قیام نماز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قیام :یعنی کھڑے ہو کر نماز پڑھنا

  • فرض اور واجب نمازوں میں جب کہ کوئی عذر نہ ہو کھڑے ہو کر نماز پڑھنا فرض ہے اگر بیماری یا زخم یا دشمن کا خوف یا کوئی اور ایسا ہی قوی عذر ہو تو فرض و واجب نماز بیٹھ کر ادا کر سکتا ہے
  • سیدھا کھڑا ہونے کی کم سے کم حد یہ ہے کہ اگر اپنے دونوں ہاتھ لٹکائے تو گھٹنوں تک نہ پہنچیں پس اس قدر جھکنا معاف ہے اور اس وقت تک وہ قیام کی حالت میں ہے اور ایسے قیام سے اور اس حد کے اندر تکبیر تحریمہ کہنے سے فرض ادا ہو جائے گا لیکن اگر دونوں ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں تو اب قیام کی حد سے نکل گیا اور رکوع کی حد میں داخل ہو گیا اب تکبیر تحریمہ کہنے یا قرأت کرنے سے نماز جائز نہ ہو گی
  • فرض اور واجب نمازوں میں قیام کی ادنیٰ مقدار کی تفصیل یہ ہے کہ اس قدر کھڑا ہونا فرض ہے جس میں بقدرِ فرض قرأت پڑھی جا سکے اور پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ بھی کہی جا سکے اور بقدر قرأت واجب قیام کرنا واجب ہے اور بقدر قرأت مسنونہ قیام کرنا سنت ہے
  • سنتِ فجر کے علاوہ تمام سنت و نفل نمازوں میں قیام فرض نہیں ان کا بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے لیکن آدھا ثواب ملے گا اور اگر عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھے تو پورا ثواب ملے گا[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. زبد ۃ الفقہ،زوار حسین شاہ،زوارپبلیکیشنز کراچی