا طاغیوں نے میرے فرزند کے ساتھ کیا کیا؟ جناب آدمؑ، حاضرین اور فرشتہ سب کے سب گریہ و زاری کرنے لگے اور میں نے بہت سے مردوں کو سر کے ارد گرد دیکھا، ان میں سے کوئی کہ رہا تھا: اس گھر کے مالک کو گرفتار کرو نیز آگ میں جلا دو اور اے یزید! تو اس گھر کے دروازہ سے باہر آیا اور تو کہتا تھا آتش (جہنم) سے بچنے کیلئے پناہگاہ کہاں ہے۔

بعض کتب میں اس واقعہ کی نسبت کو یزید کی کنیز کی طرف دیتے ہیں کہ اس بات چیت کے بعد یزید نے حکم دیا کہ اس کنیز کی گردن مار دی جائے۔

لیکن محلاتی اور دیگر مؤرخین نے اس واقعہ کو ہند زوجہ یزید سے منسوب کیا ہے مگر کنیز کی گردن مارنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔

4۔ ماریہ عبدیہ بصریہ: ماریہ بنت سعد عبدیہ بصریہ؛ دختر منقذ جو عبدیہ بصریہ کے نام سے مشہور ہیں اور بصرہ کی با اخلاص شیعہ خواتین میں سے تھیں، ان کا گھر محبین و شیعیان اہلبیتؑ نیز اصحاب امام حسینؑ کیلئے اجتماع و شیعوں کے مذاکرات و تحریک کے منظم ہونے کا مرکز تھا، جس وقت یہ خبر ابن زیاد کو پہنچی تو اس نے حکم دیا کہ انہیں روکیں اور راہوں کو بھی بند کر دیں۔

جب امام حسینؑ کا خط ان کے غلام سلیمان کے ذریعہ اس خاتون کو ملا تو سب سے پہلے جس نے اس کا مثبت جواب دیا وہ یزید بن ثُبَیط بصری ہی تھے جو ماریہ کے گھر میں امام حسینؑ کے پیغام سے آگاہ ہوئے، اس کے 10 فرزندوں میں سے صرف 2 ہی بیٹے عبد اللہ و عُبَید اللہ حاضر ہوئے اپنے والد کے ساتھ امامؑ کی فوج سے ملحق ہوئے یہ لوگ مکہ میں امام حسینؑ کی تحریک میں شامل ہوئے اور تینوں ہی کربلا میں شہید ہوئے۔ ماریہ کی جد و جہد کے باعث دوسرے افراد جیسے ادہم بن امیہ عبدی بھی یزید بن ثُبَیط کے ہمراہ بصرہ سے مکہ آئے اور امامؑ سے ملحق ہوئے۔

ماریہ کے شوہر اور فرزند جنگ جمل میں امام علیؑ کی راہ میں شہید ہوئے تھے، ماریہ جو ایک ثروتمند خاتون تھیں جس اپنی تمام دولت کو اہلبیتؑ عصمت و طہارت کے نورانی معارف کی نشر و اشاعت اور تحریک عاشورا کی ترویج کیلئے وقف کر دیا اور اس راہ میں کسی بھی سعی و کوشش سے دریغ بھی نہیں کیا۔

5۔ دُرَّۃُ الصَّدَف انصاریہ: درۃ الصدف؛ عبد اللہ بن عمر انصاری کی دختر تھیں کہ جنہوں نے امام حسینؑ کے سر مبارک کے دفاع کی راہ میں شہادت کا جام حق پیا، ان کے پدر بزرگوار اور یہ با ایمان خاتون دونوں ہی اہلبیتؑ کے شیعوں میں سے تھے نیز شہر حلب میں زندگی بسر کر رہے تھے، یہ خاتون اور ان کے والد غیر معمولی طور پر امیر الؤمنینؑ، امام حسنؑ نیز امام حسینؑ سے والہانہ و قلبی لگاؤ رکھتے تھے، عبد اللہ بن عمر نے جب سنا کہ امام حسینؑ کی شہادت ہوچکی اور آنحضرتؑ کا سر بریدہ یزید کے پاس شام لے جایا جا رہا ہے تو شدید حزن و ملال کے ساتھ گھر میں وارد ہوئے، ان کی دختر نے ان کی غمگین حالت کے بارے میں سوال کیا، تب عبد اللہ نے تمام ماجری اپنی بیٹی سے کہہ دیا اور یہ کہ ابھی ابھی اسی وقت سید الشداء کا سر مقدس حلب کے قریب پہونچا ہے، اس بہادر و بامعرفت خاتون نے کہا: "ہادی بر حق کی شہادت کے بعد زندگی میں کوئی خیر نہیں ہے، قسم بخدا اگر میں امام حسینؑ کے سر مبارک اور اسیران اہلبیتؑ کے کاروان کو نجات دے سکتی ہوں تو اسے اپنے ہی گھر میں دفن بھی کروں گی اور اس سے مشرف ہونے پہ میں اہل زمین پر افتخار کروں گی۔

پھر درۃ الصدف نے خروج کیا، حلب اور اس کے اطراف کے لوگوں سے مدد طلب کیا، ایک گروہ ان سے ملحق ہوا، مؤرخین نے لکھا ہے: جو خواتین ان کی مدد و نصرت کیلئے اٹھیں ان کی تعداد تقريبا 70 افراد سے متجاوز ہو گئي کہ جنہوں نے مردانہ جنگی لباس زیب تن کر کے طلوع آفتاب کے ساتھ، اسیران خاندان اہلبیتؑ کی پہلی جھلک نظر آتے ہی نیز بچوں کی گریہ و زاری اور خواتین اہلبیتؑ کے نوحہ و ماتم کی آواز سنتے ہی کمین گاہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں، چونکہ بنی امیہ کی فوج بہت زیادہ تھی لہذا ان لوگوں کو دیکھا تو مقابلہ کیلئے آمنے سامنے ہوئے۔

درۃ الصدف حلب کے بعض قبائل کی مدد و نصرت کے با وجود غیر منصفانہ جنگ کے درمیان میں شہادت پائی اور بقیہ لوگ نامامی کے سبب متفرق ہوگئے، کربلا میں بنی اسد کی خواتین کے خروج کے بعد، یہ دوسری مسلحانہ خواتین کی تحریک واقعہ کربلا کے بعد رونما ہوئی تھی۔

6- دومہ مادر مختار

7- عمرہ زوجہ مختار

دومہ، مادر جناب مختار ثقفی اور عمرہ، زوجہ مختار ثقفی، جو بیضاء کے نام سے معروف تھیں:

یہ دونوں خواتین اپنے زمانہ کی شجاع و باکمال خاتون تھیں، جنہوں نے مختار کو بنی امیہ کے خلاف مسلحانہ تحریک اور امام حسینؑ کے خون کا انتقام لینے پر تشویق دلایا نیز مختار کی حمایت کرتی رہیں، مختار کی شکست کے بعد مصعب بن زبیر کے ہاتھوں دونوں خواتین درجہ شہادت پر فائز ہوئیں۔

رسالت عاشورا[ترمیم]

پیغام عاشورہ کی اشاعت و ترویج میں خواتین کا اہم ترین بنیادی کردار رہا تھا، جرات کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک عاشورہ میں، پیغام عاشورا کو پہونچانے میں، اور شہیدانؑ کربلا کا خون پامال نہ ہونے میں آزاد منش خواتین نے اہم ترین و کلید ی کردار ادا کیا ہے۔

یہ کردار چاہے جنگ و جہاد میں براہ راست شرکت کے ذریعہ ہو جیسے زوجہ وہبؑ (عبد اللہ کلبی) کا جنگ و جہاد کرنا۔ چاہے عمل، گفتار و رفتار کے ذریعہ ہو جس کی واضح مثال حضرت زینبؑ اور جناب فضہؑ ہیں۔

خواتین نے اشک و آنسو کے وسیع اثرات کے پیش نظر آنسوؤں کا سیلاب بہا کر عزاداری کیا ہے جیسے ام البنینؑ اور زینب صغریٰؑ کا گریہ و زاری کرنا اور بعض اوقات زمانے کے ظلم و ستم کے مقابلہ میں اپنے نفرین انگیز کلمات کے ذریعہ سر تسلیم خم نہیں کیا جیسے حضرت زینبؑ کا کوفہ اور شام میں خطبہ دینا اور کبھی اہلبیتؑ کی حمایت کے ساتھ ہی یہان تک کہ اپنے شہر و اولاد کی نادانی و جہالت کے مقابلہ میں ڈٹ کر کھڑی ہو گئیں جیسے خولی کی دو شیعہ زوجہ عیوف انصاری و نوار جنہوں نے شوہر اور طوعہ کا اپنے بیٹے یا آقا جو بنی امیہ کی صف میں کھڑے ہو کر فرزند رسول اکرمؐ کے قتل کرنے میں شرکت پر ناراضی ظاہر کیا۔ یا عزم راسخ کے ساتھ ہی اپنے شوہروں کی سرزنش کیں جیسے بنی اسد کی چند خواتین۔

امام حسینؑ کے قاصدوں اور سفیروں کو پناہ دینے کے ذریعہ جیسے سفیر حسینی مسلم بن عقیلؑ کو طوعہ کا پناہ دینا، نیز رویحہ کا مہمان نوازی کرنا جبکہ بیٹا اور باپ ابن زیاد کے لشکر میں شامل تھے اور ماریہ عبدیہ بصریہ کے ذریعہ قاصد آنحضرت سلیمان کو اس پر آشوب ماحول اور ظلم و ستم کی آندھیوں میں خاص طور پر ابن زیاد کے مظالم سے مقابلہ کر کے پناہ دینا شامل ہے۔

آخر میں خواتین کی مسلح تحریک کیلئے اٹھ کھڑا ہونا جیسے درۃ الصدف انصاری کا ظالم کے ساتھ ان کے ظلم کے خلاف اسلحہ اٹھانا اور شمسیر بدست ہونا۔

خواتین حقیقت میں چاہے عاشور کا زمانہ ہو، چاہے اس کے بعد فولادی عزم و اعادہ کے ساتھ دین اسلام اور اپنے امامؑ کے دفاع کیلئے اٹھ کھڑی ہوئیں اور سب ہی کو صبر و استقامت، جہاد اور اپنے امامؑ کی اطاعت کی تعلیم ملی۔ انہوں نے بھی دینی اقدار کی حفاظت کرنے کے ضمن میں رہبریت اور خصوصی انتظام ق انصرام کے ساتھ ہی شہید امامؑ اور اقدار اسلامی کے حریم کا دفاع کیا۔ امام وقت کی محافظ بنی رہیں۔

خواتین امام حسینؑ کے بعد آنحضرت کی یادگار اطفال حسینی کی بھی محافظ رہیں مناسب تبلیغ کے طور طریقہ سے (جیسے خطابت، اشعار یعنی مرثیہ، نوحہ گریہ و زاری، مسلحانہ تحریک وغیرہ) یزیدیوں کے مظالم کو بیان کرنا، امام حسینؑ کے بعد امامت کا عرفان دنیا کو بتایا اور اسلام کے ختم ہونے اور بنی امیہ کے خود غرضانہ فضا میں اسلام کو محو ہونے سے بچا لیا، بنی امیہ کی حکمرانی کی بنیادوں کو بوسیدہ بنانے میں اہمترین کردار ادا کیا، بنی عباس کی حکومت کے ظہور پر جو علویوں کی حمایت کے نعرہ کے ساتھ حکومت اموی 231ھ میں اختتام پزیر ہوئی۔ گرچہ بنی عباس کی حکومت علویوں کے نام پر تشکیل پائی لیکن علوی شدید تنگی کی حالت میں پہونچ گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مفاتیح الجنان ص 799
  2. ام البنین کے یہ عربی کے اشعار جناب عباس علمدار اور ان کے تین بھائیوں کی شہادت کے مرثیہ کے طور پر منقول ہیں جس كا اردو زبان میں منظوم ترجمہ مرحوم کلیم الہ آبادی نے کیا ہے۔

مآخذ[ترمیم]

  • اعلام النساء و المؤمنات،
  • زنان عاشورایى، ص 49.
  • اللهوف، ص 105.
  • زنان عاشورا، سید احمد رضا حسینى،
  • الامالى، شیخ صدوق، تحقیق قسم الدراسات الاسلامیہ، مؤسسہ البحث، الطبعة الاولى، تهران،
  • بحار الانوار، مجلسى، محمد باقر، مؤسسہ الوفاء، بیروت، 1403 ق، 44/ 225 و 231 و 236 و 239؛
  • اثبات الهداة، عاملی، شیخ حر، دار الکتب الاسلامیہ، طهران، بى تا، 5/ 192؛
  • ریاحین الشریعہ، 3/ 298 – 297؛ 5/ 63 بہ نقل از زنان عاشورا، ص 189 – 190.
  • تراجم اعلام النساء، 2/ 71 – 70، بہ نقل از زنان عاشورا، ص 11.
  • تاریخ طبری، 7/ 3034 و 3035 بہ نقل از زنان عاشورا، ص 18.
  • مفاتیح الجنان (مرثيہ ام البنين) ص 799.