لال سنگھ دل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لال سنگھ دل
Photograph of Punjabi revolutionary poet Lal Singh Dil
1993ء میں سامرلا میں
پیدائشلال سنگھ
11 اپریل 1943(1943-04-11)
ضلع لدھیانہ، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند)، برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
وفات14 اگست 2007(2007-80-14) (عمر  64 سال)
لدھیانہ، پنجاب، بھارت
پیشہPoet, writer, political activist
زبانپنجابی
شہریتبھارتی
شریک حیاتغیر شادی شدہ

لال سنگھ دل (پنجابی زبان:ਲਾਲ ਸਿੰਘ ਦਿਲ) (اپریل 1943ء-14 اگست 2007ء) پنجاب، بھارت کے ایک انقلابی شاعر تھے۔ وہ پنجاب میں 20ویں میں صدی ابھرنے والے نیکسلائٹ تحریک کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ یہ ایک سیاسی تحریک تھی جو بہت جلد اپنی موت آپ مرگئی مگر پنجابی ادب اور بالخصوص پنجابی شاعری کو ایک انقلابی موضوع دے گئی۔

احوال حیات[ترمیم]

ولادت اور خاندان[ترمیم]

لال سنگھ کی ولادت 11 اپریل 1943ء کو برطانوی ہند کے مالوا پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاوں سامرالا میں گھونگرالی سیکھان (پنجابی:'ਜਨਮ ਸਥਾਨ: ਘੂੰਗਰਾਲੀ ਸਿੱਖਾਂ') کے چمار خاندان میں ہوئی۔[1] ان کی ولادت کے وقت ان کا خاندان کسی بھی طرح کے معاشی، سماجی اور تعلیمی سہولت سے محروم تھا۔ نہ ان کے پاس دولت تھی اور نہ ہی زمین۔ لہذا ان کے والد پوری زندگی مزدور کسان بن رہے اور ان کے خاندان نے سکھ مذہب اختیار کرلیا۔[2][مکمل حوالہ درکار]

تعلیم[ترمیم]

انہوں نے 1960ء-61ء میں حکومتی اسکول سے دسویں کی تعلیم حاصل کی اور وہ اپنی نسل میں دسویں کرنے والے پہلے شخص تھے۔ انہوں نے کالج میں داخلہ لیا اور ساتھ میں مزدوری بھی کرتے رہے۔[3] کھنہ، لدھیانہ میں انہوں نے اے ایس کالج میں داخلہ لیا لیکن ایک سال بعد تعلیم ترک کردی۔ 1964ء میں تدریسی تدریبی کے لئے ایس ایچ ایس کالج،بوہیلوپور میں داخلہ لیا لیکن کورس مکمل کرنے سے قبل میں کنارہ کش ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے مزدور کی حیثیت سے مستقل طور پر کام کرنے کا فیصلہ کرلیا اور ساتھ میں بچوں کو ٹیوشن بھی دیتے رہے۔[4][1]

ادبی سفر[ترمیم]

شاعری[ترمیم]

انہوں نے زمانہ اسکول سے ہی شاعری میں دلچسپی لینی شروع کردی اور ان کی شاعری پنجاب کے مشہور رسالہ لکیر،پریت لاری اور نغمانی میں شائع ہوئی۔ ان نے تین دیوان شائع ہوئے؛ 1971ء میں ستلج دی ہوا، 1982ء میں بہت ساتے سورج اور 1997ء میں ستھار۔ انہوں نے ایک طویل نظم بنام آج بلا پھر آئے گا لکھی جو 2009ء میں شائع ہوئی تھی۔

سوانح[ترمیم]

انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح داستان 1998ء میں لکھی۔

حالانکہ انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا مگر انہوں نے اپنا قدیم تخلص باقی رکھا اور اسی نام سے شاعری کرتے رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Dil 1998,see "About the Author" (ਲੇਖਕ ਬਾਰੇ) by publisher/editor pp.221-22
  2. Ghai,2 نومبر 2011
  3. Dutt 2012, Introduction p.xxxiv
  4. (Punjabi text:'ਵਿੱਦਿਆ: ਮੈਟਿ੍ਕ (1960–61) ਸਰਕਾਰੀ ਹਾਈ ਸਕੂਲ، ਇਕਸਾਲ ਏ۔ ਐਸ ਕਾਲਜ ਖੱਨਾ ਵਿਚ ਪੜਿਆ، ਦੋ ਸਾਲ ਸ۔ਹ۔ਸ ਬਹਿਲੋਲਪੁਰ `ਚ ਜੂਨੀਅਰ ਬੇਸਿਕ ਟ੍ਰੇਨਿੰਗ ਕਰਦਿਆਂ ਲਾਏ،ਇਕ ਸਾਲ ਗਿਆਨੀ ਦੀ ਤਿਆਰੀ ਕਰਦਿਆਂ ।…ਪੜਦਿਆਂ ਖੇਤ ਮਜ਼ਦੂਰੀ ਕੀਤੀ، ਰਾਜ ਮਿਸਤ੍ਰੀਆਂ ਨਾਲ ਦਿਹਾੜੀ ਕੀਤੀ…')