لکشمی اگروال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لکشمی اگروال
Laxmi of India (12935659283).jpg
اگروال واشنگٹن میں انعام حاصل کرتی ہوئیں

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جون 1990ء (عمر 30 سال)
نئی دہلی
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات آلوک دکشت
اولاد 1 (پیہو نام کی بیٹی)
تعداد اولاد 1   ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فعالیت پسند،  ٹیلی ویژن میزبان،  حامی حقوق نسواں  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت تیزاب کی فراخت پر پابندی
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

لکشمی اگروال (انگریزی: Laxmi Agarwal) (ولادت: 1 جون 1990ء) ایک ٹی وی میزبان ہیں جن پر تیزابی حملہ کیا گیا تھا مگر اس میں ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوا البتہ ان کا چہرہ پورا جھلس گیا۔ وہ تیزابی حملہ کے مظلومین کے حق لیے لڑتی ہیں۔[1] 2005ء میں ان کے عشق نعیم خان نے ان سے رومانی و جسمانی تعلقات قائم کرنے کی کوشش جسے انہوں نے مسترد کر دیا جس کے جواب میں نعیم نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔[1][2][3] اس وقت وہ محض 16 برس کی تھیں۔[4] ہندوستان ٹائمز نے تیزابی حملہ کے مظلومین کے سلسلہ میں ان کی کہانی بھی بیان کی۔[5] اس کے بعد انہوں نے تیزابی حملہ کے مظلومین کے لڑنے کا عزم کیا۔ ان کی ایک پٹیشن عدالت عظمی تک گئی جس میں عدالت نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو حکم دیا کہ تیزاب کی خرید و فروخ کی نگہبانی کی جائے وہیں پارلیمان کو ہدایت نامہ جاری کیا کہ تیزابی حملہ کے مظلومین کے قضایا کو آسان کیا جائے۔ وہ پہلے بھی چھانو فاونڈیشن کی رکن رہ چکی ہیں۔ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو تیزابی حملہ کے مظلومین کے حق میں آقاز بلند کرتا ہے۔[6]

انہوں نے تیزاب کی فروخت پر پابندی کو لے کر ایک مہم چلائی جس کے لیے 2019ء میں وزارت ترقی نسواں و اطفال، حکومت ہند، وزارت آب رسانی و حفظان صحت، حکومت ہند اور یونیسف نے انہیں اعزاز سے نوازا۔[7] 2014ء میں انہیں مشیل اوباما کے ہاتھوں بین الاقوامی با ہمت خاتون کا اعزاز ملا۔[1]

بالی ووڈ کی مشہور فلم چھپاک ان کی زندگی پر مبنی ہے جس میں دیپیکا پڈوکون نے ان کا کردار ادا کیا ہے۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Bios of 2014 Award Winners". state.gov. 07 مارچ 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. "Acid attack survivor now TV anchor". The Times of India. 
  3. "Don't stare at me, I am human too: acid attack survivor Laxmi". hindustantimes.com/. 23 جولائی 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  4. Suri، Megha. "Hate, obsession trapped acid attack victim | Delhi News – Times of India". The Times of India (بزبان انگریزی). 
  5. "Acid attack survivor Laxmi's spirit wins her a partner for life". hindustantimes.com/. 9 مارچ 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  6. Sharma، Vibha (2015-01-04). "Sheroes, the stars with acid scars". tribuneindia.com. 
  7. "लक्ष्मी को मिला अंतर्राष्‍ट्रीय महिला सशक्तिकरण सम्मान - Uttarakhand Mirror". اخذ شدہ بتاریخ 19 اپریل 2019. 
  8. "Vikrant Massey to work with Deepika Padukone in Meghna Gulzar's film on acid attack survivor – bollywood". 2018-12-19. اخذ شدہ بتاریخ 19 اپریل 2019.