لطائف قدوسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لطائف قدوسیہ شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے حالات کے سلسلے میں سب سے زیادہ معتبر اور قابلِ اعتبار کتاب ہے۔

مصنف[ترمیم]

شیخ رکن الدین گنگوہی کی یہ مشہور و معروف تالیف ہے، جسے انھوں نے شیخ عبدالقدوس کی حیات میں ہی مکمل فرمالیا تھا ۔ اس کتاب میں شیخ رکن الدین نے اپنے ان بھائیوں کا تذکرہ بھی کیا ہے،

  • (1) شیخ حمید الدین
  • (2) شیخ احمد
  • (3) شیخ رکن الدین
  • (4) شیخ محمد علی۔

مستند کتاب[ترمیم]

اصولی طور پر اس سلسلے میں صرف لطائف قدوسی پر ہی اعتبار کیا جانا چاہیے؛ چونکہ یہ کتاب شیخ رکن الدین نے شیح عبدالقدوس گنگوہی کی حیات میں ہی ان کی اجازت سے لکھنی شروع کر دی تھی اور اس کی تکمیل ان کے انتقال کے دوماہ بعد ہوگئی تھی۔

کتاب کا مقصد[ترمیم]

شیخ رکن الدین لطائفِ قدوسی میں خود تحریر فرماتے ہیں:

  • ”ایں فقیر بجہتِ جمعِ اوراق رخصت خواستہ و عرض کردکہ بعضے حکایات ذاتِ شریف کہ اززبانی مبارک شنیدہ ام و بعضے معائنہ و مشاہدہ کردہ ام یاد دارم میخواہم کہ درتحریر آرم، فرمانی شد علم ہمان است، بنا براں ہمت بر بستم و قلم تحریر راندم، بعضے حکایات درصدد حیات حضرت قطبی و شیخی درماہ جمادی الاولیٰ و جمادی الاخریٰ سنة اربع و اربعین و تسعمائة مرقوم گشتند وباقی دیگر بعد ازوفات با تمام پیو ستند، وچوں مضمون ایں اور اق ازلطائفِ اخبار حضرت قدوسی بود نامش لطائف قدوسی نہادم۔“[1]
  • اس فقیر نے اوراق کو جمع کرنے کی اجازت چاہی اور عرض کیا کہ بعض حکایات جو آپ کی ذاتِ شریف سے متعلق ہیں اور آپ ہی کی زبانِ مبارک سے سنی ہے اور بعض چیزوں کو میں نے خود دیکھا اور ان کا مشاہدہ کیا ، وہ مجھے یاد ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انھیں لکھ لوں، حکم ہوا علم یہی ہے؛ چنانچہ اس بنا پر میں نے ہمت کی اور تحریر کا قلم چلایا بعض حکایتیں حضرت قطبی و شیخی کی حیات کے زمانے میں 944ھ جمادی الاول اور جمادی الآخر کے مہینوں میں ضبط تحریر میں آئیں اور باقی دوسری حکایتیں آپ کی وفات کے بعد اختتام پذیر ہوئیں؛ چونکہ ان اوراق کا مضمون جناب شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے عمدہ لطائف پر مشتمل تھا؛ اس لیے میں نے اس کا نام لطائفِ قدوسی رکھا)[2]
  • شیخ رکن الدین کی ایک اور تصنیف مجمع البحرین بھی حقائق ومعارف ذات و صفات کا مجموعہ ہے[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. لطائف قدوسی
  2. لطائف قدوسی،ملفوظات شریف حضرت خواجہ عبدالقدوسی گنگوہی چشتی،تصنیف: شیخ رکن الدین چشتی، ناشر: سیرت فاؤنڈیشن سمن آباد لاہور، 2015
  3. اقتباس الانوار،صفحہ 669،شیخ محمد اکرم قدوسی، ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور