لالچی کتا
”لالچی کتا“ یا ”کتا اور اس کا عکس“ ایسوپ کی مشہور کہانی ہے۔ یہ کہانی یونانی زبان میں لکھی گئی تھی جسے بعد میں لاطینی میں بیان کیا گیا اور اسی ذریعے سے یہ پورے یورپ میں پھیل گئی۔ اس کہانی کا سبق یہ ہے کہ انسان کو جو کچھ حاصل ہے اسی پر قناعت کرنی چاہیے اور محض ظاہری لالچ میں اصلی چیز کو نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ اس کہانی کے ہندوستانی نسخے بھی موجود ہیں۔ اس تمثیل کے آخر میں دیے گئے حاصل سبق نے انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانوں کو محاورے دیے اور یہ کہانی مختلف سماجی حالات پر بھی منطبق کی جاتی رہی ہے۔
کہانی
[ترمیم]لالچی کتے کی کہانیوں کے مختلف نسخے ملتے ہیں مگر جو کہانی بر صغیر میں مقبول عام ہے وہ حسب ذیل ہے۔
| ’لالچی کتا‘ حکایات ایسوپ میں سے ایک ہے |
|---|
| ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کتا بہت بھوکا تھا۔
اور کھانے کی تلاش میں اِدھر اُدھر مارا مارا پھر رہا تھا۔ اچانک اس کو ایک ہڈی ملی اس نے ہڈی کو منہ میں دبایا اور چل پڑا۔ وہ ایک نہر کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر نہر میں پڑی اور اس کو اپنا عکس دکھائی دیا۔ جب اس نے دیکھا کہ ایک کتا جس کے منہ میں بھی ایک ہڈی ہے اس کو دیکھ رہا ہے۔ تو اس نے سوچا کیوں نہ وہ اس کتے کی ہڈی بھی چھین لے۔ کیوں کے وہ کتا انتہائی مریل سا دکھائی دے رہا تھا۔ پھر اس نے سوچا کہ چلو رہنے دو ایک ہڈی تو ہے۔ لیکن اس کی یہ سوچ اس کے لالچ پر غالب نہ آ سکی اور اس کے دل میں یہی خواہش اٹھی کہ اگر ایک کی بجائے دو ہڈیاں مل جائیں تو مزہ رہے گا۔ یہ سوچ کر اس نے دوسرے کتے کو ڈرانے کے خاطر بھونکنے کے لیے منہ کھولا۔ اور صرف ایک بھوں کر کے رہ گیا۔ کیوں کے اس کے منہ میں دبی ہوئی ہڈی اس کے منہ سے پانی میں گر گئی اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتی ہوئی نکل گئی۔ اب اس کتے کو بڑا افسوس ہوا کہ لالچ میں آکر اس سے ایک ہڈی بھی گئی۔ پھر اس نے یہی سوچا کہ آئندہ وہ لالچ نہیں کرے گا۔ بلکہ جو ملے گا اسی پر قناعت کرلے گا۔ |