مندرجات کا رخ کریں

لت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
لت
نشہ آور اشیا کے عادی افراد اور صحت مند افراد کے دماغی میٹابولزم کی PET تصاویر
برین پوزیٹرون امیزن ٹوموگرافی کے ذریعے حاصل کردہ دماغ کی تصاویر، جن میں ایک صحت مند فرد اور کوکین کی لت میں مبتلا فرد کے دماغ کا تقابل دکھایا گیا ہے
اختصاصطب نفسی، مطبی نفسیات، علم السموم، طب ادمان
علاماتمنفی نتائج کے باوجود بار بار کسی خوشگوار سرگرمی میں مشغول ہونے کا مجبوری رویہ (Compulsive behavior)
مضاعفاتخودکشی، بیش مقداری (اگر منشیات ہوں)، شدید افسردگی، اغما (کوما)
خطرے کے عواملخاندانی سابقہ، بچپن کے منفی تجربات، توجہ کی کمی اور بیش فعالی کا عارضہ
علاجادراکی رویہ جاتی علاج (Cognitive behavioral therapy)، رویہ میں تبدیلی (behavior modification)، ادویہ

لَت یا ادمان (Addiction) عصبی نفسیاتی عارضہ ہے جس کی پہچان کسی منشیات کے استعمال یا کسی ایسے رویے میں ملوث رہنے کی مستقل اور شدید خواہش سے ہوتی ہے جو فوری نفسیاتی تسکین فراہم کرے خواہ اس کے نتیجے میں نمایاں نقصان اور دیگر منفی اثرات ہی کیوں نہ ہوں۔ منشیات کا بار بار استعمال دماغ کے معانقۂ عصبی (synapses) میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے جو قدرتی خوشگوار محرکات (جیسے کھانا یا محبت)[1] کے اثرات سے ملتی جلتی ہوتی ہیں اور اس طرح خواہش (craving) کو بڑھاتی اور خود پر قابو کو کمزور کرتی ہیں خصوصاً ان افراد میں جو پہلے سے حساسیت رکھتے ہوں۔[2] اسی رجحان (یعنی منشیات کے ذریعے دماغی افعال میں تبدیلی) نے لت کو ایک دماغی عارضہ کے طور پر سمجھنے میں مدد دی ہے جس میں سماجی نفسیاتی اور عصبی حیاتیاتی عوامل سب شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ جانوروں پر تجربات (مثلاً چوہوں میں کوکین کے استعمال) نے لت کے جبری اور غیر ارادی پہلو کو ظاہر کیا ہے، انسانوں میں یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے اور اس کا تعلق رویوں اور شخصیت کی خصوصیات سے بھی ہوتا ہے۔

لت کی نمایاں علامات میں لذت دینے والی چیزوں یا سرگرمیوں میں جبری طور پر ملوث رہنا، کسی مادے یا رویے کے بارے میں حد سے زیادہ مشغولیت اور منفی نتائج کے باوجود اس کا استعمال جاری رکھنا شامل ہیں۔ لت سے جڑی عادات اور رویے عموماً فوری تسکین (قلیل مدتی فائدہ) کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں جبکہ ان کے مضر اثرات بعد میں (طویل مدتی نقصان کی صورت میں) ظاہر ہوتے ہیں۔

مادّی لت کی مثالوں میں مے پرستی، بھنگ کی لت، ایمفیٹامین کی لت، کوکین کی لت، نکوٹین کی لت، اوپیئڈ (opioid) کی لت اور کھانے یا غذا کی لت شامل ہیں۔ رویہ جاتی یا سلوکی لت میں جوا کھیلنے کی لت، خریداری کی لت، فحش مواد کی لت، انٹرنیٹ کی لت، ویڈیو گیموں کی لت اور جنسی لت شامل ہو سکتی ہیں۔ DSM-5 اور ICD-10 میں صرف جوا کھیلنے کی لت کو سلوکی لت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے جبکہ ICD-11 میں گیمنگ (کھیل) کی لت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Nick Heather; David Best; Anna Kawalek; Matt Field; Marc Lewis; Frederick Rotgers; Reinout W. Wiers; Derek Heim (4 Jul 2018). "Challenging the brain disease model of addiction: European launch of the addiction theory network". Addiction Research & Theory (بزبان انگریزی). 26 (4): 249–255. DOI:10.1080/16066359.2017.1399659. ISSN:1606-6359.
  2. M Heilig, J MacKillop, D Martinez, J Rehm, L Leggio, LJ Vanderschuren (Sep 2021). "Addiction as a brain disease revised: why it still matters, and the need for consilience". Neuropsychopharmacology (بزبان انگریزی). 46 (10): 1715–1723. DOI:10.1038/s41386-020-00950-y. ISSN:0893-133X. PMC:8357831. PMID:33619327. pre-existing vulnerabilities and persistent drug use lead to a vicious circle of substantive disruptions in the brain that impair and undermine choice capacities for adaptive behavior, but do not annihilate them.