قیوم ثانی محمد معصوم سرہندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(قیوم ثانی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
قیوم ثانی عرۃ والوثقی حضرت محمد معصوم سرہندی قدس سرہ

قیومِ ثانی عرۃ و الوثقیٰ[ترمیم]

حضرت خواجہ محمد معصوم قُدِّس سِرُّہٗ

سرہند شریف،  10 شوا ل1007ھ9 ربیع الاول 1079ھ

1599ء 1669ء

مادہ ئتاریخِ رحلت؛[ترمیم]

رفتہ ئجہاں،امامِ معصوم/ 1079،عالم تاریک باشد/ 1079

جانشینِ مجدد الف ثانی قدس سرہ العزیز      خلفا ء؛[ترمیم]

لا تعداد

وِلادتِ با سعادت[ترمیم]

آپ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ کے خلیفہ اور فرزند ِسوم تھے۔ آپ کی وِلادتِ باسعادت 10 شوال المکرم 1007ھ کو ہوئی۔ حضرت مجدد قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ محمد معصوم کی آمد ہمارے حق میں بہت مبارک ہوئی کہ آپ کی وِلادتِ با سعادت کے چند ماہ بعد ہمیں خواجہ بزرگ حضرت باقی باللہ قدس سرہٗ کی صحبت نصیب ہوئی اور ہم فیضانِ طریقہ نقشبندیہ سے مشرف ہوئے۔

تحصیل علومِ ظاہر و باطن[ترمیم]

آپ نے اکثر علوم اپنے والد ِبزرگوار سے اور کچھ اپنے برادر ِبزرگ، خواجہ محمد صادِق اور شَیخ محمدطاہر بندگی لاہوری قدس سرہم سے حاصل کر کے کمال مرتبہ پر فائز ہوئے۔ حضرت مجدد قدس سرہٗ فرمایا کرتے تھے کہ تحصیل علوم سے جلدی فارِغ التحصیل ہو جاؤ! کیونکہ ہمیں تم سے بڑے بڑے کام لینا ہیں۔غرضیکہ آپ سولہ سال کی عمر میں علومِ ظاہری میں فارِغ التحصیل ہو گئے اور پھر باطنی علوم کی طرف متوجہ ہوئے اور عنایت ِاِلٰہی سے اپنے والد ِبزرگوار کے احوال و اسرار ِخاصہ سے حظ ِو افر حاصل کیا۔

فضائل[ترمیم]

آپ کے والد ِبزرگوار نے آپ کو خلعتِ قیومیت کی بشارت دی چنانچہ اپنے مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں؛ کل صبح نماز کے بعد خاموشی کی مجلس رکھتا تھا کہ ظاہر ہوا کہ وہ لباس،جو مَیں پہنے ہوئے تھا وہ مجھ سے الگ ہو گیا ہے اور ایک دوسرا لباس میری طرف متوجہ ہے جو کہ اس لباس کی جگہ بیٹھ گیا ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ اُترنے والا معلوم نہیں کسی کو دیں یا نہ دیں؟ اور آرزُو ہوئی کہ وہ لباس میرے فرزند محمد معصوم کو دے دیں۔ ایک لمحہ کے بعد دیکھا کہ وہ میرے لڑکے کو دے دیا گیا ہے، وہ پوری خلعت اس کو پہنا دی گئی ہے۔ یہ اُتاری جانے والی خلعت ”معاملہ قیومیت“سے کنایہ ہے۔

  1. بقول حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہٗیہ واقعہ ذی الحجہ 1032ھ کے پہلے عشرہ کا ہے۔ (1)
  2. آپ کو اصالت اور محبوبیت ِذاتی عطا  ئہوئی۔(2)
  3. آپ کا وجودِ مبارک حضور رسولِ اکرمﷺ کی خمیر”طنیت“ کے بقیہ سے بنا(3)
  4. آپ زُمرہئ سابقین میں داخل ہیں اور اسرارِ مقطعات بھی آپ کو نصیب ہے(4)
  5. حق تعالیٰ نے آپ کو ”عروۃ الوثقیٰ“ کا خطاب دیا۔ یہ 1035ھ کا واقعہ ہے۔ فرماتے ہیں مَیں نے سنہری خط سے عرشِ مجید کے گرد”محمد معصوم عروۃ الوثقیٰ“ لکھا ہوا دیکھا۔“(روضۃ القیومیہ)

زیارت ِحرمین شریفین[ترمیم]

  1. قیومیت کے چونتیسویں سال حرمینِ شریفین کی زِیارت سے مشرف ہوئے، اِس سلسلہ میں فرماتے ہیں؛طواف سے فارِغ ہونے پر فرشتہ نے محض اداے ارکان پر حج کی قبولیت اور اجر کا مہر شدہ کاغذ یہیں عطا کیا۔
  2. ایک دفعہ دیکھا،کعبہ بڑے اشتیاق سے ملتا ہے۔
  3. ایک روز ظاہر ہو ا کہ مجھ سے انوار و برکات اِ س کثرت سے نکلتے ہیں کہ انہوں نے تمام اشیا ئکو گھیر لیا ہے، جنگل و بیابان اُن سے پُرہو گئے۔ اِس حقیقت کے دریافت کرنے کے واسطے متوجہ ہوا تو معلوم ہوا کہ مجھ سے میری حقیقت دُور کر کے کعبہ کی حقیقت سے مجھے مشرف فرمایا گیا ہے۔
  4. فرمایا؛ ایک روز بعد نماز ِفجر حلقہ میں دیکھا کہ مجھ کو خلعتِ عالی عطا ہوا ہے۔ پھر معلوم ہوا، یہ”خلعتِ عبودیت“ہے۔
  5. ایک روز حلقہ ذکر میں مشغول تھے کہ اس مجلس میں مجھے قلم دوات عنایت ہوئی گویا مجھے منصب ِوزارت عطا ہوا ہے اور جنابِ پیغمبرﷺکی عنایت سے مجھے تمام مخلوقات پر وزیر اعظم چن لیا گیا ہے۔
  6. مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ پہنچے تو روضہ منو رہ پر حاضری کے وقت کمالات و عنایات ظاہر ہوئیں اور خلعتِ ارشاد عطا ہوا اور انوار و فیوضات حضرت شیخین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مالا مال ہوا۔
  7. فرمایا؛ جس وقت مدینہ منورہ سے رُخصت ہونے لگا، جدائی کے غم و الم کی وجہ سے بے اختیار ہو کر رونے لگا کہ اِسی اثنا  میں حضور نبی اکرمﷺ نے روضہ مطہرہ سے ظاہر ہو کر خلعت ِتاجِ سلاطین، بکمال علو و رفعت و عظمت، احقر کو پہنایا۔

حج کے یہ واقعات بہت طویل ہیں، جن کا احاطہ یہ مختصر کتاب نہیں کر سکتی۔

وفات[ترمیم]

صبح نماز ِفجر کے بعد مراقبہ معمولہ فرمایا اور نمازِاشراق پڑھنے کے بعد آپ پر سکراتِ موت شروع ہو گئے اور زبان سے جلدی جلدی کچھ پڑھ رہے ہیں، صاحبزادگان نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ آپ سورہ یٰسین شریف تلاوت فرمارہے ہیں۔ غرض شنبہ کے دن دوپہر کے وقت 9 ربیع الاول 1079ھ کو وِصال فرمایا۔

روضہ اور مسجد[ترمیم]

شاہ جہان کی صاحبزادی روشن آرأ نے آپ کے روضہ مقدسہ پر عالیشان روضہ تعمیر کرایا۔روضہ شریفہ پر سنہری کام کیا گیا تھا، جو آئینہ کی طرح چمکتا تھا اور طلوعِ آفتاب پر جگمگا اُٹھتا تھا دروازوں کے پردے مزار پوش اور شامیانے زربفت کے تھے۔ انقلاب ِزمانہ سے وہ سب نقش و نگار مٹ گئے۔

روضہ مقدسہ کے شمال کی جانب مسجد آپ کے صاحبزادے حضرت مروّج الشریعت خواجہ عبید اللہ قدس سرہٗ نے 1088ھ میں تعمیر کرائی تھی، جس کے گنبدوں پر پانچ ہزار اشرفی اور مسجد پر چالیس ہزار روپے خرچ ہوئے۔

اب روضہ مبارک میں آٹھ قبریں ہیں؛[ترمیم]

مرکز میں حضرت عروۃ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم قیومِ ثانی رضی اللہ عنہ[ترمیم]

آپ سے مشرق کی طرف حضرت مروج الشریعت خواجہ عبیدا للہ فرزند ِسوم رحمہ اللہ[ترمیم]

اِس سے مشرق حضرت ابو العلی فرزند ِاکبر حضرت قیومِ ثالث محمد نقشبند ثانی قدس سرہٗ[ترمیم]

حضرت عروۃ الوثقیٰ سے مغرب حضرت محمد اشرف فرزند ِچہارم حضرت عروۃ الوثقیٰ رضی اللہ عنہما[ترمیم]

خواجہ محمد اشرف سے مغرب خواجہ صبغۃ اللہ فرزند ِاکبر حضرت عروۃ الوثقیٰ رضی اللہ عنہما[ترمیم]

پائنتی کی طرف شیخ محمد ہادی فرزند حضرت مروج الشریعت خواجہ محمد عبیداللہ رضی اللہ عنہما[ترمیم]

حضرت محمد شیخ الاسلام فرزند حضرت محمد پارسا بن حضرت مروج الشریعت رضی اللہ عنہما[ترمیم]

حضرت نور معصوم فرزند ِاکبر میر نعمان حق رسا فرزند ِچہارم حضرت خواجہ محمد پارسا رضی اللہ عنہما[ترمیم]

حلیہ مبارک[ترمیم]

آپ کا بدنِ مبارک پُر گوشت، رنگ گندمی، ابرو کشادہ، ناک اونچی، آنکھیں بڑی بڑی، قد خاصا تھا۔ تمام اعضا نہایت متناسب اور خوش شکل تھے۔ آپ کا لباس نہایت لطیف ہوتا، عمامہ سر پر ہوتا،کبھی کبھی ہندی لباس بھی پہنتے۔

تصرُّفات[ترمیم]

قضا بدل دی[ترمیم]

ایک شخص اپنے بیٹے کو آپ کی خدمت میں لایا اور عرض گزار ہوا کہ میرا یہ بیٹا کسی عورت پر عاشق ہو گیا ہے۔ اس کو نہ دُنیا کی فکر ہے نہ دین کی۔ آپ نے اُس کو سمجھایا تو اُس  جواب دیا   ؎

در کوئے نیک نامی مارا گزر نہ دادند

گر تو نمی پسندی تبدیل کن قضا را

(صالحین کے دربار میں آمدورفت کے آداب سے تو مَیں واقف تک نہیں ہوں۔ اگر آپ کو میرا طور طریقہ پسند نہیں تو میری قضا بدل دیں)

یہ سن کر آپ نے اِس کی طرف دیکھا اور فرمایا؛ ہم نے تیری قضا تبدیل کر دی ہے۔چنانچہ فورا ًتائب ہوا اور عشق کا خیال جاتا رہا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے    ؎اولیا ئ را ہست قدرت از الِٰہ

تیر جستہ باز گردانند ز راہ

(اولیا  ئاللہ کو بارگاہِ اِلٰہی سے یہ قدرت عطا کی گئی ہے کہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو واپس موڑ دیتے ہیں)

تاثیر زبان[ترمیم]

حضرت کے داماد نے پوشیدہ طور پر کسی دوسری عورت سے تعلقات پیدا کر لئے۔ صاحبزادی نے اس کی شکایت کی۔ آپ کی زبان سے نکلا؛”مر جائے گا!“صاحبزادی نے عرض کیا؛ جیتا رہے گا۔ فرمایا؛ ”بس اب جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب دُعا کرو ایمان کے ساتھ مرے۔“ چنانچہ تین دن بعد اس کا انتقال ہو گیا۔

لعابِ دہن[ترمیم]

آپ کے ایک مخلص کا بیان ہے کہ ایک دفعہ میری آنکھ میں درد ہوا۔ ہرقسم کا علاج کیا لیکن فائدہ نہ ہوا۔ ایک شخص نے اپنی دوا کی بہت تعریف کی،ضرورت مند اندھا ہوتا ہے، مَیں نے فوراً وہ دوا اِستعمال کی جس سے رہی سہی بصارت بھی جاتی رہی۔

انہی دنوں حضرت صاحب حج سے واپس تشریف لائے۔ مَیں نے بھی حاضر خدمت ہو کر عرضِ حال کی۔ آپ نے بہت افسوس کیا اور اپنا لعاب دہن میری آنکھوں میں ڈال کر فرمایا کہ اِسی طرح گھر جا کر آنکھیں کھولناچنانچہ گھر پہنچ کر جب آنکھیں کھولیں تو بینائی بالکل صحیح ہو چکی تھی۔

مرید کی مدد[ترمیم]

ایک روز آپ مسجد میں تشریف لائے تو اچانک آپ کا دست ِمبارک اور آستین پانی سے تر ہو گئے۔ حاضرین سخت متعجب ہوئے اور سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا؛میرے ایک مرید سودا گر کا جہاز غرق ہونے لگا تھا،اس نے ہماری طرف متوجہ ہو کر مدد مانگی مَیں نے اپنے ہاتھ سے اس کو سمندر سے ساحل پر پہنچا دیا۔ ایک مدت بعد جب وہ سوداگر حاضر خدمت ہوا تو ایک کثیر رقم آپ کی خدمت میں بطور نذرانہ لایا اور جہاز کے غرق ہونے اور نجات پانے کا واقعہ بیان کر کے تصدیق کی۔

اشاعت ِطریقہ[ترمیم]

حضرت قیومِ ثانی خواجہ محمد معصوم قدس سرہٗیکم ربیع الاول 1034ھ کو مسند ِارشاد و قیومیت پر جلوہ افروز ہوئے، اس دن پچاس ہزار آدمیو ں نے آپ سے بیعت کی جن میں سے دو ہزار حضرت مجدد قدس سرہٗ کے خلفا ئ تھے۔ باقی خلفا ئ مختلف اوقات میں سرہند شریف میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے۔ ماورا ئالنہر خراسان و بدخشان وغیرہ ممالک کے حاکموں نے اپنے وکلا کی معرفت تحائف بھیج کر غائبانہ بیعت کی۔قیومیت کے تیسرے سال جب شاہجہاں تخت پر بیٹھا تو سر ہند شریف میں حاضر ہو کر دوبارہ تجدید ِبیعت سے مشرف ہوا اور ترویجِ اسلام میں بے حد کوشاں رہا۔

شہزادہ اورنگ زیب عالمگیراکثر ان کے حلقے میں حاضر ہوا کرتاتھا، بلا لحاظ پس و پیش جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتا۔ آپ کا رُعب و دبدبہ اس درجہ تھا کہ بادشاہ اپنی عرضی لکھ کر پیش کرتا۔قیومیت کے چودھویں سال شہزادہ محمد اورنگ زیب عالمگیر قدس سرہٗبیعت سے مشرف ہوئے۔ اگلے سال ان کی بہن روشن آرأپھر گوہر آرأ نے آپ سے بیعت کی پھر شاہانِ خراسان، ترکستان، دشت ِقبچاق، کا شغر، ایران غائبانہ مرید ہوئے۔ چھتیسویں سال جب آپ حج سے واپس ہوئے تو بندر گاہ سورت پر صبح شام قریباً تیس ہزار آدمی داخل سلسلہ ہوئے۔ چالیسویں سال آپ نے بعض کو خواجہ محمد نقشبند حجۃ اللہ قدس سرہٗکے سپرد کیا۔

کہتے ہیں خلفا ئاور فرزندوں کی وساطت کے بغیر براہِ راست نو لاکھ آدمی حضرت قیومِ ثانی  قدس سرہٗکے مرید ہوئے جبکہ آپ کے خلفا ئکی تعداد سات ہزار تھی۔

قدسیہ[ترمیم]

مکتوباتِ احمدیہ مجددیہ کی طرح حضرت قیوم ثانی،عروۃ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم  قدس سرہٗکے مکتوبات کی بھی تین جلدیں ہیں، جلد اوّل آپ کے فرزند ِسوم خواجہ محمد عبید اللہ قدس سرہٗ نے جمع کی۔ جلد دوم شرف الدین حسین حسینی ہروی قدس سرہٗنے حسب ِاِشارہ خواجہ سیف الدین  قدس سرہٗاور جلد سوم کو حاجی محمد عاشور بخاری حسینی قدس سرہٗنے حسب ِاشارہ حضرت خواجہ نقشبند قیومِ ثالث قدس سرہٗجمع کیا۔ اس میں سے چند ایک کلماتِ تبرکات درجِ ذیل ہیں؛

ہمارے طریقہ میں درجہئ کمال تک پہنچنے کا مدار شیخِ مقتدأکے ساتھ رابطہ محبت پرموقوف ہے، طالب ِصادِق اس محبت کے ذریعے (جو شیخ سے رکھتا ہے) اُس کے باطن سے فیوض و برکات حاصل کرتا ہے اورباطنی مناسبت سے ساعت بساعت اس کے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔ مشائخ نے فرمایا؛

”فنا ئ فی الشیخ فنا ئے حقیقی کا پیش خیمہ ہے۔“

اس طریقہ کے بزرگوں کا قول ہے؛ ”سایہئ رہبر بہ ازذکر ِحق“ سایہئ رہبر سے اشارہ طریقہ رابطہ کی طرف ہے، جس سے مراد شیخ کی صورت کا نگاہ میں رکھنا ہے۔زاں روئے کہ چشمِ تست احول

معبودِ تو پیر تست اول

(وہ چہرہ، تیری آنکھ جس کا  احاطہ کر سکتی ہے، اسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

فرمایا؛اِس دارِ فانی میں سب سے بڑا مطلب حق جل و علا کی معرفت حاصل کرنا ہے اور معرفت دو قسم کی ہے۔ اوّل علما ئکی معرفت،دوم صوفیا ئکی معرفت۔ قسمِ اوّل نظر و استدلال سے وابستہ ہے اور قسمِ دوم کشف و شہود سے۔قسم اوّل دائرہ علم میں داخل ہے اورقسمِ دوم دائرہ حال میں داخل ہے۔ قسمِ اوّل عارِف کے وجود کو فانی کرنے والی نہیں اور قسم دوم سالک کے وجود کو فانی کرنے والی ہے کیونکہ اس طریق میں معرفت سے مراد معروف میں فنا  ئہے۔

فرمایا؛کامل طور پر اعمال کی قبولیت کمالِ ایمان کے اندازہ کے موافق ہے اور اعمال کی نورانیت کمالِ اخلاص سے ہے۔ ایمان و اخلاص جس قدر زیادہ ہوں گے، اعمال کی نورانیت و قبولیت اور کمال زیادہ ہوں گے۔

فرمایا؛اے بھائی، ناجنس اور مخالف ِطریقہ کی صحبت سے پرہیز کر اور بدعتی کی مجلس سے بھاگ!مبادا کہ تیرے دِل میں اِس کی طرف میلان پیدا ہو جائے اور وہ تیرے کارخانہ میں خلل ڈال دے کیونکہ وہ مقتدأبننے کے لائق نہیں ہے۔

اس وقت اکثر خام صوفی ملحد اور کافروں کے ساتھ دوستی رکھنے سے نہیں ڈرتے۔اور کہتے ہیں کہ فقیری کا راستہ کسی ساتھ بگاڑ پیدا کرنا نہیں۔ سبحان اللہ! حضور سرورِ انبیا،رئیس الفقرأﷺ جن کا قول ہے؛ ”الفقر فخری“ ان کو حکم ہوتا ہے۔ اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر!“ یہ عجب فقرأ ہیں کہ جناب رسالتمآبﷺ اور عظیم نبی اورپیشوا کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

فرمایا؛ موجودِ حقیقی ایک ہے،جو بزرگ و پاک ہے اور ماسوا جسے عالم کہتے ہیں معدُوم ہے۔ وجود نما یعنی افرادِ عالم کے حقائق اعدام ہیں، وہ اعدام اپنے آئینوں میں کمالاتِ وجودی کے انعکاس کے سبب سے ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ وجود ہیں،حقیقت میں وجود نہیں ہیں۔[1]

شادی[ترمیم]

آپ جب بالغ ہوئے تو مجدد پاک نے استخارہ کیا اور سید میر صفر احمد رومی کی صاحبزادی بی بی رقیہ کے ساتھ نکاح فرما دیا 6 صاحبزادے اور 5 صاحبزادیاں انہی کے بطن سے ہوئیں[2]

اولاد[ترمیم]

آپ کے 6 صاحبزادے اور5 صاحبزادیاں تھیں۔

  1. شیخ صبغۃ اللہ سرہندی
  2. شیخ محمد نقشبند سرہندی
  3. خواجہعبیداللہ مروج الشریعت
  4. شیخ محمد اشرف سرہندی
  5. خواجہسیف الدین فاروقی
  6. شیخ محمد صدیق سرہندی

دختران عفت مآب میں

  1. امتہ اللہ ،
  2. عائشہ ،
  3. عارفہ ،
  4. عاقلہ،
  5. صفیہ شامل ہیں

۔[3][4][5][6]

مشہور خلفاء[ترمیم]

اللہ تعالیٰ نے آپ کے نفس گرم، توجہ مبارک اور صحبت میں ایسی برکت دی تھی کہ آپ کے حین حیات ہی آپ کے خلفاء پورے عرب، ماوراء النہر اور افغانستان سے سرہند تک اس طرح پھیل گئے کہ معلوم ہوتا تھا کہ دعوت و عزیمت کے مبارک منصب پر فائز ہو کر آپ جہاں بھر کو منور فرما رہے ہیں۔ شاہ احمد سعید مجددی نے لکھا ہے کہ آپ کے دستِ مبارک پر 9 لاکھ افراد نے بیعت کی اور آپ کے خلفاء تقریباً 7 ہزار تھے۔[7]

مولف مقامات معصومیہ نے جو آپ کے نواسے تھے، آپ کے بہت سے خلفاء کے نام ان کی وطنی نسبتوں سمیت تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض کی صحبت انہیں بھی میسر آئی۔ انہوں نے تیس خلفاء کے مفصل حالات بھی لکھے ہیں۔[8]

آپ کے مشہور ترین خلفاء درج ذیل ہیں۔

تصانیف[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. جواہر نقشبندیہ صفحہ نمبر 315. 
  2. اذکار معصومیہ نور الحسن تنویر صفحہ 13،مکتبہ انوار مدینہ سیالکوٹ
  3. ہدیہ احمدیہ، احمد مکی کانپور
  4. انساب الانجاب، محمدحسن جان، طبع ٹنڈو سائیں داد، سندھ
  5. مقامات خیر، مولانا زید ابو الحسن فاروقی طبع دہلی 1392ھ
  6. عمدۃ المقامات، محمد فضل اللہ مجددی، طبع ٹنڈو سائیں داد، سندھ 1355ھ
  7. مناقب احمدیہ و مقامات سعیدیہ، شاہ احمد سعید مجددی
  8. مقامات معصومی، خواجہ صفر احمد معصومی