ایرنسٹ رتھرفورڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(لارڈ رودر فورڈ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ایرنسٹ رتھرفورڈ
(انگریزی میں: Ernest Rutherfordخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Ernest Rutherford LOC.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 30 اگست 1871[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
نیلسن، نیوزی لینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 اکتوبر 1937 (66 سال)[3][4][1][5][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کیمبرج[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن ویسٹمنسٹر ایبی[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
رہائش New Zealand, United Kingdom
شہریت Flag of New Zealand.svg نیوزی لینڈ
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن آرڈر آف میرٹ،رائل سوسائٹی،رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز،فرانسیسی اکادمی برائے سائنس،امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون،سائنس کی روسی اکادمی،سائنس کی پروشیائی اکیڈمی،امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مقام_تدریس McGill University
University of Manchester
مادر علمی جامعہ کیمبرج
ٹرینٹی کالج، کیمبرج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد فاضل الفنیات،ماسٹر آف آرٹس،بیچلر آف سائنس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
ڈاکٹری مشیر جے جے تھامسن[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈاکٹورل مشیر (P184) ویکی ڈیٹا پر
استاد Alexander Bickerton
جے جے تھامسن
ڈاکٹری طلبا Nazir Ahmed
Norman Alexander
اڈوارڈ وکٹر اپلیٹن
Robert William Boyle
رفیع محمد چوہدری
Alexander MacAulay
سی ایف پاول
Henry DeWolf Smyth
ارنسٹ والٹن
C. E. Wynn-Williams
Yulii Borisovich Khariton
قابل ذکر طلبا نیلز بوہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ کیمیادان،طبیعیات دان،پروفیسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل طبیعیات and کیمیاء
ملازمت جامعہ مانچسٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
فیراڈے لیکچر شپ پرائز (1936)
تمغا فیراڈے (1930)
تمغا البرٹ (1928)
فرینکلن میڈل (1924)
کاپلی میڈل (1922)
میٹوسی میڈل (1913)
Nobel prize medal.svg نوبل انعام برائے کیمیا  (1908)[9][10]
تمغا رمفورڈ (1904)
رائل سوسائٹی فیلو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
ایرنسٹ رتھرفورڈ

ایک مشہور کیمیادان (کیمسٹ) تھے جنہوں کیمیاء میں اہم کردار ادا کیا۔

لارڈ رودر فورڈ

مشہور انگریز ماہر طبعیات۔ نیوزی لینڈ میں پیدا ہوا۔ 1898ء سے 1907ء تک میک گل یونیورسٹی مونٹریال میں طبعیات کا پروفیسر رہا۔ 1907ء سے 1919ء تک مانچسٹر یونیورسٹی میں پروفیسر اور طبعیات کی لیبارٹری کا ڈائریکٹر رہا۔ 1919ء سے وفات تک کیمرج یونیورسٹی میں تجربی طبعیات کا پروفیسر رہا۔ 1908ء میں کیمیا کا نوبل پرائز ملا۔ تاب کاری کے میدان میں اپنے تجربوں کے باعث عالمگیر شہرت حاصل کی۔ سب سے پہلے اسی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ایٹم کے وسط میں ایک مرکزہ ہوتا جس کے گرد ذرات مختلف مدار میں گھومتے ہیں۔ مداروں کی کمی بیشی اور پیچیدگی کا انحصار اس ایٹم کے عنصر پر ہے۔ ایٹم کے اس نمونے کا سائنسی نام بھی ’’رودر فورڈ ایٹم ‘‘ پڑ گیا ہے۔ 1902ء میں تاب کارفرسودگی کا نظریہ بھی پیش کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذرات سے تابکار عناصر خارج کرنے سے تاب کار مادہ از خود ختم ہو جاتا ہے۔ 1904ء میں اس نے الفا ذرہ دریافت کیا جس کا دوسرا نام ہائیڈروجن ایٹم کا مرکزہ ہے۔ 1919 میں اس نے نائٹروجن کے ایٹموں پر الفا زرات کی بوچھاڑ کرکے دنیا پر یہ ظاہر کیا کہ ایٹم طبعی کائنات کا آخری جزو نہیں ہے۔ اس طرح اس نے طبعیات کا ایک نیا دروازہ کھولا۔ ایٹم کے مرکزے میں کام کرنے والے ایک مثبت ذرے ’’پروٹون‘‘ کا سراغ اس نے 1920ء میں لگایا۔ اس نے اپنے موضوعات پر بے شمار مضامین اور کئی کتابیں تصنیف کیں۔

سونے پر تجربہ[ترمیم]

مہدف مقالہ: ردرفورڈ ماڈل
ردرفورد کے تجربے کا ایک تصویرِ عام

یہ اس وقت کی بات ہے جب ایٹم کا نیوکلس دریافت نہیں ہوا تھا۔ ردرفورڈ صاحب نے سونے کا ایک انتہائی باریک تکڑا لیا جس کا سائز تقریباً 0.0004 سینٹی مٹر تھا۔ آپ نے نے اس کے اوپر 20000 الفا پارٹیکل کو نمٹایا۔ اس وقت آپ نے تین باتیں نوٹ کی۔

  1. زیادہ تر پارٹیکل ایٹموں سے گزرگئے
  2. تھوڑے سے پارٹیکل جب ایٹم کے بیچ (نیوکلس) سے ٹکرائے تو انہوں نے اپنا پوزیشن یا طرف تبدیل کر لیا۔
  3. دو چار پارٹیکل جب ایٹم کے بالکل درمیان (نیوکلس کے درمیان) ٹکرا گئے تو وہ جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آ گئے۔

ان تین نقطوں کے بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ جوہر (ایٹم) کے بیچ میں کوئی سخت جگہ ہے جس کو نیوکلس کا نام دیا گیا۔ اس تجربے کا ایک تصویر بائیں طرف دیکھایا گیا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Ernest Rutherford
  2. ^ 2.0 2.1 قبر ڈھونڈیں شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=1384 — بنام: Ernest Rutherford — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ 3.0 3.1 مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Резерфорд Эрнест — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb123759185 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6zk5g6r — بنام: Ernest Rutherford — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. http://www.westminster-abbey.org/our-history/famous-people?collection=wma-people&query=ernest+rutherford
  7. https://www.genealogy.math.ndsu.nodak.edu/id.php?id=50699 — اخذ شدہ بتاریخ: 8 اگست 2016
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb123759185 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  9. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/chemistry/laureates/1908/
  10. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/about/amounts/