كھوكھر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ً

انگریزمورخین نے پنجاب کاسٹس1881ئ، ہزارہ گزیٹئیر1884ءوگلوسری آف ٹرائبز1892کے مطابق قطب شاہ کے فرزند گوہرشاہ یاگورا،کلگان،کھوکھر،چوہان ومحمدشاہ وغیرہ تھے قطب شاہ جوغزنی سے سلطان محمودغزنوی کے ساتھ جہاد ہندمیں شامل ہوئے 1035ءکوہرات سے پشاور آئے اور 600سال سے بلاشرکت غیر ے میانوالی پر قابض ہیں۔ قطب شاہ کے فرزند گوہرشاہ یا گورارا جو سون سکیسر، کلان شاہ یا کلگان دھن کوٹ (کالاباغ ) آبادہوئے چوہان دریا ئے سندھ کے کنارے اورکھوکھر یا محمدشاہ چناب کے کنارے آبادہوئے۔ اب جو لوگ ان میں سے گولڑہ اور محمدشاہ کو قطب شاہ بغدادی کی اولاد بیان کرتے ہیں جو جہادنہیں بلکہ تبلغ کے لیے آئے تھے تومندرجہ بالا مستندروایت جو ان ہی کے بزرگوں نے بیان کی ہے کیسے غلط ہوسکتی ہے۔ قطب شاہ بغدادی کی اولاد میں عبد اللہ گولڑہ و محمدشاہ کاذکر سوائے باب الاعوان وزادالاعوا ن کے کسی اور قدیم مستندکتاب میں درج نہ ہے لہذا عبد اللہ گولڑہ اور محمدشاہ کندلان بھی قطب شاہ غزنی کی اولاد ہیں۔

سلطان محمودغزنوی کے عہدمیں سالارساہو،میرقطب شاہ اور سیف الدین سالار(تین بھائی)کے علاوہ سالارساہوکے صاحبزادے سالارمسعودغازی نے پاک وس ہند میں کئی جہادی جنگیں لڑی ہیں جو مراءة مسعودی سے ثابت ہے۔ حضرت قطب شاہ کا سلسلہ نسب وہاں اس طرح درج ہے حضرت قطب شاہ بن عطا اللہ شاہ غازی بن شاہ طاہر غازی بن شاہ عمر غازی بن شاہ بطل غازی بن شاہ عبد المنان غازی بن محمدبن حنفیہ بن حضرت علی۔ بعض شاہ عبد المنان عون سکندرغازی بن علی بن محمد بن حنفیہ بن علی لکھتے ہیں

کھوکھر جٹوں، راجپوتوں کے درمیان پایا جانے والا قبیلہ، جنگجو قوموں Martial Race میں سے ایک ہے۔ ـ متنوع راجپوت اور جٹ رتبے والے قبیلے کے طور پرکھوکھروں کی سب سے زیادہ تعداد جہلم اور چناب کی وادیوں میں ہے ـ اور بالخصوص جھنگ اور شاہ پور اضلاع میں ـ لیکن چاہے کم تعداد میں ہی سہی وہ زیریں سندھ ستلج اور لاہور کے علاوہ جہلم سے لے کر ستلج تک پہاڑیوں کے دامن میں بھی ملے ہیں ــ لیکن کھوکھرسابقہ دور سے ہی خطے کے مالک بتائے جاتے ہیں اور ان کا ذکر آئین اکبری میں ملتا ہے ـ وہ جھنگ میں بھی کبھی جہلم کے مشرق کی طرف ایک وسیع و عریض خطے پر مقتدر تھے ـ

گجرات Mandi Bahauddin اور سیالکوٹ کے کھوکھروں میں ایک اہم روایت کے مطابق وہ بالاصل گڑھ کراناھ میں آباد ہوئے ،جس کی وہ شناخت نہیں کرسکتے،تاہم مسٹر سٹیڈمین کی رائے میں یہ ضلع جھنگ میں شاہ پور کے جنوب میں واقع کوہ کیرانا ہے ـ اور تیمور نے انہیں وہاں سے بے دخل کیا۔ جہلم اور چناب پر میدانوں کے کھوکھروں اک ارتکاز اور دامن کوہ کے کھوکھروں کا وسیع اختلاط اس نظریہ میں کچھ رنگ بھرتا ہے کہ وہ پہاڑوں سے نیچے کی طرف پھیلے نہ کہ جنوب سے اُوپر کی طرف۔ اکبر کے دور میں کھوکھروں کو ہوشیار پور کے دسوئیہ پرگنھ کا ایک اہم قبیلہ دکھایا گیا تھا ـ اور مسلمان تاریخ دان ہمیں بتاتے ہیں کہ تیمور کے حملے کے وقت کھوکھر لاہور پر قابض اور اپر باری دو آپ میں مقتدر تھے ــ کپور تلہ میں کھوکھروں کی چار شاخیں ہیں سجرائے، کالُو، بیر اور جیچ۔

شاہ پور اورجھنگ کے کھوکھروں کو متعدد شاخوں میں منقسم بتایا جاتا ہے ـ
جن میں بندیال،بھچر، گنجیال، بگھوڑ، گهنجیره، جھاوری, نسوآنہ , 

نتهوکا، ریحان اور ڈب ہیں۔ ان کے علاوہ، شیں مار،مجوکہ، ڈھولکہ, جالاپ اور راوال بھی کھوکھروں شاخوں میں سے ہیں۔ کھوکھروں کے ماخذ بھی پنجاب کے کسی بھی قبیلے جتنے ہی مبہم ہیں ـ پنجاب کے مشرق میں کھوکھر تسلیم شدہ راجپوت نسل نظر آتے ہیں ـ تاہم جالندھر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے قبیلے کے اندر ہی شیخوں اعوانوں اور دیگر ان جیسوں کے ساتھ بیاہ کرتے ہیں نہ کہ راجپوت پڑوسیوں کے ساتھ ـ لیکن مغرب میں کھوکھر غزنی کے قطب شاہ کے سب سے بڑے بیٹے محمد کی اولاد ہونے کا دعوی کرتے ہیں جو اعوانوں کا روایتی مورث اعلی ہے ،اورعموماَ اعوان بھی یہ دعوی تسلیم کرتے ہیں ـ صورت چاہے کچھ بھی ہو، سیالکوٹ کے کھوکھر تو دیگر قبیلوں کے ساتھ باہمی شادیاں کرتے ہیں، مگر اعوان نہیں ـ گجرات میں کچھ زرخیز زمینوں کے مالک کھوکھر بہرت یاکھوکھر سے تعلق ہونے کی بنا پر راجا کہلاتے ہیں ـتاہم وہ اعوانوں کے ساتھ قربت کے دعویدار ہیں اور ان کے اور بھٹیوں کے باہمی شادیاں کرتے ہیں ـ ہندوستان کی تاریخ میں کھوکھروں کا ذکر کافی جگہوں پر ملتا ہے ـ تیمور کے موّرخین کے مطابق کھوکھروں نے اس کی فوج کے خلاف مدافعت میں کافی اہم کردار ادا کیا ـ اکتوبر ١٣٩٨ء میں تیمور نے دریائے بیاس کے کنارے جال کے مقام پر شاہ پور کے سامنے پڑاؤ ڈالا ـ یہاں اسے پتہ چلا کہ کھوکھر قبیلے کے نصرت نے ایک جھیل کے کناروں پر قلعے میں مورچہ قائم کر رکھا تھا ـتیمور نے نصرت پر حملہ کیا اور اس کو شکست دے کر بہت سا مال اسباب اور مویشی لوٹ ليے ـ خود نصرت بھی قتل کر دیا گیا ،اس کے کچھ ساتھی بچ کر بیاس پار چلے گئے اس کے بعد ہمیں کھوکھروں کے کمانڈر،ملک شیخا یا شیخا کھوکھر کا ذکر ملتا ہے ـ جسے تیمور نے کُپلا یا ہر دوار کی وادی میں شکست دی اور قتل کیا تاہم ظفر نامہ اس بات سے اختلاف کرتا ہے ـاس میں علاؤ الدین کا تذکرہ شیخ کُکاری کے نائب کے طور پر کیا گیا ـ اس بعد ہم تیمور کی واپسی کے دوران جمیں میں آمد سنتے ہیں جموں کے نواح میں اس نے کافروں کے سات قلعوں پر قبضہ کیا جن کے لوگ ہندوستان کے سلطان کو جزیہ ادا کیا کرتے تھے لیکن کافی عرصہ سے یہ سلسلہ منقطع ہو چکا تھا ـ ان میں سے ایک قلعہ ملک شیخا کُرکر کا تھا، لیکن ظفر نامہ کے مطابق قلعے کا مالک ملک شیخ کوکر کا ایک رشتہ دار شیخا تھا ـ اس طرح معاملہ کچھ واضع ہو جاتا ہے ـ نصرت کھوکھر بیاس کے کنارے قتل ہوا جس کے بعد اس کے بھائی شیخا نے تیمور کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اس کے ساتھ ہی دہلی چلا گیا ـ کُپلا میں ماراجانے والا ملک شیخا سرے سے کھوکھر تھا ہی نہیں ،لیکن تیمور کی آپ بیتی میں ملک شیخا کو شیخا کھوکھر کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا گیا ہے غالباً ملک شیخا کا کوئی کھوکھر رشتہ دار تھا جس کا جموں کے قریب ایک چھوٹا سا قلعہ تھا ـ تیمور کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد شیخا صفحہ تاریخ سے غائب ہو جاتا ہے ،لیکن ١٤٢٠ء میں کوئی ٢٢ برس بعدجسرت ابن شیخا منظر پر ابھرتا ہے اس برس کشمیر کے بادشاہ نے سندھ پر چڑہائی کیتو جسرت نے حملہ کر کے اس کو شکست دی قید کیا اور سارا مال اسباب اپنے قبضے میں کیا اس کامیابی سے حوصلہ پاکر جسرت دہلی پر قبضے کے خواب دیکھنے لگا ـ تیمور جاتے وقت خضر خان کواپنا حاکم مقرر کر گیا ـ جسرت نے اس کی وفات کی خبر سنی تو بیاس اور ستلج پار کر کے مینا رہنماؤں کو شکست دی، لدھیانہ سے لے کر اُروبر تک کا علاقہ فتح کیا اور بہر جالندھر کی طرف بڑھا ـ جسرت نے حکمت سے زیرک خان کو قید کر کے واپس لدہیانے آیا اور بہر سرہند کا رخ کیا ـ سرہند کا قلعہ زیر نہ ہو سکا اور سلطان مبارک شاہ کی پیش قدمی نے اسے پسپاہو کر لدہیانے جانے پر مجبور کر دیا ـ مبارک شاہ کیافواج نے لدہیانہ تک اس کا تعاقب کیا مگر ستلج عبور نہ کر سکیں کیونکہ جسرت نے ساری کشتیوں پر قبضہ کر لیا تھا آخر کار جب افواج نے دریا عبور کر لیا جسرت نے پہاڑوں میں تیکەر کے مقام پر ٹھکانہ کیا ـ لیکن جمّون کے رائے بہیم نے مبارک شاہ کی فوجوں کی راہنمائی کی اور انہوں نے جسرت کے قلعے کو تباہ برباد کر ڈالا ـ البتہ جسرت کی طاقت میں

زیادہ کمی نہ آئی،کیونکہ جونہی مبارک شاہ واپس دہلی گیا جسرت نو راوی اور چناب پار کئیے اور ایک بڑی فوج کو ہمراہ لاہور پر حملہ کر دیا اس نے چھ ماہ تک لاہور کا محاصرہ کیا ـ شہر کی انتہائی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بندی کی گئی تھی اور بڑی بہادری اور خوبی کے ساتھ اس کا دفاع کیا گیا ـ جب لاہور کو تسخیر کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو جسرت نے محاصرہ اٹھادیا اور کلانور کی طرف چلا گیا ـ اس جگہ سے اس نے جمّوں پر حملہ کودیا گذشتہ معرکے میں اس کے راجہ نے بادشاہ کی فوجوں کی بسال تک راہنمائی کی تھی تاہم جسرت جب راجہ اور اس کی سلطنت پر کوئی تاثر قائم نہ کر سکا تو وہ اپنی فوج میں ازسر نو بھرتی کرنے کے لئیے دریائے بیاس کی جانب لوٹ آیا ـ 

دریں اثناء لاہور میں وزیر ملک سکندر کی سرکردگی میں تازہ فوج کی کمک آ پہنچی اس نے حاکم دیپال پور ملک رجب اور حاکم سرہند اسلام خان کے ساتھ الحاق کر لیا تھا ،لہذا یہ آپنی آپنی فوج کی قیادت کر رہے تھے متحدہ فوج نو جسرت کے خلاف پیش قدمی کی اور اسے بہت زیادہ نقصان کے ساتھ پیچھے چناب پار دہکیل گرآپنی پہاڑی پناہ گاہ کی طرف جانے پر مجبور کر دیا ـ ہوشیار وزیر نے اب بے راہنما کھوکھروں کا تعاقب کیا اور دریائے راوی کے کنارے کنارے کلانور پہنچ گیا ـ وہاں جموں کے راجہ سے مل کر اس نے بے شمار کھوکھروں کو ڈہونڈ نکالا جو مختلف مقامات پر چہپ گئیے تھے ان سب کو تہ تیغ کر دیا ان کاروائیوں کے بعد وزیر واپس لاہور آگیا ـ بادشاہ ،وزیر ملک سکندر کی بہادری اور دلیری سے بہت خوش ہوا اس نے اسے لاہور کا صوبیدار مقرر کیا اور محمودوحسن کو واپس دہلی بلابہیجا ـ شاہی فوجوں کو روانہ ہوئے ابہی زیادہ عرصی نہیں ہوا تھا کہ جسرت کھوکھر دوبارہ میدان میں نمودار ہوا ـ اس نے ١٢ ہزار کھوکھروں کی فوج جمع کرکے جموں کے راجا رائے بہیم کو شکست دے کر ہلاک کر دیا اور لاہور اور دیپال پور کے صوبوں کو تہ بالا کر دیا ـ حاکم لاہور ملک سکندر ،لاہور سے اس کے مقابلے کے لئیے روانہ ہوا لیکن اس کی آمد پر جسرت آپنے لوٹ مار کے سامان کے ساتھ دوبارہ پہاڑوں میں پناہ گزیں ہوا ـ دریں اثناء حاکم ملتان ملک ابدالرحیم علاء الملک کے انتقال کے باعث،ملک محمودحسن کو ایک فوج کے ہمراہ ملتان روانہ کیا گیا ـ غالباَ اسی دور میں حاکم کابل شاہ رخ مرزا کی ملازمتمیں ایک مغل سردار امیر شیخ علی نے جسرت کے اکسانے پر بہکر اور ٹہٹہہ پر حملہ کر دیا ـ ستمبر١٤٢٧ء میں جسرت کھوکھر نے کلانور کا محاصرہ کر لیا اور ملک سکندر کو شکست دے کر لاہور کی طرف پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ـ بادشاہ نے حاکم سامانہ رزق خان اور حاکم سرہند اسلام خان کو سرکردگی میں کمک روانہ کی، لیکن پیشتر اس کے کہ وہ لاہور کی فوج کے ساتھ شامل ہوتے ،ملک سکندر نے جسرت کو شکست سے دوچار کرکے اسے لوٹ مار کے سامان سے محروم کر دیا جو اس نے غارت گری کے باعث علاقے سے جمع کیا تھا ـ ١٤٢٩ء میں حاکم کابلامیر شیخ علی نے شاہ رُخ مرزا کے توسط سے پنجاب پر حملہ کر دیا کھوکھروں نے اس کے ساتھ مل کر زیادہ غارت گری شروع کردی ـ لاہور پہنچنے پر اس نے حاکم لاہور ملک سکندر پر ایک سال کی آمدنی کے برابر خراج عائد کر دیا ـ اس کے بعد وہ دیپالپور روانہ ہو گیا اور وہاں پہچنے پر علاقے کو غارت کیا ـ فرشتہ کے مطابق اس موقع پر چالیس ہزار ہندؤوں کو قتل کر دیاگیا ـحاکم ملتان عمادالملک نے تلمبہ کے مقام پرشیخ علی پر اچانک حملہ کیا لیکن اسے ناکامی ہوئی ــ دریائے راوی کے ساتھ چلتے ہوئے مغل خیر آباد کی طرف بڑھے اور وہاں سے ملتان روانہ ہوئے ،جس پر ٢٩مئی ١٤٣٠ء کو حملہ کیا گیا ـ جب حملہ ناکام ثابت ہوا تو ملتان کا مکمل محاصرہ کر لیا گیاـ دریں اثناء دہلی سے مظفر خان گجراتی کے بیٹے فتح خان کی قیادت میں کمک آن پہنچی،لہذا امیر شیخ علی کی قیادت میں مغل فوجوں اور عمادالملک کے تحت دہلی اور پنجاب کی فوجوں میں زبردست خونریز جنگ لڑی گئی ـا ابتدا میں مغلوں کو کچھ کامیابی ہوئی ،لیکن فتح خان گجراتی کی موت نے ہندوستانیوں میں انتقام کی پیاس کو بڑھا دیا، لہذاوہ اس مستقل مزاجی اور مضبوط ارادے کے ساتھ لڑے کہ مغلوں کو شکست ہو گئی ـ فاتحین نے ان کا لگاتار تعاقب کیا اور ان کی ساری فوج کو یا تو تہ تیغ کر دیا گیا یا وہ دریائے جہلم کو عبور کرنے کی کوشش میں ڈوب گئی ـ امیر شیخ علی آپنے چند ساتہیں کے ہمراہ کابل کی طرف فرار ہو گیا ـ ١٤٣٢ء میں نصرت خان گرگندز کو لاہور کا صوبیدار مقرر کیا گیا ـ پنجاب پر اس سال اور اگلے سال کے دوران ملک جسرت کھوکھر اور امیر شیخ علی نے حملہ کیا تاہم شاہی فوجوں نے ان حملوں کو بڑی کامیابی کے ساتھ پسپا کر دیا ـ ١٤٣٦ء میں سلطان محمد شاہ نے شیخا کھوکھر کے خلاف ایک مہم بھیجی جس نے اس کے علاقوں میں لوٹ مار مچائیـ ١٤٤١ء میں سلطان نے بہلول خان کو دیپالپور اور لاہور کا حاکم مقررکر کے اسے جسرت کھوکھر کے خلاف بھیجا، مگر جسرت نے صلح کرلی اور اسے دہلی کے تخت کے خواب دکھائے اس کے بعد کھوکھر طاقت کونامعلوم وجوہ کی بنا پر زوال آگیا ـ

اکبر کے عہد میں باری دو آب میں لاہور کی سرکار کے ٥٢ میں سے ٥ محل چنہٹھ دوآب میں ٢١ پرگنوں میں سے سات کھوکھروں کے پاس تھے ـاس کے علاوہ ایک ایک محل بست جالندہر اور رچنا دو آپ میں بھی تھا ـ ملتان کی دیپالپور سرکار میں دس میں سے تین محل ان کے تھے ریورٹی نے اُس دور میں ان کی تعداد دو لاکھ نفوس بتائی ـ مندرجہ بالا تفصیلات کے باوجور کھوکھروں کی حثیت کے ماخذ سے پردہ نہیں اُٹھتا ــ

گورداسپور کے کاٹل راجپوتوں کے متعلق بیان کیا گیا کہ اوّلین اسلام قبول کرنے والوں میں سے کچھ کو کھوکھر کہاگیا، لیکن وہ کہتے ہیں ہمارے اجداد میں سے ایک ریاست جمّوں میں واقع منگلا دیوی کے قلعے میں آباد ہوا اور پھر خیر پور پر قابض ہو گیا، خیر پور کی نسبت سے اس کی اولادیں کھوکھر کہلوانے لگیں ـ انہوں نے غزنی کے محمد کے عہد میں اسلام قبول کیا ـ نیز کاٹل ان کے ساتھ اس ليے شادیاں نہیں کرتے کیونکہ کھوکھر محمد غزنی کی کاٹل بیویوں کی اولاد تھے ـ

کھوکھر یا كھوكر جاٹوں كى ایک گوت ہے جو كہ ہندوستان میں اترپردیش اور پنجاب میں پائے جاتے ہیں ـ جاٹوں كے علاوہ کھوکھر لوگ راجپوتوں میں بھى پائے جاتے ہیں ـ

گڑہ اور متہرا كے اضلاح میں کھوکھر جاٹوں كے تقریبا باون گاؤں ہیں ـ 

سكہـ دہرم كے گرو گروہرگوبند جى كے ساتھى بھائى روپ چند جى بھی کھوکھر تھے جن كے نام كا ایک گاؤں بتہنڈا ڈسٹرک میں واقع ہے ـ پاكستان میں کھوکھر لوگ دین اسلام كے پیرو كار مسلمان ہوتے ہیں ـ بیرونى حملہ آور محمد غورى كے ١١٩١ ء والے حملے میں کھوکھر لوگوں نے محمد غورى كو برى طرح مارا تھا ـ مگر 1192ء والى جمگ میں كھوكھر لوگوں نے حصہ نہیں لیا تھا اس لیے رائے پتہورا كو محمد غوری سے شكست ہوئى ـ