لوئی بریل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لوئی بریل
(فرانسیسی میں: Louis Braille خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Bust of Louis Braille by Étienne Leroux, Bibliothèque nationale de France
Bust of Louis Braille by Étienne Leroux, Bibliothèque nationale de France

معلومات شخصیت
پیدائش 4 جنوری 1809(1809-01-04)
کووغئے،  ماسون لوئی بریل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 6 جنوری 1852(1852-10-60) (عمر  43 سال)
پیرس[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن پانتھیون،  کووغئے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Royal Standard of the King of France.svg مملکت فرانس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب کیتھولک
طبی کیفیت اندھا پن
سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بیماری (P1050) ویکی ڈیٹا پر
والدین مونک اور سائمن-رینے بریل
عملی زندگی
پیشہ ارغنون نواز،  معلم،  موجد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

لوئی بریل (فرانسیسی: Louis Braille) (پیدائش: 4 جنوری 1809ء - وفات: 6 جنوری 1852ء) بریل رسم الخط کا بانی ہے، اس رسم الخط کو عالمی طور پر نابینا یا کمزور بینائی والے افراد لکھنے اور پڑھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لوئی بریل کو بچپن میں ایک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں اس کی بینائی چلی گئی چنانچہ اس محرومی کے علاج کے لیے اس نے بریل رسم الخط ایجاد کیا۔ بنیادی طور پر یہ چھ نقطوں پر مبنی نظام ہے، ان نقطوں پر انگلیاں پھیری جاتی ہیں اور لکھی ہوئی تحریر کا مفہوم سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس نظام کتابت کو تمام بڑی زبانوں نے اپنا لیا ہے۔[3]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

لوئی بریل کا آبائی گھر اور جائے پیدائش

لوئی بریل کی پیدائش 4 جنوری 1809ء میں فرانس کے چھوٹے سے قصبے کووغئے میں ایک متوسط خاندان میں ہوئی۔ اس کے والد سائمن رینے بریل شاہی گھوڑوں کے لیے کاٹھی اور زین بنانے کا کام کرتے تھے۔ خاندانی ضروریات کے لیے ناکافی وسائل کی بنا پر سائمن کو اضافی محنت کرنی پڑتی تھی۔ اسی لیے جب لوئی محض پانچ سال کا ہوا تو اس کے والد نے اسے اپنے ساتھ گھوڑوں کے لیے کاٹھی اور زین بنانے کے کام میں لگا لیا۔ فطری طور پر پانچ سالہ بچہ اپنے آس پاس موجود اشیا سے کھیلنے میں اپنا وقت صرف کرتا تھا، اس لیے لوئی کے کھلونے وہی تھے جنہیں اس کے والد اپنے کام میں استعمال کرتے تھے، جیسے سخت لکڑی، ہڈی، لوہے کے ٹکڑے، گھوڑے کی نال، چاقو اور لوہے کے اوزار وغیرہ۔

ایک دن کاٹھی کے لیے لکڑی کاٹنے کے لیے استعمال کیا جانے والا چاقو اچانک اچھل کر لوئی کی آنکھ میں جا لگا اور اس کی آنکھ سے خون بہہ نکلا۔ روتا ہوا بچہ اپنی آنکھ کو ہاتھ سے دبا کر سیدھا گھر پہنچا۔ گھر میں معمولی جڑی بوٹی لگا کر اس کی آنکھ پر پٹی لگا دی گئی۔ شاید یہ خیال ہوگا کہ چھوٹا بچہ ہے، جلد ہی چوٹ ٹھیک ہو جائے گی اور لوئی کی آنکھ کے ٹھیک ہونے کا انتظار کیا جانے لگا۔ کچھ دن بعد لوئی نے اپنی دوسری آنکھ سے بھی کم دكھائی دینے کی شکایت کی لیکن یہ اس کے والد سائمن کی تنگ دستی یا لاپروائی تھی جس کی وجہ سے بچے کی آنکھ کا مناسب علاج نہیں کرایا جا سکا اور آہستہ آہستہ لوئی آٹھ سال کی عمر میں مکمل نابینا ہو گیا۔

تعلیم[ترمیم]

بریل نے دس سال کی عمر تک کووغئے میں تعلیم حاصل کی۔ اس کی ذہانت اور مستقل مزاجی کو دیکھتے ہوئے اسے نابینا بچوں کے لیے بنائے گئے پہلے اسکول "رائل انسٹيٹيوٹ فار بلائنڈز" میں داخلہ ملا گیا جس کے بانی پادری ویلنٹائن آوی تھے۔[4] جس کا موجودہ نام قومی ادارہ برائے نابینا نوجوانوں پیرس (انگریزی: National Institute for Blind Youth؛ فرانسیسی: Institut National des Jeunes Aveugles) ہے۔[3] بریل، فروری 1819ء میں گھر چھوڑ کر اسکول کے لیے روانہ ہو گیا۔[5] اس وقت رائل انسٹيٹيوٹ فنڈز کی کمی کا شکار تھا، لیکن یہ نابینا بچوں کو سیکھنے اور باہمی میل جول کے لیے نسبتا ساز گار ماحول فراہم کرتا تھا۔[6][7]

آوی نظام[ترمیم]

تین نظاموں کا موازنہ

ویلنٹائن آوی جو اسکول کا بانی تھا اور خود نابینا نہیں تھا نے نابینا افراد کے پڑھنے کے لیے ایک نظام بنایا تھا جسے آوی نظام (Haüy system) کہتے ہیں۔ آوی نظام میں لاطینی حروف کو مضبوط کاغذ پر ابھار کی صورت میں کندہ کیا جاتا تھا۔ قاری ان نشانات پر انگلیوں سے حروف کو پہچانتا تھا، یہ ایک روایتی طریقہ تھا تاہم اس کے لیے کافی وقت لگتا تھا تاہم اس کاوش کے لیے ویلنٹائن آوی کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔[8]

بریل رسم الخط کی ابتدا[ترمیم]

کم عمری میں لوئی بریل کو یہ دردناک حادثہ پیش آیا لیکن اس نے ہار نہیں مانی اور فرانس کے مشہور پادری ویلنٹائن کی خدمت میں جا پہنچا۔ پادری ویلنٹائن آوی کی کوششوں سے 1819ء میں اس دس سالہ بچے کو "رائل انسٹيٹيوٹ فار بلائنڈز" میں داخلہ مل گیا۔ سنہ 1821ء میں بارہ برس کی عمر میں لوئی کو پتہ چلا کہ شاہی فوج کے سبکدوش کیپٹن چارلس باربر نے فوج کے لیے ایسا خفیہ رسم الخط تیار کیا ہے جس کی مدد سے وہ ٹٹول کر اندھیرے میں بھی پیغام پڑھ سکتے ہیں۔ کیپٹن چارلس باربر کو علم تھا کہ جنگوں کے دوران میں فوجیوں کو اندھیرے میں پیغام خوانی میں دقت پیش آتی ہے چنانچہ اس مشکل کا حل اس طرح نکالا تھا۔

لوئی اس رسم الخط کی مدد سے نابینا افراد کے پڑھنے کا امکان تلاش کر رہا تھا۔ چنانچہ اس نے پادری ویلنٹائن کے سامنے یہ خواہش رکھی کہ وہ کیپٹن چارلس باربر سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ پادری نے لوئی کی کیپٹن سے ملاقات کا انتظام کر دیا۔ ملاقات کے دوران میں لوئی نے اس رسم الخط میں کچھ ترمیم کی تجویز پیش کی۔ کیپٹن چارلس کا رسم الخط کافی پیچیدہ تھا کیونکہ وہ فوجی استعمال کے لیے بنایا گیا تھا اس لیے بریل نسبتا آسان نظام بنانا چاہتا تھا جسے نابینا افراد آسانی سے استعمال کر سکیں۔[9][10] کیپٹن چارلس باربر اس اندھے لڑکے کی خود اعتمادی دیکھ کر دنگ رہ گئے اور لوئی کی تجویز کردہ تبدیلیوں کو انہوں نے قبول کر لیا۔

بریل رسم الخط کی منظوری[ترمیم]

لوئی بریل نے اس رسم الخط پر آٹھ برس صرف کیے اور متعدد تبدیلیوں کے بعد بالآخر وہ 1829ء میں چھ نقطوں پر مبنی ایک رسم الخط بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن معاصر ماہرین تعلیم نے اس رسم الخط کو قبول نہیں کیا اور مضحکہ اڑایا۔ فوج کے سبکدوش کیپٹن چارلس باربر کے نام کا سایہ مسلسل اس رسم الخط پر منڈلاتا رہا اور فوج کے زیر استعمال رہنے کی وجہ سے اسے خفیہ رسم الخط ہی سمجھا گیا۔ لیکن لوئی بریل نے ہار نہیں مانی اور پادری ویلنٹائن کے تعاون سے اس نے اپنی اس محنت کو نابینا افراد کے درمیان میں مسلسل متعارف کرانے لگا۔

اس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس رسم الخط کو نابینا افراد کی زبان کے طور پر منظوری دی جائے لیکن لوئی کی بدقسمتی رہی کہ اس کی کوششوں کو کامیابی نہیں مل سکی اور معاصر ماہرین تعلیم نے اسے زبان کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ لوئی اپنی اس کوشش کو سماجی اور آئینی طور پر منظور نہ کرا سکا اور سنہ 1852ء میں 43 برس کی عمر میں وفات پا گیا۔

اعزازات[ترمیم]

مشرقی جرمنی کا ایک ڈاک ٹکٹ

6 جنوری 1852ء کو لوئی کا انتقال ہوا۔ لوئی بریل کا چھ نقطوں پر مبنی رسم الخط اس کی موت کے بعد نابینا افراد میں مقبول ہوتا ریا۔ لوئی کی موت کے بعد ماہرین تعلیم نے اس کام کو سنجیدگی سے دیکھا اور نابینا افراد کے درمیان میں مسلسل مقبول ہوتا دیکھ کر اسے منظوری دینے پر غور و فکر ہونے لگا۔ آخر میں لوئی کی موت کے ایک صدی بعد فرانس میں 20 جون 1952ء کا دن اس کے اعزاز کا دن مقرر کیا گیا اور اس دن لوئی کی باقیات کو سرکاری اعزاز کے ساتھ قبر سے باہر نکالا گیا۔ مقامی انتظامیہ اور فوج کے اعلی افسران جن کے اجداد نے لوئی کی زندگی میں اسے مسلسل نظرانداز کیا اور نابینا افراد کے لیے تیار کیے گئے اس رسم الخط کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے اس کا مضحکہ اڑایا، انہون نے اپنے اجداد کی غلطی کی معافی چاہی۔ بعد ازاں فوج نے غمگین موسیقی کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اسے دفن کیا۔ نیز اپنی اس غلطی پر پوری قوم سے معافی چاہی گئی۔[11]

لوئیبریل کے مجسمے اور دیگر یادگاریں دنیا بھر میں موجود ہیں۔ دنیا بھر میں ڈاک ٹکٹوں پر اسے خراج تحسین پیش کیا جا چکا ہے، [12] اور ایک سیارچے کو 9969 بریل کا نام دیا گیا ہے۔[13] دائرۃ المعارف بریطانیکا نے اسے "100 تمام وقتی سب سے با اثر موجد" کی فہرست میں شامل کیا ہے۔[14]

2009ء میں بریل کی پیدائش کی دو سوویں سالگرہ پر دنیا بھر میں اس کی کامیابیوں کے بارے میں نمائشوں اور علمی مذاکروں کا اہتمام کیا گیا تھا۔

بریل کی یادگار کے طور پر بیلجیم اور اطالیہ میں 2 یورو کے سکے، بھارت 2 روپیہ سکے اور ریاستہائے متحدہ امریکا میں ایک ڈالر کا سکہ جاری کیا گیا۔[15][16][17][18]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Брайль Луи — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11958679r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب Farrell, p. 98.
  4. The World Book Student Discovery Encyclopedia, Vol. B2۔ Chicago: World Book Inc.۔ 2000۔ صفحہ 117۔ آئی ایس بی این 0-7166-7400-9۔ 
  5. Mellor, p. 26.
  6. Kugelmass (1951), pp. 34–35.
  7. Mellor, p. 29.
  8. Kugelmass (1951), pp. 37–38.
  9. Kugelmass (1951), pp. 117–118.
  10. Farrell, pp. 96–97.
  11. Eliot، T.S. (December 1952). "Some thoughts on Braille". The New Outlook for the Blind (American Foundation for the Blind) 46 (10): 287–288. 
  12. Nuessel، Frank (November 1985). "Louis Braille Helped the Sightless to See". The American Philatelist (American Philatelic Association) 99: 1005–1007. 
  13. Lutz D. Schmadel (2003)۔ Dictionary of minor planet names۔ Berlin; New York: Springer-Verlag۔ صفحہ 715۔ آئی ایس بی این 978-3-540-00238-3۔ 
  14. Amy McKenna, ویکی نویس (2010)۔ The 100 Most Influential Inventors of All Time۔ New York: Britannica Educational Publishing۔ صفحات 94–96۔ آئی ایس بی این 9781615300426۔ 
  15. "New 2-euro commemorative coin on display in the Museum"۔ National Bank of Belgium۔ 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 February 2014۔ 
  16. "Italy 2 euro commemorative coin 2009 Louis Braille"۔ Brailleroom۔ 2009۔ اصل سے جمع شدہ 2 April 2012 کو۔ 
  17. "Commemorative Coins – India – Louis Braille"۔ India Stamp Ghar۔ 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 February 2014۔ 
  18. "2009 Louis Braille Bicentennial Silver Dollar"۔ United States Mint۔ 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 February 2014۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]