لتا منگیشکر کی تلاش میں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لتا منگیشکر کی تلاش میں کتاب کو ہریش بھیمانی نے تصنیف کیا ہے[1] اور اس کا اردو ترجمہ لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی نے تحریر کیا ہے۔ہریش بھیمانی نے ایم بی اے کیا مگر وہ فنون لطیفہ کی طرف مائل رہے۔ پہلے لکھاری اور بعد ازاں صدا بندی اور صداکاری کی دنیا میں اپنے لوہا منوایا۔

کتاب کے عنوان کی وجہ ہریش بھیمانی نے خود پیش لفظ میں اس طرح سے بیان کی ہے:

"'لتا منگیشکر کی یاد میں موسیقی کی محفلوں پر مشتمل ایک سفرنامہ ہے، ایک نقطہ نظر ہے اور ان کی شخصیت کا ایک انکشاف ہے اور اگر وراثتی حدودوقیود اور زندگی کے سنہری مواقع کے حصول کی ارادی جدوجہد کو سوانح عمری کا نام دیا جا سکے تو یہ لتا کی سوانح حیات بھی ہے۔"

ابواب[ترمیم]

  1. باب نمشکار
  2. باب لمبے گیسوؤں والی خاتون
  3. باب میں آدھی گجراتن ہوں
  4. باب شہرت میرا مقدر ہے
  5. باب کیا میں آپ کی حقیقی بیٹی ہوں
  6. باب لتا بابا
  7. باب کیا اب مجھے کوئی نوکری کرنی پڑے گی
  8. باب آفاقی نہیں انہماکی
  9. باب اس نام میں کچھ نہ کچھ ضرور ہے
  10. باب یہاں کوئی کسی پر احسان نہیں کر رہا
  11. باب میں آپ کے لیے نہیں گاؤں گی
  12. باب یہ اپنے اپنے اعتقاد کی بات ہے
  13. باب مائیکروفون ان کا دوست ہے
  14. باب جانِ من کیا بات تھی تمہاری
  15. باب میں ایک قرض چکا رہی ہوں
  16. باب مجھے اکیلا چھوڑ دیجیے
  17. باب میری آواز تقریباََ ختم ہو گئی تھی
  18. باب پربھو کنج 101
  19. باب دل میں یہ ارمان تھا

لتا بابا[ترمیم]

لتا منگیشکر کی پیدائش ماسٹر دینا ناتھ کے گھر میں ہوئی، اس وقت ان کا کیریئر اپنے عروج پر تھا۔ وہ اپنے زمانے کے مرہٹی اسٹیج کے سب سے مشہور و معروف اور ہر دلعزیز شخصیت تھے. وہ گلی  جس میں تیرہ کمروں پر مشتمل ان کا محل نما گھر تعمیر کیا گیا تھا اس کے سامنے ایک وسیع و عریض چبوترہ تھا جو غلام گردش کا کام دیتا تھا، آج یہ گھر "دینا ناتھ راستہ" کے نام سے موسوم ہے اور سانگلی میں واقع ہے۔

جب بھی دیناتھ بمبئی جاتے وہاں رائل اوپرا ہاؤس میں اپنا ڈرامہ "راج سنیاس" ضرور لے کے جاتے۔ برطانوی دور میں یہ  اوپرا ہاؤس ایک مشہور و معروف سینما گھر تھا جس کے میٹنی شو میں یہ ڈرامہ اسٹیج کیا جاتا تھا۔ اس ڈرامے نے پہلی بار میٹنی شو کی روایت کو متعارف کروایا جو آج تک قائم ہے ۔ جب دینا ناتھ نے مشہور ڈرامہ "بھاؤ بندھن" پیش کیا تو اگلی قطار کی ٹکٹ پانچ روپے تھی، اگر افراط زر کی سالانہ 5 فیصد شمار کریں تو اس دور کے پانچ روپے سال 2012  میں 220 ہندوستانی روپے بنتے ہیں۔

ضمیمہ جات[ترمیم]

  • لتا منکیشکر مشاہیر کی نظر میں
  • پہلی کامیابی کا سال
  • لتا منکیشکر اور موسیقاروں کی چھ نسلیں
  • برائے ریکارڈ
  • اعزازات اور تعریفات
  • فوٹوگراف فراہم کرنے والے

حوالہ جات[ترمیم]