مندرجات کا رخ کریں

لوئیز اناسیو لولا دا سلوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
لوئیز اناسیو لولا دا سلوا
(پرتگالی میں: Luiz Inácio Lula da Silva ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

مناصب
صدر برازیل (38  )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1 جنوری 2003  – 31 دسمبر 2006 
 
لوئیز اناسیو لولا دا سلوا  
صدر برازیل (39  )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1 جنوری 2007  – 31 دسمبر 2010 
لوئیز اناسیو لولا دا سلوا  
دیلما روسیف  
صدر برازیل (44  )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
1 جنوری 2023 
جائیر بولسونارو  
 
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (پرتگالی میں: Luiz Inácio da Silva ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 27 اکتوبر 1945ء (80 سال)[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برازیل [5]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد 1.68 میٹر [6]  ویکی ڈیٹا پر (P2048) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ٹریڈ یونین پسند ،  سیاست دان [7]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان پرتگالی برازیلی   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پرتگالی برازیلی [8]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جرم منی لانڈرنگ فی: 12 جولا‎ئی 2017)
منی لانڈرنگ فی: 24 جنوری 2018)  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
کیٹالونیا بین الاقوامی انعام (2012)[9]
اندرا گاندھی انعام (2010)
 نیشنل آڈر آف میرٹ (2006)[10][11]
جواہر لعل نہرو ایوارڈ (2006)[12]
پرنسسز آف ایسٹوریس ایوارڈ برائے بین الاقوامی تعاون (2003)
 آرڈر آف ایروناٹیکل میرٹ (برازیل)
 نیشنل آڈر آف میرٹ
برونو كرايسكی اعزاز [13]
 نشان عبد العزیز السعود    ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

لوئیز اناسیو لولا دا سلوا (پیدائش: 27 اکتوبر 1945ء)، جو واحد نام ”لُولا“ کے نام سے مشہور ہیں، برازیل کے سیاست دان، مزدور انجمن رہنما اور سابق دھات کاریگر ہیں۔ وہ 2023ء سے برازیل کے انتالیسویں صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لولا ورکرز پارٹی کے رکن ہیں اور اس سے قبل 2003ء سے 2011ء تک برازیل کے پینتیسویں صدر بھی رہ چکے ہیں۔

لولا کا تعلق ریاست پرنامبوکو سے ہے۔ انھوں نے دوسری جماعت کے بعد اسکول چھوڑ دیا اور کم عمری میں کام شروع کیا۔ دس برس کی عمر تک وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ نوجوانی میں وہ دھات کاریگر کے طور پر کام کرتے رہے اور انجمن مزدوراں کی سرگرمیوں میں شامل ہوئے۔ 1978ء سے 1980ء تک انھوں نے برازیل کی فوجی آمریت کے زمانے میں اے بی سی مزدور ہڑتالوں کی قیادت کی۔ 1980ء میں انھوں نے برازیل کی جمہوری بحالی کے دوران ورکرز پارٹی کے قیام میں حصہ لیا۔ لولا 1984ء کی تحریک ’دیریطاس یا‘ (Diretas Já) کے رہنماؤں میں شامل تھے، اس تحریک کا مقصد براہِ راست صدارتی انتخابات کا مطالبہ تھا۔ 1986ء میں وہ ریاست ساؤ پاؤلو سے وفاقی نائب منتخب ہوئے۔ لولا نے 1989ء میں صدر کے لیے انتخاب لڑا لیکن دوسرے مرحلے میں شکست کھائی۔ اسی طرح 1994ء اور 1998ء میں بھی وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ بالآخر وہ 2002ء میں دوسرے مرحلے میں فتح یاب ہو کر صدر بنے اور 2006ء میں دوبارہ منتخب ہوئے۔

لولا کو بایاں بازو سیاست دان کہا جاتا ہے۔ ان کی پہلی صدارت جنوبی امریکا کی ”گلابی لہر“ کے آغاز کے ساتھ ملی۔ اپنے دونوں ادوار میں انھوں نے مالیاتی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے سماجی بہبود کے منصوبے، جیسے بولسا فامیلیا نافذ کیے، جنھوں نے مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ، بیرونی قرضے اور افراطِ زر میں کمی اور لاکھوں برازیلیوں کو غربت سے نکالنے میں مدد دی۔ خارجہ پالیسی میں بھی انھوں نے خطے کی سطح پر اور عالمی تجارت و ماحولیاتی مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ انھی برسوں میں وہ برازیل کی تاریخ کے مقبول ترین سیاست دانوں میں شمار ہوئے اور سبکدوشی کے وقت ان کی مقبولیت کی شرح 80 فیصد تھی۔ تاہم ان کے دور میں کرپشن کے نمایاں اسکینڈل بھی سامنے آئے، جن میں مینسالاؤں ووٹ خریدنے کا اسکینڈل قابل ذکر ہے۔ 2010ء کے انتخابات کے بعد ان کی سابق چیف آف اسٹاف، دیلما روسیف ان کی جانشین بنیں جبکہ وہ سیاست اور خطابات میں سرگرم رہے۔

جولائی 2017ء میں لولا کو آپریشن کار واش کے تحت بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر سزا سنائی گئی اور وہ کل 580 دن جیل میں قید رہے۔ 2018ء کے صدارتی انتخابات میں انھوں نے حصہ لینے کی کوشش کی لیکن برازیل کے فیشا لمپا قانون کے تحت نااہل قرار پائے۔ فروری 2019ء میں انھیں دوبارہ سزا ہوئی مگر نومبر ہی میں رہا کر دیے گئے۔ ان کی دونوں سزائیں 2021ء میں برازیل کی وفاقی عدالتِ عالیہ نے کالعدم قرار دیں اور پہلے مقدمے میں جج کے تعصب کو بھی ثابت کیا یوں دیگر تمام زیر التوا مقدمات بھی ختم کر دیے گئے۔ قانونی طور پر دوبارہ صدارتی امیدوار بننے کے بعد لولا نے 2022ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور دوسرے مرحلے میں بر سر منصب صدر جائیر بولسونارو کو شکست دی۔ 1 جنوری 2023ء کو 77 برس کی عمر میں انھوں نے صدر کا حلف اٹھایا اور برازیل کے سب سے معمر صدر بنے۔ اسی کے ساتھ وہ ملک کی تاریخ کے پہلے ایسے سیاست دان بنے جنھوں نے کسی بر سر منصب صدر کو شکست دے کر تیسری مدت کے لیے صدارت حاصل کی۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/120309858 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Luiz-Inacio-Lula-da-Silva — بنام: Luiz Inacio Lula da Silva — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/luiz-inacio-lula-da-silva — بنام: Luiz Inácio Lula da Silva — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000021165 — بنام: Luiz Inacio Lula da Silva — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. Ex-Leader Says Brazil Won’t Follow China’s Low-Wage Model
  6. تاریخ اشاعت: 28 اکتوبر 2022 — Debate impulsiona buscas por alturas de Lula e Bolsonaro no Google, confira medidas — اخذ شدہ بتاریخ: 22 جنوری 2024
  7. La fiscalía especial del Lava Jato acusó a Lula da Silva de lavado de dinero — اخذ شدہ بتاریخ: 14 ستمبر 2020
  8. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12505169r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  9. http://presidencia.gencat.cat/web/.content/ambits_actuacio/premis/PIC/documents/pdf/acta_jurat_2012_cat.pdf
  10. https://www.joradp.dz/JO2000/2006/007/FP19.pdf
  11. https://www.joradp.dz/JO2000/2006/007/FP19.pdfhttps://web.archive.org/web/20110513210458/http://www.computadorparatodos.gov.br/noticias/20060213_02 — سے آرکائیو اصل
  12. https://www.joradp.dz/JO2000/2006/007/FP19.pdfhttps://web.archive.org/web/20190402094610/http://iccr.gov.in/content/nehru-award-recipients — سے آرکائیو اصل
  13. https://mais.opovo.com.br/colunistas/carlosmazza/2019/11/22/ha-35-anos--lula-recebia-premio-de-direitos-humanos-da-austria.html