لوئیس پاسچر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(لوئی پاسچر سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لوئیس پاسچر
(فرانسیسی میں: Louis Pasteurخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
نادر کی کلک کردہ تصویر
نادر کی کلک کردہ تصویر

معلومات شخصیت
پیدائش 27 دسمبر 1822[1][2][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 ستمبر 1895 (73 سال)[1][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سکتہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
قومیت فرانسیسی
رکن رائل سوسائٹی،امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی،رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز،فرانسیسی اکادمی برائے سائنس،امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون،سائنس کی روسی اکادمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن در (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
المؤسسات
اختصار اسم علماء النبات Pasteur[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں botanist author abbreviation (P428) ویکی ڈیٹا پر
مادر علمی اکولے نورمالے سپیریئر
یونیورسٹی آف پیرس
نمایاں شاگرد چارلس فریڈل[7]
پیشہ کیمیادان،استاد جامعہ،حیاتی کیمیا دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان فرانسیسی زبان[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل
اعزازات
تمغا رمفورڈ (1892)
تمغا البرٹ (1882)
کاپلی میڈل (1874)
تمغا رمفورڈ (1856)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
لوئیس پاسچر

لوئیس پاسچر (/ˈli pæˈstɜr/، فرانسیسی: [lwi pastœʁ]؛ 27 دسمبر، 1822ء – 28 ستمبر، 1895ء) ایک حیاتیات ، کیمیا ، اور چرثومیات کا فرانسیسی ماہر تھا، جس نے کتے کے کاٹے کا اعلاج دریافت کیا اور یہ ثابت کیا کہ بہت سی بیماریاں ازخود نہیں جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ خمیر کے بارے میں اس کی تحقیقات سے جرثومیات کا نیا علم وجود میں آیا، اور متعدی امراض کے اسباب اور ان کی روک تھام کے بارے میں تحقیقات سے عضویات میں ایک نئے شعبے کا اضافہ ہوا۔ پاسچر نے چڑیوں ، جانوروں اور حیوانوں میں متعدی امراض پھیلانے والے جراثیم کو بھی مطالعہ کیا۔ اُسے معلوم ہوا کہ مویشیوں کا بخار اور مرغیوں کی بیماری ’’چکن کالرا‘‘ مختلف جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد اس نے جنون سگ گزیدگی ’’ ریبیز ‘‘ کے مرض کا مطالعہ کیا اور اس بیماری کا ایک ٹیکا ایجاد کیا۔ دودھ کو حرارت پہنچا کر بیکٹریا سے محفوظ کرنے کا عمل اسی کی ایجاد ہے۔ اور اسی کے نام سے موسوم ہے۔ پاسچر کی تحقیقات اور خدمات کے اعتراف میں پیرس میں پاسچر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا۔ جس میں ہیضہ ، میعادی بخار اور دوسری بیماریوں کے ٹیکے تیار کیے جاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 https://rkd.nl/explore/artists/62039 — اخذ شدہ بتاریخ: 23 اگست 2017
  2. Louis Pasteur — ناشر: Ministry of Culture
  3. ^ 3.0 3.1 Louis Pasteur
  4. ^ 4.0 4.1 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6q52tg1 — بنام: Louis Pasteur — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ 5.0 5.1 NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/louis-pasteur — بنام: Louis Pasteur — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. IPNI author ID: http://www.ipni.org/ipni/idAuthorSearch.do?id=24593-1
  7. Asimov, en:Asimov's Biographical Encyclopedia of Science and Technology 2nd Revised edition
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119187405 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  9. "II. Abdülhamid'in Fransız kimyagere yaptığı yardım ortaya çıktı"۔ CNN Türk۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 جولائی 2017۔