مندرجات کا رخ کریں

لاہور 1947

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
لاہور 1947
ہدایت کارراج کمار سنتوشی
پروڈیوسرعامر خان
منظر نویسراج کمار سنتوشی
ماخوذ ازسانچہ:ماخوذ
ستارے
موسیقیاے آر رحمان
سنیماگرافیسنتوش سیوان
ایڈیٹراے سریکر پرساد
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کارریلائنس انٹرٹینمنٹ
ملکبھارت
زبانہندی

لاہور 1947 ایک آنے والی بھارتی ہندی زبان کی تاریخی ڈراما فلم ہے جس کی ہدایت کاری راجکمار سنتوشی نے کی ہے اور اسے عامر خان پروڈکشن کے بینر تلے عامر خان نے پروڈیوس کیا ہے[1]۔ 1947 میں تقسیم ہند کے پس منظر پر مبنی اس فلم میں سنی دیول پریتی زنٹا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس فلم کے ذریعے پریتی زنٹا سات سال کے وقفے کے بعد بڑی اسکرین پر واپسی کر رہی ہیں۔[2]اس کے علاوہ دیگر اداکاروں میں شبانہ اعظمی کرن دیول، علی فضل اور ابھیمنیو سنگھ شامل ہیں۔ [3][4]

سنیماٹوگرافی سنتوش سیون [5]نے سنبھالی ہے۔ فلم کی موسیقی اے آر رحمان نے ترتیب دی ہے اور بول جاوید اختر نے لکھے ہیں۔

کہانی

[ترمیم]

لاہور 1947 کی کہانی تقسیم ہند کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہے۔ یہ پروفیسر اصغر وجاہت کے مشہور ڈرامے جس لاہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں (یعنی "جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا") پر مبنی ہے۔فلم کی کہانی ایک مسلم خاندان کے گرد گھومتی ہے جو تقسیم ہند کے دوران لکھنؤ سے لاہور ہجرت کرتا ہے اور وہاں ایک حویلی میں آباد ہوتا ہے جو ایک ہندو خاندان کے چھوڑ جانے کے بعد انھیں الاٹ کی جاتی ہے لیکن کہانی اس وقت جذباتی موڑ اختیار کر لیتی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ حویلی میں ایک بوڑھی ہندو عورت پہلے سے موجود ہے، جو حویلی چھوڑنے سے انکار کر دیتی ہے۔[6]

کہانی کچھ یوں ہے کہ تقسیمِ ہند کے دنوں میں لکھنؤ کا ایک معزز خاندان سکندر مرزا (سنی دیول )، ان کی بیوی حمیدہ بیگم(پریٹی زنٹا )، بیٹا جاوید(کرن دیول ) اور بیٹی تنو — اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کر کے لاہور آتا ہے۔ لمبے سفر، تکلیف اور مہاجرت کے بعد آخرکار انھیں ایک بڑی سی حویلی الاٹ ہوتی ہے۔ یہ حویلی کسی زمانے میں رتن لال جوہری نامی ہندو رئیس کی تھی۔ جب وہ خوشی خوشی گھر میں داخل ہوتے ہیں تو جلد ہی پتا چلتا ہے کہ گھر خالی نہیں ہے۔ اوپر کی منزل میں ایک بوڑھی عورت رہتی ہے ، رتن لال کی ماں (شبانہ اعظمی ) جو فسادات کے دوران اپنی حویلی ہی میں چھپی رہی اور عزیزوں رشتہ داروں کے بہت سمجھانے بجھانے کے باوجود اس نے حویلی چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ اب بھی یقین رکھتی ہے کہ اس کا بیٹا رتن ایک دن ضرور واپس آئے گا، اس لیے وہ گھر چھوڑنے سے انکار کر دیتی ہے۔

اب سارا شہر ہندوؤں سے خالی ہو چکا ہے اور بڑھیا بدستور اپنی ضِد پر قائم ہے کہ اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔ ابتدا میں مرزا صاحب اور ان کی بیوی سخت ناراض ہوتے ہیں۔ وہ اسے کافر اور قابض سمجھتے ہیں، مگر وہ بڑھیا اپنی جگہ سے ہٹنے پر تیار نہیں ہوتی۔ وہ کہتی ہے،یہ میرا گھر ہے پتر، میں اتھوں نہیں نکلاں گی، جدوٕں تک میرا رتن واپس نہیں آ جاندا۔

وقت گزرتا ہے اور تنو (چھوٹی بچی) اور حمیدہ بیگم آہستہ آہستہ اس بڑھیا سے مانوس ہو جاتی ہیں۔ رتن کی ماں انھیں پیار سے کھانے کی ترکیبیں، سلائی کڑھائی اور لاہور کے محاورے سکھاتی ہے۔ وہ محلے کی عورتوں کے علاج کرتی ہے، غریبوں کی مدد کرتی ہے ، پورا محلہ اسے “مائی” کہہ کر بلانے لگتا ہے۔ مگر سب لوگ خوش نہیں۔ محلے کا پہلوان (ابھیمنیو سنگھ)اور اس کے ساتھی نفرت کے نظریے میں مبتلا ہیں۔ انھیں یہ گوارا نہیں کہ ایک ہندو عورت پاکستان کے شہر لاہور میں رہے۔ وہ مرزا صاحب کو ورغلاتے ہیں کہ بڑھیا کو نکال دو یا مار دو، ورنہ یہ حویلی تمھارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔

مرزا صاحب لمحے بھر کو ڈگمگا جاتے ہیں، مگر حمیدہ بیگم انھیں روک لیتی ہیں کہ ہم کسی کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟ وہ عورت بے ضرر ہے، اس نے ہمارا کیا بگاڑا ہے؟ اسی دوران مولوی اکرام الدین (عامرخان)اور شاعر ناصر کاظمی (علی فاضل )جیسے لوگ دکھاتے ہیں کہ اسلام انسانیت اور رحم کا مذہب ہے، نفرت کا نہیں۔

آہستہ آہستہ پوری کہانی نفرت سے محبت، تعصب سے انسانیت اور مذہب سے بلند ہمدردی کا سفر بن جاتی ہے۔ رتن کی ماں دیوالی مناتی ہے، تو مرزا خاندان بھی چراغاں میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔ تنو اس کے لیے پھول لاتی ہے، جاوید اس کی مدد کرتا ہے۔ اب وہ ان کے لیے دادی ماں بن چکی ہوتی ہے۔آخر ایک دن رتن کی ماں خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ سب سکتے میں آ جاتے ہیں۔ بحث شروع ہوتی ہے کہ“اب اس کی آخری رسومات کس طرح ہوں؟ مسلمان کی طرح یا ہندو کی طرح؟” تب مولوی اکرام الدین کہتے ہیں:“جس مذہب میں وہ پیدا ہوئی، اسی کے طریقے پر اس کی عزت کے ساتھ آخری رسومات ہونی چاہئیں۔” چنانچہ رتن کی ماں کی چتا جلائی جاتی ہے اور پورا محلہ خاموشی سے اس کے لیے دعا کرتا ہے۔ [7] [8][9]

اداکار

[ترمیم]

پروڈکشن اور تیاری

[ترمیم]

فلم کی تیاری میں ہندوستان کی تقسیم کے تاریخی دور کو درست طریقے سے پیش کرنے کے لیے وسیع تحقیق شامل تھی۔ 1940 کی دہائی کے دوران لاہور کی گلیوں اور ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کے لیے سیٹ کو باریکی سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس فلم میں سنی دیول اور عامر خان کے ساتھ راجکمار سنتوشی کا دوبارہ اشتراک ہے، جو پہلے کامیاب منصوبوں میں تعاون کر چکے ہیں۔ راج کمار سنتوشی اس سے قبل عامر خان کے ساتھ فلم انداز اپنا اپنا اور سنی دیول کے ساتھ فلم گھائل ، دامنی اور گھاتک بناچکے ہیں۔ یہ بھی پہلی بار ہوگا کہ سنی دیول اور عامر خان کسی فلم میں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ فلم سنی دیول اور پریتی زنٹا کو بھی ایک طویل عرصے بعد دوبارہ ایک ساتھ پردے پر لارہی ہے۔ دونوں نے ماضی میں دی ہیرو : لو اسٹوری آف اسپائی، فرض اور بھیا جی سپر ہٹ جیسی فلموں میں ساتھ کام کیا تھا۔

فلم کی شوٹنگ پرنسپل فوٹوگرافی فروری 2024 میں شروع ہوئی اور اکتوبر 2024 میں مکمل ہوئی۔ ابتدا میں اسے 26 جنوری 2025 کو ریلیز کرنے کا منصوبہ تھا[14]، تاہم پاک و ہند کشیدگی [15]اور پوسٹ پروڈکشن کے کاموں کے باعث ریلیز کی تاریخ جون 2025 تک بڑھا دی گئی۔ [16] سنی دیول نے 10 اکتوبر 2025 کو پنجاب میں فلم بندی دوبارہ شروع کی، جس میں نئے شامل کیے گئے مناظر پر توجہ مرکوز کی گئی۔ فلم کی تیاری میں عامر خان کی تجاویز کی بنیاد پر تبدیلیاں کی گئیں۔ [17][18] اب یہ فلم 2006ء کے آخر میں ریلیز ہوگی۔[19]

موسیقی اور ساؤنڈ ٹریک

[ترمیم]

فلم کی موسیقی اے آر رحمان نے ترتیب دی ہے اور گانوں کے بول جاوید اختر نے لکھے ہیں۔

بیرونی روابط

[ترمیم]
  1. "پہلی بار عامر خان اور سنی دیول 'لاہور 1947' کے لیے اکٹھے"۔ ڈان نیوز
  2. "لاہور 1947 کی کاسٹ سےملیے"۔ ہندوستان ٹائمز
  3. "It's a wrap up for Aamir Khan's 'Lahore 1947' starring Sunny Deol". India Today (بزبان انگریزی). 12 Aug 2024. Archived from the original on 2024-10-07. Retrieved 2024-10-03.
  4. "Sunny Deol Wraps Up Filming Aamir Khan's Lahore 1947 After An Intense 70-Day Shoot". ndtv.com (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2024-10-07. Retrieved 2024-10-03.
  5. "Pierre Angénieux Tribute Laureate 2024 - A Spotlight on Santosh Sivan's Career". angenieux (بزبان امریکی انگریزی). 7 May 2024.
  6. "سنی دیول کا وہ خواب جو عامر خان نے پورا کیا"۔ ہنگامہ ایکسپریس
  7. "جس نے لاہور نئیں ویکھیا"۔ کتابیں
  8. "جس نے لاہور نہیں دیکھا"۔ بی بی سی
  9. "'جن نے لہور نئیں ویکھیا' ۔ زاہدہ حنا"۔ ایکسپریس نیوز
  10. "Shabana Azmi on her character in Lahore 1947, "To say she weeps copiously would be an understatement""۔ Bollywood Hungama۔ 19 اکتوبر 2024۔ 2024-12-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-12-24
  11. Bollywood Hungama (22 Feb 2024). "Ali Fazal joins the cast of Sunny Deol starrer Lahore 1947 : Bollywood News - Bollywood Hungama". بالی وڈ ہنگامہ (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2024-12-26. Retrieved 2024-12-24.
  12. "لاہور 1947: سنی دیول نے فلم 'لاہور 1947' کی حقیقت بتا دی، عامر خان کے بارے میں". اتسک خبر (بزبان ہندی).
  13. "فلم 'لاہور 1947' کب ریلیز ہوگی؟ تفصیلات سامنے آگئیں"۔ اے آر وائی نیوز
  14. "ہندوستان پاکستان کشیدگی کے سبب لاہور ۱۹۴۷ء کی ریلیز ملتوی"۔ انقلاب
  15. Bollywood Hungama (26 Jan 2025). "Lahore, 1947 Movie: Review | Release Date (2025) | Songs | Music | Images | Official Trailers | Videos | Photos | News - Bollywood Hungama". بالی وڈ ہنگامہ (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2024-10-07. Retrieved 2024-10-03.
  16. "Lahore 1947: Sunny Deol resumes shoot after Aamir Khan suggests changes"۔ India Today۔ 1 اکتوبر 2025
  17. "'Lahore 1947': Sunny Deol to resume shoot THIS month; Will Aamir Khan's suggestion be implemented in new schedule?"۔ The Times of India۔ 30 ستمبر 2025
  18. "عامر خان اور سنی دیول کی لاہور ۱۹۴۷ء اکتوبر یا نومبر ۲۰۲۶ء میں ریلیز ہوگی"۔ انقلاب