لنڈی کوتل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لنڈی کوتل
لنډي کوتل
Lwargai
قصبہ
لنڈی کوتل is located in فاٹا
لنڈی کوتل
لنڈی کوتل
لنڈی کوتل is located in پاکستان
لنڈی کوتل
لنڈی کوتل
لنڈی کوتل کا محل وقوع
متناسقات: 34°6′19″N 71°9′19″E / 34.10528°N 71.15528°E / 34.10528; 71.15528متناسقات: 34°6′19″N 71°9′19″E / 34.10528°N 71.15528°E / 34.10528; 71.15528
ملکFlag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہFlag of Khyber Pakhtunkhwa.svg خیبر پختونخوا
ضلعخیبر ایجنسی
تحصیللنڈی کوتل
بلندی1,072 میل (3,517 فٹ)
آبادی (خانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء)
 • کل33,697
منطقۂ وقتپاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
فہرست پاکستان کے ڈائلنگ کوڈ0924
لنڈی کوتل کے قریب شگئی سٹیشن پر خیبر سفاری ریل

لنڈی کوتل (انگریزی: Landi Kotal) صوبہ خیبر پختونخوا كيساتھ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں واقع سرحدی شہر ہے۔ یہ سطح سمندر سے 1072 میٹر بلند ہے اور درہ خیبر میں بلند ترین مقام تصور کیا جاتا ہے۔ لنڈی کوتل پاک افغان سرحد پر واقع ایک سیاحتی مقام کی حیثیت سے مشہور ہے جہاں سڑک اور ریل کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے، انگریز دور حکومت میں بچھائی گئی ریل کی پٹڑی جو متروک ہو چکی تھی اب پھر سے فعال کر کے اس پر “خیبر سفاری ٹرین“ کے نام سے سیاحتی ریل چلائی جاتی ہے، جس کی منزل لنڈی کوتل ہے۔ پاک افغان سرحد جسے ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے یہاں سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ لنڈی کوتل نہ صرف سیاحتی مقام بلکہ یہاں آباد آفریدی اور شنواری قبائل کے لیے تجارتی مرکز کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

لنڈٰی کوتل درہ خیبر کے انتہائی مغرب میں واقع مقام ہے جو برطانوی دور حکومت میں سرحدی چوکی کی حیثیت سے مشہور تھا۔ 1897ء میں آفریدی قبائل نے اس قصبے پر حملہ کر کے یہاں واقع سرکاری املاک اور چوکی پر قبضہ کر لیا۔ گو اس وقت حفاظت پر مامور خیبر رائفلز نے مزاحمت کی مگر لنڈی کوتل سرکاری تحویل سے نکل گیا۔ برطانوی فوج نے جوابی حملہ میں جو سر ولیم لاک ہارٹ کی سربراہی میں 34000 فوجیوں کی مدد سے کیا گیا، آفریدی قبائل کو شکست سے دوچار کیا۔ آفریدی قبائل نے بعد ازاں ایک معائدے کے تحت عام معافی حاصل کی۔
یہاں ایک قلعہ بھی قائم ہے جو برطانوی دور حکومت میں عام حیثیت سے مشہور تھا، اس وقت یہاں 5 برطانوی فوجی افسر اور 500 مقامی فوجی مستقل موجود رہتے تھے۔ 1899ء کے بعد خیبر کی دوسری چوکیوں کی مانند یہ قلعہ بھی خیبر رائفلز کے حوالے کر دیا گیا، جس میں مقامی آبادی کو بھرتی کر کے ایک معائدے کے تحت سرحدی حفاظت طے کی گئی۔ 1925ء میں یہاں پہلی بار ریلوے لائن بچھائی جس سے برصغیر پاک و ہند کا رابطہ خیبر پختونخوا تک ممکن ہو گیا، یہ ریلوے لائن جمرود سے لنڈی کوتل تک بچھائی گئی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. لنڈی کوتل کا جغرافیہ
  2. لنڈی کوتل
  3. لنڈی کوتل: بمطابق ایمپیریل گزیٹئیر آف انڈیا صفحہ 134، 135، 303، 390

بیرونی روابط[ترمیم]

لنڈی کوتل کا سیاحتی تعارف