لارڈ لٹن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لارڈ لٹن
(انگریزی میں: Robert Bulwer-Lytton, 1. Earl of Lytton ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
2nd Baron Lytton.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 8 نومبر 1831[1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 نومبر 1891 (60 سال)[1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیرس  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن ہارٹفورڈشائر  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
Flag of the Governor-General of India (1885–1947).svg گورنر جنرل ہند   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
12 اپریل 1876  – 8 جون 1880 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
لارڈ رپن  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان[6]، سفارت کار، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Galó de l'Orde del Bany (UK).svg جی سی بی  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رابرٹ بلور لٹن، فرسٹ ارل آف لٹن المعروف لارڈ لٹن (انگریزی: Robert Bulwer-Lytton, 1st Earl of Lytton) (پیدائش: 8 نومبر 1831ء - وفات: 24 نومبر 1891ء) برطانوی سیاست دان، سفارت کار اور شاعر تھے۔انہوں نے 12 اپریل 1876ء سے 8 جون 1880ء تک ہندوستان کے وائسرائے اور گورنر جنرل کی خدمات انجام دیں۔ انہیں کے دور ملکہ وکٹوریہ نے قیصرہ ہند کا لقب اختیار کیا۔ وہ مشہور انگریز شاعر اور ناول نگار بلور لٹن کے بیٹے تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

رابرٹ بلور لٹن 8 نومبر 1831ء کو لندن، انگلستان میں پیدا ہوئے۔ 1850ء سے 1875ء تک وہ مختلف سفارتی عہدوں پر معمور رہے اور اس کے بعد وزیر اعظم برطانیہ بینجمن ڈزرائیلی نے انہیں ہندوستان کا وائسرائے مقرر کیا۔ یہ جنگ آزادی 1857ء کے بعد کا پُر آشوب دور تھا جب برطانوی حکومت ہندوستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے، اپنے حلیف اور دوست پیدا کرنے میں مصروف تھی۔ ان میں پہلا قدم دیسی راجواڑوں کی طرف تھا جنہیں پہلے اس کا یقین دلایا گیا کہ ان کی سرحدیں محفوظ رہیں گی اور ہر قسم کے بیرونی حملوں سے ان کی حفاظت کی جائے گی اور اس کے عوض وہ ضرورت پڑنے پر انگریز حکومت کا ساتھ دیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں اندرونی معاملات میں کافی خود مختاری بھی دی گئی۔ دوسرے مختلف صوبوں خاص طور پر یونائیٹڈ پروونسز اور پنجاب وغیرہ میں زمینداروں اور جاگیرداروں کو بھی حفاظت کی ضمانت دی گئی اور اپنی رعایا پر انہیں پورا اختیار دیا گیا۔ اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کا کام لارڈ لٹن کو ہی تفویض ہوا۔ اپنے وائسرائے رہنے کے زمانے میں انہیں افغانوں سے بھی معرکہ آرا ہونا پڑا اور اس کے صلہ میں انہیں 1880ء میں ارل کا خطاب دیا گیا۔ 1887ء سے 1891ء تک وہ فرانس میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے پر تعینات رہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے مجموعے بھی شائع کیے اور اپنے باپ کی سوانح عمری بھی لکھی جو 1883ء میں شائع ہوئی۔ لارڈ لٹن 24 نومبر 1891ء کو پیرس، فرانس میں وفات پا گئے۔[7][8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Robert-Bulwer-Lytton-1st-earl-of-Lytton — بنام: Robert Bulwer-Lytton, 1st earl of Lytton — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6rf616h — بنام: Robert Bulwer-Lytton, 1st Earl of Lytton — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب دا پیرایج پرسن آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=4638&url_prefix=http://www.thepeerage.com/&id=p8531.htm#i85310 — بنام: Edward Robert Bulwer-Lytton, 1st Earl of Lytton — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: Darryl Roger Lundy
  4. ^ ا ب ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?222152 — بنام: Owen Meredith — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb147695372 — بنام: Owen Meredith — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. اجازت نامہ: CC0
  7. جامع اردو انسائکلوپیڈیا (جلد 2، تاریخ)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 2000ء، ص 333
  8. رابرٹ بلور لٹن، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن