لوتے شیرنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لوتے شیرنگ
(زونگکھا میں: བློ་གྲོས་ཚེ་རིང་ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Prime Minister of Bhutan Dr. Lotay Tshering on December 28, 2018 (cropped).jpg 

وزیر اعظم بھوٹان
آغاز منصب
7 نومبر 2018ء
بادشاہ جگمے کھیسر نامگیال وانگچوک
Fleche-defaut-droite-gris-32.png شیرنگ توبگے
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
صدر دروک نیامروپ شوگپا
آغاز منصب
14 مئی 2018ء
نائب شیرب گیالتشین
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ٹنڈن ڈورجی
شیرب گیالتشین (قائم مقام) Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 10 مئی 1969 (50 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تھمپو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Bhutan.svg بھوٹان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت دروک نیامروپ شوگپا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 3   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ڈھاکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  جراح،  طبیب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Lotay Tshering signature.svg 

لوتے شیرنگ (انگریزی: Lotay Tshering) بھوٹانی سیاست دان اور طبیب جو ملک کے وزیر اعظم ہیں۔[1][2] وہ دروک نیامروپ شوگپا کے 14 مئی 2018ء سے صدر بھی ہیں۔[3][4]

وہ پیشے کے لحاظ سے ایک ماہِر علم البول (یورالوجسٹ) ہیں۔ انہوں سنہ 2013ء میں سیاست میں قدم رکھا۔ انہوں نے 2013ء کے قومی اسمبلی انتخابات لڑے تھے مگر وہ اور ان کی جماعت پہلے ہی مرحلے سے باہر ہو گئی۔[5]

انہوں نے 2018ء کے قومی اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ان کی جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔[6] 7 نومبر 2018ء کو انہوں نے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔[7]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

شیرنگ ت 1968[8] کو ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔[9]

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم شیروبتس کے پنکھا ہائی اسکول سے حاصل کی۔[9] انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی، بنگلہ دیش سے 2001ء میں ایم بی بی ایس (MBBS) کی ڈگری حاصل کی۔[9] 2007ء میں، انہوں نے میڈیکل کالج آف وسکونسن، امریکا سے بولیات کی تعلیم حاصل کی۔ بھوٹان لوٹنے کے بعد وہ ملک میں واحد بولیات کے ماہر تھے۔ 2010ء میں انڈورولوجی کی تعلیم سنگاپور جنرل اسپتال، سنگاپور اور اوکیاما یونیورسٹی، جاپان سے حاصل کی۔[10] 2014ء میں انہوں نے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کنبیرا سے ایم بی اے (MBA) کی ڈگری حاصل کی۔[10]

ذاتی زندگی[ترمیم]

شیرنگ نے ایک ڈاکٹر سے شادی کی ہے۔ ان کی ایک بیٹی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریجنل ریفرل اسپتال سے ایک لڑکا اور لڑکی بھی گود لی ہے۔[9]

سیاسی سفر[ترمیم]

شیرنگ نے 2013ء کے قومی اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا لیکن شروعاتی مرحلے میں ہی ہار گئے۔[11]

14 مئی 2018ء کو تیسرے قومی اسمبلی انتخابات سے پانچ مہینے پہلے، انہوں نے 1155 ووٹ حاصل کیے اور دروک نیامروپ شوگپا کے صدر منتخب ہو گئے۔[12]

شیرنگ کی پارٹی نے بھوٹان کے قومی اسمبلی انتخابات، 2018ء میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور ان کی پارٹی دروک نیامروپ شوگپا پہلی بار حکومت میں آئی۔[13]

وزیر اعظم[ترمیم]

7 نومبر، 2018ء کو آپ کو شیرنگ توبگے کی جگہ بھوٹان کا نیا وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔[14][15][16]

کابینہ[ترمیم]

شیرنگ نے 3 نومبر، 2018ء کو اپنی 10 رکنی کابینہ کا اعلان کیا۔[17]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Dr Lotay Tshering is the prime minister candidate"۔ کوینسیلون آن لائن۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "Narendra Modi congratulates newly elected PM of Bhutan"۔ ہندوستان ٹائمز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "DNT elects Dr. Lotay Tshering as President and Dasho Sherub Gyeltshen as Vice President"۔ بی بی ایس (امریکی انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-16۔
  4. "Ready to lead DNT, says Dr Lotay Tshering – KuenselOnline"۔ www.kuenselonline.com (امریکی انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-16۔
  5. دیپانجن رائے چودھری۔ "Centre-left DNT win may strengthen India-Bhutan relations"۔ دی اکنامک ٹائمز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "Bhutan chooses new party to form government"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "Dr Lotay Tshering sworn in as Bhutan's new prime minister"۔ دی انڈین ایکسپریس۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-11-08۔
  8. "Bhutan 2018 Elections"۔ www.peldendrukpa.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. ^ ا ب پ ت "The persuasive president – KuenselOnline"۔ www.kuenselonline.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. ^ ا ب "11 Things To Know About Bhutan's New Prime Minister Dr Lotay Tshering"۔ bhutantimes.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ auto نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  12. "DNT elects Dr. Lotay Tshering as President and Dasho Sherub Gyeltshen as Vice President"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. "Bhutan chooses new party to form government"۔ Times of India۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  14. "Dr Lotay Tshering sworn in as Bhutan's new prime minister"۔ The New Indian Express۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 نومبر 2018۔
  15. :35۔ "Lotay Tshering sworn in as Bhutan's new prime minister - Xinhua | English.news.cn"۔ Xinhuanet.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 نومبر 2018۔
  16. "New PM's Cabinet inaugurated in Bhutan"۔ English.kyodonews.net۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 نومبر 2018۔
  17. "Bhutan's Newly Elected Prime Minister Lotay Tshering Unveiled The 10 Cabinet Ministers On 3 November 2018"۔ www.bhutantimes.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔