لوہار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لوہار
Blacksmith
Kovář při práci (Velikonoční trhy na Václavském náměstí) 055.jpg
لوہار
کاروبار
قسم پیشہ
Activity sectors روزگار
وضاحت
استعداد جسمانی طاقت، تَشکیل تصوّر
شعبہ_جاتِ_ملازمت فنکار، کاریگر
متعلقہ_ملازمتیں بیطار

لوہے کے دھات پر جو شخص كام كریا ہے اسے لوہار کہتے ہیں۔ لوہار کے لیے انگریزی زبان میں بلیک اسمتھ کا لفظ رائج ہے۔

یہ حقیقی خدمت گاروں میں سے ایک ہے جو پیداور میں رواجی حصہ وصول کرتا تھا اور اس کے بدلے زراعت میں استعمال ہونے والے اوزار بناتا اور ان کی مرمت کرتا تھا ۔ یہ دیگر ذاتوں کی طرح وسیع پیمانے پر کھیتوں میں مزدوری بھی کرتا تھا ۔ لوہار کی سماجی حثیت پست ہے ۔ حتیٰ خدمت گاروں میں بھی اسے غیر خالص ذات کا خیال کیا جاتا تھا ۔ جٹ اور دوسرے افراد اس سے سماجی میلاپ نہیں رکھتے تھے ۔ البتہ یہ خاکروب کی طرح اچھوت نہیں ہے ۔ حجام ، رنگریز اور دھوبی کی طرح شاید اس کی ناپاکی کی نوعیت پیشہ ہے اور غالباً یہ ایک گندا کام سمجھا جاتا ہے ۔ یا پھر اس لیے کہ لوہے کا کالا رنگ بدشگونی ہوتی ہے ۔ لیکن دوسری طرف لوہار نظر بد کے خلاف نیکی کا فسوں بھی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی ناپاکی کا سبب وہ دھونکنی ہو جو گائے کی کھال سے بنتی ہے ۔ وہ عمومی طور پر اپنے پڑوسیوں کے مذہب کا پیروکار ہے ان کی غالب اکثریت مسلمان اور کچھ سکھ ہیں باقی ہندو ہیں ۔

ماخذ[ترمیم]

بعض جگہوں پر لوہار اور ترکھانوں میں تمیز کی جاتی ہے اور بعض جگہوں پر انہیں ایک ذات کے بتایا جاتا ہے ۔ جو آپس میں شادی بیاہ کرلیتے تھے ۔ بعض علاقوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے لوہار کا بیٹا ترکھان اور ترکھان کا بیٹا لوہار کا پیشہ اپنالیتا ہے ۔ ایسا معلوم دیتا ہے کہ یہ دو الگ الگ ذاتیں ہیں ۔ کیوں کہ ان کی مشترکہ ذاتیں دو الگ الگ شاخوں میں بٹی ہوئی تھیں اور یہ آپس میں شادی بیاہ ، کھانا یا تمباکو نوشی بھی نہیں کرتے ہیں ۔ ان کی ایک شاخ کا نام دھمان اور دوسرے کا نام کھاٹی ہے ۔ دھمانا یعنی بھڑکانا اور کھاٹی یعنی کھاٹ یعنی لکڑی سے مشتق ہیں ۔

ذات[ترمیم]

لوہاروں کو تین شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ پہلی جٹ یا راجپوت جنہوں نے غربت کی وجہ سے یہ پیشہ اپنایا ۔ دوسری ستھار لوہار ہیں ۔ یہ ترکھانوں کے ستھار قبیلے کے لوگ ہیں اور انہوں نے لوہار کا پیشہ اختیار کیا ۔ سوم گاڈیا لوہار ، یہ لوہاروں کا سیلانی قبیلہ ہے ۔ یہ خود کو راجپوتانہ و شمال مغربی علاقے کے باشندے بتاتے ہیں ۔ یہ اپنے کنبوں اور اوزاروں کے ساتھ جھکڑوں پر گاؤں گاؤں پھرتے ہیں اور عمدہ قسم کا لوہے کا کام کرتے تھے ۔

روایت کے مطابق ستھار لوہار جو مسلمان ہیں اصل میں ستھار ہندو ترکھان تھے اور ان میں سے بارہ ہزار کو اکبر زبردستی ختنہ کراکر جودھپور سے دہلی لے گیا اور انہیں لکڑی کی بجائے لوہے کے کام پر لگا دیا ۔ یہ افراد سندھ سے آئے ہیں اور جہاں وہ زمینوں کے مالک ہیں اور بالعموم ملتانی لوہار کے نام سے مشہور ہیں ۔ اس طرح کے بیانات سے یہ کہانی حقیقت معلوم نہیں دیتی ہے ۔ تاہم صوبہ سندھ میں ایک شہر سٹھارجہ یہ اشارہ کرتا ہے کہ اس شہر کو اس قبیلہ نے آباد کیا ہے ۔ جٹ اور ستھار لوہار کا رتبہ گاڈیا سے بلند ہے ۔

لوہار کا کام[ترمیم]

جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہے، ایک لوہار کا بنیادی طور کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوزار اور دست یاب ساز و سامان سے لوہے کے دھات پر کام کرتا ہے۔ وہ لوہے سے مختلف سامان، ضروریات کی چیزیں بناتا ہے۔ ایک لوہار نئی چیزیں بھی بناتا ہے اور پرانی چیزوں کو درست بھی کرتا ہے۔ اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ خراب چیزوں، مثلًا زنگ آلود سامان پر پھر سے سے کام کر کے اسے نئے جیسا بنا سکتا ہے۔ اسے لوہے اور دیگر دھاتوں کی آمیزش والی اشیا بھی بنانا پڑ سکتا ہے۔

لوہے سے کئی قسم کی زوزمرہ کی چیزیں بنتی ہیں۔ ان کی کچھ اقسام ذیل میں درچ ہیں: 1۔ روز آنہ آمد و رفت کی سواریاں: اس میں کاریں، ٹرک، بسیں اور ٹرینیں شامل ہیں۔
2۔ بجلی کے آلات: اس میں ریفریجریٹر، واشنگ مشین، کپڑوں کے ڈرائر، چولہے اور ڈش واٹر شامل ہیں۔[1]
3۔ کئی گھریلو فٹنگز جیسے کہ دروازے اور کھڑکیاں لوہے سے بنتی ہیں۔
4۔ لوہے، کاربن اور دیگر دھاتوں کے مرکب سے اسٹیل تیار ہوتا ہے۔

پیشہ ورانہ خطرات کے امکانات[ترمیم]

1۔ جوڑوں پر زخم: چونکہ لوہار گھنٹوں سخت سطح پر کھڑے رہتے ہیں، اس لیے انہیں گھٹنوں اور جوڑوں کے زخم کے امکانات کافی زیادہ ہوتے ہیں۔
2، نصارت اور سماعت پر مضر اثر: چونکہ لوہار گرم اڑتے دھاتوں کے رو بہ رو ہوتا ہے، اس سے آنکھ اور کان کے متاثر ہونے کا کافی امکان رہتا ہے اگر حفاظتی اقدامات نہ کیے جائیں تو۔
3۔ جسم پر چھالے اور زخموں کا خطرہ تو بے حد عام ہے۔
4۔ متعفن دھواں اور زہریلی گیس: متواتر دھوؤں کی ناخوش گوار بو اور زہریلی گیس سے صحت پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔
دھات کے دھوئیں کا بخار: یہ جست کے جلانے سے ہو سکتا ہے۔[2]

کام اور حفاظتی اقدامات[ترمیم]

لوہار کا کام اکثر لوہے کی چنگاریوں اور ہتھوڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں ذرا سی بھی غفلت سیدھے آنکھوں، جلد اور ہاتھ پاؤں کو جلا دے سکتی ہے۔ اس وجہ سے لوہار اکثر حفاظتی دستانے اور اپنا مخصوص لپاس ایپرن پہنتے ہیں تاکہ وہ اس شدید گرمی سے خود کی حفاظت کر سکیں جو ان کے روزمرہ کے کاموں کا اہم حصہ ہے۔ یہ لوگ کبھی بھی لوہے کو غیر محفوظ طور پر ہاتھ سے نہیں چھوتے۔[3] لوگوں کو بر سر عمل لوہار کے قریب بھی جانے سے منع کیا جاتا ہے تاکہ کوئی ناگہانی واقعہ نہ پیش آئے۔


مصادر[ترمیم]

پنجاب کی ذاتیں ۔ سر ڈیزل ایپسن

ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا ۔ ای ڈی میکلین ، ایچ روز

حوالہ جات[ترمیم]