لندن، اونٹاریو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لندن، اونٹاریو
LondonOntarioSkyline.jpg
عرفیت: "The Forest City/ جنگل شہر"
لندن کا وقوع، مڈل سیکس کاونٹی اور صوبہ انٹاریو کی نسبت سے
لندن کا وقوع، مڈل سیکس کاونٹی اور صوبہ انٹاریو کی نسبت سے
ملک Flag of Canada.svg کینیڈا
صوبہ Flag of Ontario.svg انٹاریو
ضلع مڈل سکس ضلع
آبادکاری 1826 بطور دیہات
مضموم 1855 بطور شہر
حکومت
 • ناظمِ شہر عین میری ڈیکیکو-بسٹ
 • حکومتی جسم لندن شہر مجلس
رقبہ
 • شہر 420.57 کلو میٹر2 (162.34 مربع میل)
بلندی 251 میل (823 فٹ)
آبادی (2006)[1]
 • شہر 352,395 (15 واں مقام)
 • کثافت 837.9/کلو میٹر2 (2,170.2/مربع میل)
 • میٹرو 457,720 (10 واں مقام)
  source: Statistics Canada
منطقۂ وقت EST (UTC-5)
 • گرما (گرمائی وقت) EDT (UTC-4)
اَمدِ ڈاک رمز N5V to N6P
ٹیلی فون کوڈ (519/226)
ویب سائٹ http://www.london.ca/

لندن، اونٹاریو، جنوبی اونٹاریو، کینیڈا کا شہر ہے جو کیوبیک سٹی-ونڈسر راہداری پر واقع ہے۔ اس میٹروپولیٹن کی کل آبادی 457720 افراد ہے اور شہر کی اپنی آبادی 352395 افراد ہے۔ لندن ٹورانٹو اور ڈیٹرائٹ کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ لندن اور اس سے ملحقہ علاقہ مجموعی طور پر جنوب مغربی اونٹاریو کہلاتا ہے۔ لندن کے شہر کی میونسپلٹی یک سطحی ہے۔

1801ء تا 1804ء لندن میں پہلی بار یورپی آن بسے جو پیٹر ہیگرمین کی زیر قیادت آئے۔[2] اسے 1826ء میں گاؤں کا درجہ ملا۔ اس کے بعد سے لندن اتنا بڑھا ہے کہ یہ جنوب مغربی اونٹاریو کی سب سے بڑی میونسپلٹی بن گیا ہے اور تعلیمی، صحت، سیاحت اور مینوفیکچرنگ کے حوالے سے اہم مرکز کہلاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

یورپیؤں کی آمد سے قبل 18ویں صدی میں لندن کی جگہ پر کئی مقامی قبائل رہتے تھے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق مقامی قبائل اس علاقے میں کم از کم 10 ہزار سال سے رہ رہے تھے۔[3]

آبادکاری[ترمیم]

1793ء میں لیفٹینٹ گورنر جان گریوز سمکوئی نے اس جگہ کو بالائی کینیڈا کے صدر مقام کے لیے چنا۔ سمکوئی کا ارادہ تھا کہ اس جگہ کو بادشاہ جارج سوم کے نام پر جارجینا کہا جائے اور اس نے دریا کا نام بھی بدل دیا۔ تاہم گورنر کارلیٹن نے جنگل میں گھری اس جگہ کو قبول نہ کیا۔ 1814ء میں امریکا کی جنگ انقلاب کے دوران یہاں بھی لڑائی ہوئی۔

لندن کا گاؤں مزید تین دہائیوں تک نہ تعمیر ہو سکا اور سمکوئی کی بے پناہ کاوشوں کے بعد 1826ء میں یہ گاؤں بنا[4] تاہم دارالحکومت کا درجہ نہ پا سکا البتہ اسے یارک (موجودہ ٹورنٹو) کے علاقے کی دیکھ بھال کے لیے صدر مقام چنا گیا۔ لندن کا گاؤں اس وقت کے ٹالبوٹ کے علاقے میں تھا جو کرنل تھامس ٹالبوٹ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ٹالبوٹ نے علاقے کا پہلا زمینی سروے کیا تھا اور پہلی سرکاری عمارت تعمیر کی تھی۔[5]

1832ء میں یہاں ہیضے کی وبا پھیلی۔[6] لندن ٹوریوں کا مضبوط گڑھ ثابت ہوا اور بالائی کینیڈا میں ہونے والی 1837ء کی بغاوت کی حمایت بھی یہاں سے ہوئی۔ نتیجتاً اونٹاریو کے گیریژن میں فوجیوں، ان کے خاندانوں اور کاروباری افراد کی تعداد کو حکومت نے بڑھانا شروع کر دیا۔[5]

13 اپریل 1845ء کو لندن کا زیادہ تر حصہ آگ سے تباہ ہو گیا۔[7] اس وقت شہر کی زیادہ تر عمارات لکڑی سے بنی ہوئی تھیں۔[8] اولین متاثرین میں شہر کا اکلوتا فائر انجن بھی شامل تھا۔ یکم جنوری 1855ء کو لندن کو شہر کا درجہ دے دیا گیا یعنی اس کی آبادی دس ہزار سے تجاوز کر گئی۔

1860ء کی دہائی میں دریائے تھیمس میں گندھک یعنی سلفر دریافت ہوئی جب صنعت کار یہاں تیل کی تلاش کے لیے کھدائی کر رہے تھے۔ گندھک کے ان چشموں کی سیر کو اونٹاریو کے امیر افراد آنے لےگ اور بیسویں صدی میں جب اس جگہ پر ٹیکسٹائل کی فیکٹری لگی تو ان چشموں کی جگہ سپا نے لے لی۔

ترقی[ترمیم]

بلیکفیرارس پُل

سر جان کارلنگ جو مشہور شراب بنانے والے اور لندن میں ٹوری کے رکن پارلیمان تھے، نے 1901 کی تقریر میں لندن کی ترقی کی تین وجوہات بتائیں: اول، لندن میں 1826 میں ضلعی عدالت اور ایڈمنسٹریشن، دوم، 1838 میں فوجی چھاؤنی کی تعمیر اور سوم، 1853 میں ریلوے کی آمد۔ یہ وجوہات آج بھی درست مانی جاتی ہیں۔[9]

1875 میں لندن کا پہلا آہنی پل بنا جو بلیک فریریز سٹریٹ برج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سے قبل شہر سے شمال کی جانب دریا پر لکڑی کا پل تھا جو سیلاب کو نہ سہار سکتا تھا۔

اونٹاریو کے دوسرے پروٹسٹنٹ شہر بیسویں صدی تک اورنج آرڈر کے ماتحت رہے تھے، لندن میں یہ رحجان 19ویں صدی میں ختم ہو گیا تھا۔ 1877 میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ لوگوں نے مل کر آئرش بینولنٹ فنڈ قائم کیا جو دونوں فرقوں کے لوگوں کو لیے کھلا تھا۔ تاہم آئرش سیاست پر بات کرنا ممنوع تھا۔ اس سے اورنج آرڈر اور کیتھولک آرگنائزیشنوں کا اثر ختم ہو گیا تاہم سوسائٹی آج بھی قائم ہے۔

24 مئی 1881 کو ایس ایس وکٹوریا نامی ایک کشتی دریائے تھیمس میں ڈوب گئی اور اس کے تقریباً 200 مسافر ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ لندن کی تاریخ کا بدترین حادثہ ہے۔ دو سال بعد 12 جولائی 1883 کو لندن کی تاریخ کے دو بد ترین سیلاب آئے جن میں کل 17 لوگ ہلاک ہوئے۔ دوسرا بڑا سیلاب 26 اپریل 1937 کو آیا جس میں ہزار سے زیادہ گھر تباہ ہوئے اور کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ نقصان کا بڑا مرکز شہر کا مغربی حصہ تھا۔ بار بار کے سیلاب سے بچنے کے لیے دریا پر ڈیم بنایا گیا تاکہ دریا کے پانی کے بہاؤ کو قابو کیا جا سکے۔ اس ڈیم کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں نے رقم مہیا کی۔ دیگر قدرتی آفات میں 1984 کا گردباد یعنی ٹارنیڈو قابل ذکر ہے جس نے جنوبی لندن کی بہت ساری سڑکوں پر تباہی پھیلا دی تھی۔

مغربی اونٹاریو کے ضلع کے طور پر دونوں عظیم جنگوں کے دوران میں لندن کا کردار فوجی مرکز کے حوالے سے اہم رہا۔ 1950 میں دو ریزروڈ بٹالینوں کو ملا کر ایک نئی تیسری بٹالین لندن اینڈ آکسفورڈ رائفلز کے نام سے بنا دی گئی۔

20ویں صدی کی ترقی[ترمیم]

لندن میں 1961 میں بہت ساری مضافات ضم ہوئیں۔

1993 میں لندن نے ویسٹ منسٹر کا پورا قصبہ اپنے اندر سمو لیا۔ یہ قصبہ شہر کے جنوب میں واقع تھا۔ اس میں پولیس ولیج آف لمبیتھ، مڈل سیکس کاؤنٹی بھی شامل تھے۔ اس بڑے انضمام کے بعد لندن کا رقبہ تقریباً دو گنا ہو گیا اور آبادی میں کئی ہزار افراد کا اضافہ بھی ہوا۔ لندن اب الگن کاؤنٹی تک جنوب میں پھیلا ہوا ہے۔

21ویں صدی[ترمیم]

1993 کے انضمام کے بعد لندن شہر اونٹاریو کے بڑے شہری میونسپل علاقوں میں سے ایک بن گیا۔ بے پناہ تجارتی اور رہائشی ترقی شہر کے جنوب مغرب اور شمال مغرب میں ہو رہی ہے۔ لندن کا شہر اس وقت کینیڈا کا دسواں بڑا شہر ہے۔ اونٹاریو میں اس کا درجہ چھٹے نمبر پر ہے۔ قانون اور حکومت لندن کی میونسپل حکومت 14 کونسلروں اور ایک بورڈ آف کنٹرول میں منقسم ہے۔ بورڈ آف کنٹرول میں ایک میئر اور چار کنٹرولر ہوتے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے بورڈ آف کنٹرول[ترمیم]

جغرافیہ[ترمیم]

سابقہ برفانی دور کے بعد جب گلیشئر یہاں سے پیچھے ہٹے تو دلدلی خطوں کا جنم ہوا۔ انہی دلدلی خطوں میں اونٹاریو کے زیادہ تر زرعی علاقے آتے ہیں۔ شہر کا شمالی نصف حصہ مسطح ہے اور مغرب اور شمال میں چھوٹی موٹی پہاڑیاں ہیں۔

تھیمز دریا شہر کی جغرافیے میں بہت اہم ہے۔ شہر کے درمیان میں شمالی تھیمز دریا اور تھیمز دریا آ کر ملتے ہیں۔ اس جگہ کو دی فورکس کہا جاتا ہے۔ شمالی تھیمز دریا انسانی بنائی ہوئی فینزہا جھیل سے ہو کر گذرتا ہے جو شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے فینزہا ڈیم پر بنائی گئی تھی۔

موسم[ترمیم]

لندن کا موسم مرطوب نوعیت کا ہے۔ براعظم میں اپنے محل وقوع اور عظیم جھیلوں کی ہمسائیگی میں ہونے کی وجہ سے لندن کا موسم بہت بدلتا رہتا ہے۔ گرمیاں عموماً گرم تر اور مرطوب ہوتی ہیں جبکہ سردیاں اچھی خاصی سرد ہوتی ہیں تاہم یہاں سردیوں میں بھی برف پگھلتی رہتی ہے۔ جھیل ہرون اور جھیل ایری سے اٹھنے والے ہوا کے کم دباؤ کی وجہ سے یہاں کینیڈا بھر میں سب سے زیادہ طوفان باد و باراں آتے ہیں۔ جنوب میں ہونے کی وجہ سے یہاں سالانہ 80 انچ جتنی برف پڑتی ہے۔

معیشت اور صنعت[ترمیم]

لندن کی معیشت میں ریل کے انجن یعنی لوکوموٹو اور فوجی گاڑیوں کی پیدوار، انشورنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا غلبہ ہے۔ مشہور زمانہ لندن لائف انشورنس کمپنی یہاں قائم ہوئی اور الیکٹرو موٹو ڈیزلز انکارپوریٹڈ بھی اب ریل کے تمام تر انجن یہاں بناتا ہے۔ جنرل ڈائنامکس لینڈ سسٹمز اپنی بکتر بند گاڑیاں یہاں بناتا ہے۔ لائف سائنسز اور بائیو ٹیکنالوجی سے متعلقہ ریسرچ بھی یہاں یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو میں ہوتی ہے۔

3M نامی مشہور کمپنی کا کینیڈا کا دفتر یہاں لندن شہر میں ہے۔ لبات اور کرلنگ کے شراب کے کارخانے بھی یہاں موجود ہیں۔ کیلاگ کی ایک بڑی فیکٹری بھی یہاں موجود ہے۔ 1984 میں بائیس کروڑ ڈالر سے زیادہ لاگت سے ہونے والی توسیع کے بعد کیلاگ کا یہ کارخانہ کیلاگ کے جدید ترین کارخانوں میں سے ایک ہے۔ فورڈ، جنرل موٹرز سوزوکی وغیرہ کے کارخانے شہر کی حدود سے باہر ہیں اور شہر کے بہت سارے افراد وہاں کام کرتے ہیں۔

تحلیل سے قبل، ائیر اونٹاریو نامی مقامی فضائی کمپنی کا صدر دفتر لندن شہر میں تھا۔

آبادی[ترمیم]

2006 کی مردم شماری کے مطابق شہر کی کل آبادی 352395 افراد ہے۔ ان میں سے 48.2 فیصد مرد اور 51.8 فیصد خواتین ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد 5.2 فیصد ہے۔ فی مربع کلومیٹر آبادی کی گنجانیت 185.3 افراد ہیں جبکہ اونٹاریو صوبے میں یہ محض 12.6 افراد فی مربع کلومیٹر ہیں۔

لندن شہر کے باشندوں کی بڑی اکثریت عیسیائیت پر یقین رکھتی ہے۔ مسیحی کل آبادی کا 75.8 فیصد ہیں۔ دیگر مذاہب میں اسلام 2.7 فیصد، بدھ مت 0.6 فیصد، یہودیت 0.4 فیصد ہیں۔ لندن میں بہائی فرقے کے افراد بھی کافی فعال ہیں۔

2006 کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی کچھ اس طرح سے ہے:

سفید فام 84.8 فیصد، لاطینی امریکی 2.2 فیصد، عرب 2.2 فیصد، سیاہ فام 2.2 فیصد، چینی 1.8 فیصد، جنوبی ایشیائی 1.8 فیصد، مقامی افراد 1.4 فیصد، جنوب مشرقی ایشیائی 1.1 فیصد، مغربی ایشیائی 0.6 فیصد، دیگر 1.9 فیصد۔

تعلیم[ترمیم]

ایلیمنٹری اور ثانوی[ترمیم]

لندن کے ایلمنٹری اور ثانوی سکول چار سکول بورڈوں کے ماتحت کام کرتے ہیں۔

پوسٹ سیکنڈری[ترمیم]

مڈل سکس یادگار مینار, ویسٹرن انٹاریو جامعہ

لندن میں دو پوسٹ سیکنڈری تعلیمی ادارے ہیں جن کے نام یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو اور فین شا کالج ہیں۔

یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو 1878 میں قائم ہوئی اور اس کے فیکلٹی ممبران 1164 ہیں جبکہ طلبا و طالبات کی تعداد 29000 کے لگ بھگ ہے۔ اس یونیورسٹی کو میکلین میگزین کینیڈا کی تین اعلٰی ترین یونیورسٹیوں میں شمار کرتا آ رہا ہے۔ رچرڈ آئی وی سکول آف بزنس 1992 میں قائم ہوا اور یہ اسی یونیورسٹی کا حصہ ہے۔ اسے بھی ملکی سطح پر بہترین بزنس سکول کا درجہ فنانشل ٹائمز کی طرف سے دیا گیا ہے۔ اسی یونیورسٹی سے تین مزید کالجوں کا بھی الحاق ہے۔

فین شا کالج کے طلبا و طالبات کی تعداد 13000 کے آس پاس ہے جن میں 3500 اپرنٹس والے اور 200 سے زیادہ غیر ملکی طلبا و طالبات 80 سے زائد ملکوں سے آئے ہوئے ہیں۔ یہاں کل 40000 طلبا و طالبات پارٹ ٹائم تعلیم پوری کر رہے ہیں۔

اونٹاریو کا ادارہ برائے ریکارڈنگ ٹیکنالوجی بھی لندن میں ہے۔

میڈیا[ترمیم]

آرٹس اور کلچر[ترمیم]

لندن کے مختلف النوع قسم کی ثقافت کی وجہ سے یہاں سیاحت کی صنعت چھائی ہوئی ہے۔ شہر میں گرمیوں میں بہت سارے کھیل تماشے اور میلے ہوتے ہیں۔

ٹرانسپورٹیشن[ترمیم]

زمینی رابطہ[ترمیم]

زیریں لندن میں ویا ریل کا اڈا

لندن ہائی وے 401 پر واقع ہے جو اسے ٹورنٹو اور ڈیٹرائٹ سے ملاتی ہے۔ ہائی وے 402 سارنیا جبکہ ہائی وے 403 اسے اونٹاریو سے ملاتی ہے جو آگے چل کر گولڈن ہارس شو کے علاقے اور نیاگرا کی آبشاروں کو جاتا ہے۔

چھوٹی دو رویہ سڑکیں یہاں بے شمار موجود ہیں۔

گائے لمبارڈو کا برج سیکشن آف ونڈرلینڈ روڈ لندن کا مصروف ترین ٹکڑا ہے جہاں اوسطاً روزانہ 45000 سے زیادہ گاڑیاں گذرتی ہیں۔

ریل[ترمیم]

لندن کینیڈین نیشنل ریلوے مین لائن پر ٹورنٹو اور شکاگو کے درمیان اور کینیڈین پیسیفک ریلوے کی مین لائن پر ٹورنٹو اور ڈیٹرائٹ کے درمیان موجود ہے۔ وی آئی اے ریلوے لندن کے ذریعے کیوبیک سٹی تا ونڈسر کی راہداری کو ملاتی ہے اور امریکہ تک چلتی ہے۔

بس[ترمیم]

انٹر سٹی بس کے مسافروں کے لیے لندن اہم سٹیشن ہے۔ یہاں سے بسیں ٹورنٹو، جنوب مغربی اونٹاریو اور امریکی شہروں ڈیٹرائٹ، مشی گن اور شکاگو کو جاتی ہیں۔

ہوائی رابطہ[ترمیم]

لندن انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ائیر کینیڈا جاز، ویسٹ جیٹ اور نارتھ ویسٹ ائیر لنک کی پروازیں آتی ہیں جو ٹورنٹو، مانٹریال، ڈیٹرائٹ، اوٹاوا، ونی پگ، ایڈمنٹن اور کیلگری کو ملاتی ہیں۔ ویسٹ جیٹ موسمی بنیادوں پر ارلینڈو، وینکوور اور ہیلی فیکس کو بھی پروازیں چلاتی ہے۔

دیگر[ترمیم]

دیگر بڑے شہروں کی مانند لندن میں بھی ٹیکسی اور لیموزین وغیرہ کرائے پر دستیاب ہوتی ہیں۔ یہاں کل بسوں کے 38 روٹ ہیں۔ کلبوں اور باروں کے باہر لیموزینیں گاہکوں کی منتظر رہتی ہیں۔ حال ہی میں یہاں سائیکلوں کے لیے الگ سے راستے بنائے گئے ہیں تاکہ لوگ گاڑیوں کا کم استعمال کریں۔

جڑواں شہر[ترمیم]

لندن شہر کا صرف ایک جڑواں شہر ہے:

حوالہ جات[ترمیم]

  1. According to the Canada 2006 Census.
  2. St-Denis, Guy (1985)۔ Byron:Pioneer Days in Westminster Township۔ Crinklaw Press۔ صفحات 21–22۔ آئی ایس بی این 0-919939-10-4۔ 
  3. Ellis، Christopher؛ Deller, D Brian۔ "An Early Paleo-Indian Site near Parkhill, Ontario"۔ ASC Publications۔ اصل سے جمع شدہ 30 ستمبر 2007 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 ستمبر 2009۔ 
  4. Max Braithwaite (1967)۔ Canada: wonderland of surprises۔ Dodd, Mead۔ 
  5. ^ 5.0 5.1 "The beginnings"۔ City of London۔ 2009۔ اصل سے جمع شدہ 25 نومبر 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 ستمبر 2009۔ 
  6. "Event Highlights for the City of London 1793–1843"۔ City of London۔ اصل سے جمع شدہ 18 دسمبر 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 ستمبر 2009۔ 
  7. Adams، Bill (2002)۔ The History of the London Fire Department of heroes, helmets and hoses (اشاعت 1st)۔ London Fire Department۔ صفحہ 13۔ آئی ایس بی این 0-9732159-0-9۔ 
  8. "Event Highlights for the City of London 1844–1894"۔ City of London۔ اصل سے جمع شدہ 18 دسمبر 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 ستمبر 2009۔ 
  9. Lutman، John (1977)۔ The Historic Heart of London۔ Corporation of the City of London۔ صفحہ 6۔