لکشمی بائی تلک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لکشمی بائی تلک
لکشمی بائی تلک

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1868  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1936 (67–68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
شوہر ناراین وامن تلک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ تاریخ دان،  مصنفہ،  آپ بیتی نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان مراٹھی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

لکشمی بائی تِلک (جنم 1868ء، موت 1936ء) مہاراشٹر، ہندوستان کی ایک مراٹھی مصنفہ تھیں۔

زندگی[ترمیم]

ان کا پیدائشی نام ”منکرنیکا گھوکلے“ تھا۔ بہت کم تعلیم حاصل کرنے کے بعد سماج کے رائج رواج کے تحت لکشمی بائی کے والدین نے ان کی شادی 11 سال کی عمر میں ناراین وامن تلک سے کر دی۔ شادی کے بعد منکرنیا کو ”لکشمی بائی“ کا نام دیا گیا۔ وہ کبھی اسکول نہیں گئی تھیں؛ تاہم، ناراین وامن تلک کے زور دینے پر وہ مراٹھی پڑھنا اور لکھنا سیکھ گئیں، منکرنیکا نے زبان پر مہارت حاصل کر لی اور بعد میں خود کی آپ بیتی ”سمرتی چترے“ (स्मृतिचित्रे) بھی تحریر کی جو مراٹھی میں ایک شاہکار آپ بیتی ثابت ہوئی۔

ناراین وامن تلک ایک نمایاں مراٹھی شاعر تھے۔ جب ناراین نے مسیحیت قبول کی تو لکشمی بائی کو انتہائی حیرت ہوئی۔ رفتہ رفتہ لکشمی نے اپنی ناپسندیدگی پر قابو پا لیا اور آخر کار وہ ایک مسیحی بن گئیں۔ لکشمی بائی اپنی اس کہانی کو انتہائی سادگی سے ”Agadi Step by Step“ میں بیان کیا ہے۔[1] ناراین وامن تلک کی حوصلہ افزائی سے لکشمی بائی نے کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی عمدہ قسم کی شاعری کی۔ مزید انھوں نے اپنی آپ بیتی لکھی جس کا عنوان ”سمرتی چترے“ (स्मृतिचित्रे) تھا، جو بعد میں مراٹھی ادب کا شاہکار ثابت ہوا۔ 1934ء - 1937ء کے عرصہ میں ان کی آب بیتی چار حصوں میں شائع ہوئی تھی۔ سنہ 1950ء میں ای۔ جوزفین اِنکسٹر نے لکشمی بائی کی آپ بیتی کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جس کا عنوان ”I Follow After“ تھا۔[2]

ناراین وامن تِلک نے ایک مراٹھی رزمیہ نظم ”کرستیان“ (क्रिस्तायन) لکھنا شروع کی جس میں یسوع مسیح کے کام بیان کیے گئے تھے۔ تاہم، وہ اس کے دس ابواب ختم کرنے قبل ہی وفات پا گئے۔ لکشمی بائی نے رزمیہ نظم میں دس کی بجائے اپنے 64 ابواب کا اضافہ کر کے اس کو مکمل کر دیا۔

کتابیات[ترمیم]

اولین[ترمیم]

  • Tilak, Laksmibai. Smrtichitren. Serialized in the weekly Sanjivani.
  • Tilak, Laksmibai. Smrtichitren, Part 1. 15 December 1934.
  • Tilak, Laksmibai. Smrtichitren, Part 2. 1935.
  • Tilak, Laksmibai. Smrtichitren, Part 3, 1936.
  • Tilak, Laksmibai. Smrtichitren, Part 4. 15 December 1935. [or 1937?] 7 impressions up to 1953.
  • Tilak, Laksmibai. Smrtichitren. Abridged version, ed. K.B. Devale. Mumbai, 1940.
  • Tilak, Laksmibai. I Follow After. English tr. of Part 1 by E. Josephine Inkster. London / Madras: Oxford University Press, 1950. 353 pp.
  • Tilak, Laksmibai. Smrtichitren. Abridged version, Sahitya Akademi, Mumbai, 1958, 1968.
  • Tilak, Laksmibai. Sampurna Smrtichitren. Parts 1-4. Abhinava avrtti, ed. Ashok D. Tilak. 1st ed. 1973.
  • Tilak, Laksmibai. Smrtichitren. Abridged version, ed. H.A. Bhave, Varda Prakashan, Pune, 1987. Second impression / edition 1989.
  • Tilak, Laksmibai. Sampurna Smrtichitren. Parts 1-4. Abhinava avrtti, ed. Ashok D. Tilak. 2nd ed. 1989.
  • Tilak, Laksmibai and Devadatta Tilak. Sampurna Smritichitren. Ed. Ashok Devadatta Tilak. 3rd revised ed. Mumbai: Popular Prakashan, 1996. Containing all 4 parts, plus other scholarly apparatus (introduction, notes, index).
  • Tilak, Laksmibai. I follow after: An Autobiography. Delhi: OUP, 1998.
  • Tilak, Laksmibai. (Sanksipta) Smrtichitren. Ed. Devadatta Narayan Tilak. Mumbai: Popular Prakashan, 2000. (1st ed. 1958, 4th ed. 1996).
  • Tilak, Laksmibai. Bharali Ghagar. Ed. K.B. Devale. Mumbai, 1948.
  • Tilak, Laksmibai. 'Agadi Step by Step.’ Testimony of Lakshmibai Tilak in her own words. Ed. Ashok Devdatt Tilak. Nashik: Mayawati A. Tilak, Shantisadan, 1968.

ثانوی[ترمیم]

  • George, Anthony D. Svatantryapurvakalatila Dharmantarita Khristi Vyaktinci Atmanivedane Samajika Ani Vangmayina Abhyasa. Mumbai: Mumbai Vidyapeeth, 2007. [PhD. submitted to Bombay University on Marathi converts to Christianity of the Pre-Independence (1947) era.]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Lakshmibai Tilak, Agadi Step by Step. Testimony of Lakshmibai Tilak in her own words. Ed. Ashok Devdatt Tilak. Nashik: Mayawati A. Tilak, Shantisadan, 1968.
  2. For an excerpt, see "Archived copy"۔ مورخہ 23 جولا‎ئی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جون 2009۔