مندرجات کا رخ کریں

لال مسجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
لال مسجد
مرکزی جامع مسجد اسلام آباد
بنیادی معلومات
مقاماسلام آباد ، پاکستان
متناسقات33°42′46.3″N 73°05′13.1″E
مذہبی انتساباہل سنت (دیوبندی مکتب فکر)
ملکپاکستان
حیثیتفعال
سربراہیمولانا عبدالعزیز غازی
تعمیراتی تفصیلات
معمارکیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ابتدائی تعمیر)
بحریہ ٹاؤن (تزئین و آرائش)
نوعیتِ تعمیراسلامی فن تعمیر
طرز تعمیرعثمانی اور مغلیہ طرز تعمیر
بانیمولانا محمد عبداللہ غازی (پہلے امام)
سنگ بنیاد1964
سنہ تکمیل1966؛ 60 برس قبل (1966) (ابتدائی تعمیر)
2010؛ 16 برس قبل (2010) (تزئین و آرائش)
گنجائش15,000 نمازی
گنبد1
مینار2
موادسرخ سینڈ اسٹون اور سنگ مرمر

لال مسجد (انگریزی: Lal Masjid) جس کا افیشیل نام "مرکزی جامع مسجد اسلام آباد" (انگریزی: Markazi Jāmi Masjid Islamabad) ہے۔ پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں واقع ایک سنی دیوبندی جامع مسجد ہے۔ یہ مسجد 1966 میں تعمیر کی گئی تھی اور یہ شہر کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ 1986 میں فیصل مسجد کی تعمیر تک یہ بیس سال تک شہر کی سب سے بڑی مسجد تھی۔

ایک بہت ہی مرکزی مقام پر واقع ہے، یہ دو مصروف تجارتی مراکز - مشرق میں آبپارہ مارکیٹ اور شمال میں میلوڈی مارکیٹ کے قریب واقع ہے اور ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس سے تھوڑی ہی دوری پر ہے۔

جامعہ حفصہ مدرسہ مسجد سے ملحق ہے۔[1]

2007 میں یہ مسجد پاکستان کی حکومت کی طرف سے طلبہ اور قیادت کے خلاف فوجی آپریشن کی جگہ تھی۔[2]

مولانا عبدالعزیز مسجد کے امام اور خطیب ہیں۔[3]

وجہ شہرت

[ترمیم]

جب پاکستان کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا تو نئے دار الحکومت کے لیے ایک مرکزی مسجد کی ضرورت تھی۔[4] اسی وجہ سے اکتوبر 1964 میں صدر ایوب خان نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔[5]

سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق یہ مسجد مئی 1966 میں مکمل ہوئی اور اس کا ڈیزائن پاکستانی ماہر تعمیرات ظہیر الدین خواجہ نے بنایا تھا۔[6]

صدر ایوب خان نے کراچی کے محمد یوسف بنوری سے درخواست کی کہ وہ مسجد کے لیے ایک امام تجویز کریں اور ان کی سفارش پر مولانا محمد عبداللہ غازی کو جون 1966 میں مسجد کا پہلا امام اور خطیب مقرر کیا گیا۔[7]

تکمیل کے بعد مسجد کا نام "مرکزی جامع مسجد اسلام آباد" رکھا گیا اور ابتدا میں اس پر لال رنگ نہیں کیا گیا تھا، تاہم مسجد کی تعمیر میں جو چھوٹی اینٹ استعمال کی گئی تھی وہ ناقص نکلی اور بُھرنے لگی جس کا حل ٹھیکیدار نے یہ نکالا کہ سیمنٹ لگا کر لال رنگ کر دیا اور یوں یہ لال مسجد کے نام سے موسوم ہو گئی۔[8]

نئے دار الحکومت کے دورے کے دوران غیر ملکی اکثر اس مسجد کا دورہ کرتے تھے اور اسے پوسٹ کارڈز پر بھی عام طور پر نمایاں کیا جاتا تھا۔[9] وزیر اعظم بلخ شیر مزاری اور پاکستان کے صدور بشمول غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری اورغیر ملکی رہنما جیسے شاہ خالد اور صدر ضیاء الرحمن جیسی اہم شخصیات نے بھی مسجد کا دورہ کیا۔[10][11]

ریٹائرمنٹ کے بعد صدر ایوب خان بھی مسجد میں اکثر آتے رہے، کیونکہ وہ قریب ہی ایک حویلی میں رہتے تھے۔[12]

جنرل محمد ضیاء الحق کے مسجد کے سربراہ مولانا محمد عبد اللہ سے قریبی تعلقات تھے۔ ضیاء الحق کے حکم پر مسجد کی بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کی گئی، کیونکہ وہ یہاں اکثر نماز ادا کرتے تھے اور خاص طورپرہر ہفتے اس مسجد میں جمعہ کی نماز میں شرکت کرتے تھے۔۔[13]

تعمیر کا انداز

[ترمیم]

مسجد کا ڈیزائن ظہیر الدین خواجہ نے بنایا تھا۔[14]

مسجد کا بیرونی ڈیزائن عثمانی اور مغلیہ طرز تعمیر سے متاثر ہے جس میں جامع مسجد اور بادشاہی مسجد شامل ہیں، جب کہ اس کے مینار استنبول کی سلیمانی مسجد سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔

سیاسی تاریخ

[ترمیم]

1974 میں، مسجد تحریک تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اجتماعات اور جلوسوں کے مرکزی مرکز کے طور پر ابھری۔ تحریک کے قائدین، مفتی محمود اور علامہ یوسف بنوری، دونوں مولانا عبد اللہ کے اساتذہ تھے، اس تحریک نے بالآخر آئین پاکستان میں دوسری ترمیم میں اہم کردار ادا کیا۔[15]

1977 تک، مسجد "نظام مصطفی" کی تحریک کے لیے ایک اہم ریلینگ پوائنٹ بن چکی تھی، جو ذولفقار علی بھٹو کے خلاف سیاسی تحریک تھی۔[16]

1980 کی دہائی کے دوران، مسجد نے مجاہدین کے لیے بھرتی کے مرکز کے طور پر بھی کام کیا، جن میں سے اکثر نے سوویت-افغان جنگ (1979-1989) اور کشمیر کے تنازعے میں حصہ لیا۔[17]

مولانا محمد عبداللہ کے 1998 میں قتل ہونے کے بعد ان کے بیٹوں مولانا عبد العزیز اور مولانا عبد الرشید غازی نے مسجد کی ذمہ داری سنبھالی۔ [18]

2007 محاصرہ اور حملہ

[ترمیم]

2007 میں، مسجد کے امام مولانا عبدالعزیز اور ان کی بیوی أمّ حسان نے ایک قریبی لائبریری پر قبضہ کرتے ہوئے شرعی نظام کی مہم کے نفاذ کا آغاز کیا اور شہر میں چھاپے مارنے کا آغاز کیا تاکہ ان کے دعوے کے مطابق غیر اسلامی سرگرمیوں جیسے فلم فروش، حجام کی دکانیں اور ایک چینی مساج پارلر کو روکا جا سکے۔[19]

عزیز نے اپنے خلاف شروع کیے گئے آپریشن کی صورت میں حکومت کو حملوں کی وارننگ بھی دی۔ عبد العزیز نے جمعہ کی نماز کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "اگر حکومت ایک ماہ کی مقررہ مدت میں معاشرے سے ان تمام اخلاقی برائیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ (طلبہ) خود اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔"[20]

3 جولائی 2007 کو، حکومت کے ساتھ تنازع کا خاتمہ بندوق کی خونریز لڑائیوں میں ہوا جس میں کچھ اشاعتوں کا دعویٰ ہے کہ 1,000 سے زیادہ طلبہ ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے، 300 سے بھی کم۔[21] سرکاری رینجرز اور پولیس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو گھیرے میں لے کر ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا-[22]

4 جولائی 2007ء کو لال مسجد کے امام مولانا عبد العزیز برقع میں فرار ہوتے ہوئے پکڑے گئے۔[23] [24] 10 جولائی کوفوجی آپریشن کے دوران لال مسجد کے خطیب عبد الرشید غازی جاں بحق ہو گئے۔[25] 12 جولائی 2007ء کو بالاخر ذرائع ابلاغ کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا دورہ کروایا گیا۔[26][27][28] چھ دن سے زائد جاری رہنے والے اس آپریشن کا کوڈ نام آپریشن سن رائز اور آپریشن سائلنس تھا۔[29]

تزئین و آرائش

[ترمیم]

آپریشن کے دوران مسجد کو خاص طور پر اس کی بیرونی دیواروں اور میناروں کو گولیوں، دھماکا خیز مواد سے ساختی نقصان پہنچا تھا۔ حکومت نے آپریشن کے فوراً بعد کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو مسجد کی مرمت کا کام سونپا اور محاصرے کے تین ہفتے بعد اسے مرمت کرکے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔[30]

سی ڈی اے نے مسجد کا رنگ بھی تبدیل کیا، اسے خاکستری اور سفید پینٹ کیا اور اس کی محفوظ دیواروں کی اونچائی کم کی۔[31]

بحریہ ٹاؤن نے مسجد کی وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش کی، جس کے دوران بیرونی دیواروں کو سینڈ اسٹون، موزیک اور خطاطی سے مزین کیا گیا، تزئین و آرائش کا منصوبہ 2010 میں مکمل ہوا تھا۔[32]

دوبارہ ڈیزائن اور تزئین و آرائش کی نگرانی معمار نیئر علی دادا نے کی۔[33]


تصاویر

[ترمیم]


ویب سائٹس اور ویڈیو

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Profile: Islamabad's Red Mosque"۔ BBC News۔ 3 جولائی 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-01-05
  2. "Lal Masjid at 40". www.thenews.com.pk (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-02-22.
  3. "Lal Masjid: Why Maulana Abdul Aziz Remains Untouchable". The Friday Times (بزبان انگریزی). 20 Sep 2021. Retrieved 2024-10-20.
  4. Jonathan M. Bloom؛ Sheila Blair، مدیران (23 مارچ 2009)۔ The Grove Encyclopedia of Islamic Art & Architecture۔ USA: Oxford University Press۔ ص 309۔ ISBN:978-0195309911
  5. Jonathan M. Bloom؛ Sheila Blair، مدیران (23 مارچ 2009)۔ The Grove Encyclopedia of Islamic Art & Architecture۔ USA: Oxford University Press۔ ص 309۔ ISBN:978-0195309911
  6. "A legendary architect: Zaheer ud Deen Khawaja | ARCHI TIMES & A+I Magazines Pakistan" (بزبان امریکی انگریزی). 17 Nov 2023. Retrieved 2024-10-12.[مردہ ربط]
  7. "Lal Masjid at 40 | Special Report | thenews.com.pk". www.thenews.com.pk (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-02-22.
  8. "لال مسجد آپریشن، جس نے پورے ملک کو خون سے رنگ دیا"۔ Independent Urdu۔ 3 جولائی 2021۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-07-03
  9. "Book Review: Negotiating the Siege of the Lal Masjid". Newsline (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2024-09-09. Retrieved 2024-10-20.
  10. Adam Dolnik (2015)۔ Negotiating the Siege of the Lal Masjid۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس۔ ص 53
  11. Adam Dolnik (2015)۔ Negotiating the Siege of the Lal Masjid۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس۔ ص 53
  12. Saloni Kapur (2021)۔ Pakistan after Trump: Great Power Responsibility in a Multi-Polar World۔ Cambridge Scholars Publishing۔ ص 187
  13. مفتی منیب الرحمان نے غیر قانونی قبضے سے مطالق کہا کہ اس میں بھی حکومت کا قصور کیونکہ جب مسجد یا مدرسہ تعمیر تعمیر ہوتے ہیں تو حکومت خاموش رہتی ہے مگر جب اسے اہل مساجد کو دھمکا نا ہوتا ہے تو پھر نوٹسز بھیجے جاتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ایسی جگہ ہر جو عوام الناس کی مشترکہ ملکیت یو پر اہل محلہ باہمی اشتراق سے مسجد و مدرسہ قائم کر لیں تو اس تو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔بی بی سی اردو
  14. Mohammad Farooq (21 May 2018). "A legendary architect: Zaheer ud Deen Khawaja". Mohammad Farooq (بزبان انگریزی). Retrieved 2020-08-28.
  15. Mufti Khalid Mahmood (7 ستمبر 2019)۔ "7 ستمبر 1974ء 'یومِ تحفظ ختمِ نبوت'"۔ Jang Daily (Urdu newspaper)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-08-10
  16. Simran Saeed Janjua; Mishaal Malik; Simran Saeed Janjua and Mishaal Malik (12 Jul 2024). "Miscalculation or Inevitable? The Lal Masjid Siege and its Legacy". South Asia Times (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-07-12.
  17. "Profile: Islamabad's Red Mosque"۔ BBC News۔ 3 جولائی 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-01-05
  18. "لال مسجد آپریشن، جس نے پورے ملک کو خون سے رنگ دیا"۔ Independent Urdu۔ 3 جولائی 2021۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-07-03
  19. "At Pakistan's Red Mosque, a Return of Islamic Militancy"۔ TIME۔ 17 اپریل 2009۔ 2009-04-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-01-31
  20. Umer Farooq (7 اپریل 2007)۔ "Religious Cleric Threatens Suicide Attacks"۔ OhmyNews International۔ 2016-03-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-10-22
  21. Umer Farooq (7 اپریل 2007)۔ "Religious Cleric Threatens Suicide Attacks"۔ OhmyNews International۔ 2016-03-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-10-22
  22. روزنامہ ڈان، 6 جولائی 2007ء، آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ dawn.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) ایاز امیر کا تبصرہ، "A drama to beat all dramas"
  23. بی بی سی اردو
  24. بی بی سی 8 جولائی 2007ء
  25. "نوائے وقت"۔ 2007-07-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-07-10
  26. روزنامہ ڈان، 13 جولائی 2007ء، "Charred remains speak of fierce battles"
  27. بی بی سی، 12 جولائی 2007ء، "لال مسجد: سوالوں کے جواب ندار"
  28. انڈیپنڈنٹ، برطانیہ، 13 جولائی 2007ء، آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ news.independent.co.uk (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) " Pakistan quick to clean the blood from Red Mosque "
  29. ڈیلی ایکسپریس، لاہور، 7 جولائی 2007ء، عبد القادر حسن کا کالم، "ملا اور مجاہد"
  30. "Lal Masjid to reopen in time for Friday prayers"۔ Daily Times (Pakistan)۔ 24 جولائی 2007۔ 2007-09-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-10
  31. "Lal Masjid re-opened on Pak SC order"۔ im.rediff.com
  32. umer.nangiana (16 Jul 2010). "Lal Masjid is still red three years on". The Express Tribune (بزبان انگریزی). Retrieved 2010-09-15.
  33. Profile of architect Nayyar Ali Dada Retrieved 11 December 2019

بیرونی روابط

[ترمیم]

بلاگ و چوپال

[ترمیم]