لکشمی سہگل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لکشمی سہگل
لکشمی سہگل
لکشمی سہگل

معلومات شخصیت
پیدائش 24 اکتوبر 1914  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
چنائے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 جولا‎ئی 2012 (98 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کانپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش کانپور
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
دیگر نام کپتان لکشمی سہگل
جماعت اشمالی جماعتِ ہند-مارکسی
شوہر پی کے این راؤ ( - 1940)
پریم کمار سہگل (1947- تا موت)
اولاد سبھاشنی علی
والدین ڈاکٹر سوامی ناتھن اور امّو سوامی ناتھن
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ طبیب
تصنیفی زبان ملیالم،انگریزی،ہندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
تحریک کل ہند جمہوری انجمنِ خواتین
اعزازات
پدم وبھوشن

لکشمی سہگل یا کپتان لکشمی آزاد ہند فوج کی سرگرم کارکن اور مجاہد آزادی تھیں۔ وہ آزاد ہند سرکار میں وزیرِ امورِ خواتین بھی تھیں۔

حیات نامہ[ترمیم]

ڈاکٹر لکشمی سہگل کی پیدائش 1914ء کو مدراس میں ہوئی۔ اُن کا والد ڈاکٹر سوامی ناتھن مدراس عدالتِ عالیہ کا مشہور وکیل تھا۔ اور اُن کی والدہ اَمّو کُوٹی (امّو سوامی ناتھن) کیرالا کے پالگھاٹ کی واطن تھی۔[2]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

انھوں نے کم عمری ہی میں ولایتی مصنوعات کا مقاطعہ اور شراب کے تجارتی مراکز کا محاصرہ وغیرہ میں حصّہ لیا۔ غریبوں خصوصاً خواتین کی خدمات کے لئے علمِ طب کی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔ اُنھوں نے 1938ء میں مدراس میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری تفویض کی۔ بعد میں علمِ معالجۂ خواتین اور طب تولید کی تعلیم حاصل کی۔ 1941ء میں سنگاپور گئیں۔ وہاں غریبوں کے لئے کلینک کا آغاز کیا۔ وہاں غریب بھارتی مزدوروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ 1942ء میں جاپان نے برطانیہ کو مغلوب کیا تو اُنھوں نے جنگ کے زخمیوں کا علاج کیا۔

آزاد ہند فوج[ترمیم]

1943ء میں سبھاش چندر بوس کی سنگاپور آمد سے وہ آزاد ہند فوج کی کارکن ہوئی۔ سبھاش چندر بوس نے سنگاپور میں جہادِ آزادیٔ ہند کے لئے ایک خواتین دستہ کی تشکیل کا ارادہ کیا۔ لکشمی سہگل نے کلینک کو چھوڑ کر زنانہ دستی کی تشکیل میں سرگرم رہی۔ اس کے بعد سے وہ کپتان لکشمی کے نام سے مشہور ہوئی۔ بیک وقت وہ میدانِ کارزار اور زخمیوں کے علاج میں سرگرم رہی۔ 4 مارچ 1947ء میں برطانوی افواج نے ان کو گرفتار کر کے بھارت لایا گیا۔ برطانوی افواج نے انھیں بری کر دیا۔ اس کے بعد وہ آزاد ہند فوج کے مقید کارکنوں کی رہائی کے لئے کوشاں رہی۔ انھوں نے بھارت گیر دورہ کر کے آزاد ہند فوج کے لئے کام کیا۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

انھوں نے مارچ 1947ء میں آزاد ہند فوج کے سرگرم کارکن کرنل پریم کمار سہگل سے شادی کی۔ اس کے بعد اُنھوں نے کانپور میں سکونت اختیار کی۔ اُن کی بیٹی سبھاشنی علی اشمالی سیاستدان ہے۔ فلم صنعتکار شاد علی اُن کا نواسہ ہے۔ مشور رقاصہ مرنالنی سارابھائی اُن کی بہن ہے۔

وفات[ترمیم]

19 جولائی 2012ء میں عارضۂ قلب کے سبب اسپتال میں داخل کیا گیا۔ 23 جولائی 2012ء میں کانپور کے اسپتال میں بوقتِ صبح 11:20 کو لکشمی سہگل کا انتقال ہوا[3]۔ [4]۔

سیاست[ترمیم]

1971ء میں وہ اشتمالی جماعت ہند (مارکسی) میں شامل ہوئیں۔ اور ایوانِ بالا میں نمائندگی کرتی رہی۔ 1981ء میں بھارت کی سب سے بڑی تنظیمِ خواتین کل ہند جمہوری انجمنِ خواتین کی نائب صدر رہی۔ 2002ء میں عبد الکلام کے خلاف بائیں بازو جماعتوں کی حمایت سے صدرِ جمہوریۂ ہند کا امیدوار رہی۔

اعزاز[ترمیم]

1998ء میں وہ بھارت کا امتیازی اعزاز پدم وبھوشن سے صدرِ جمہوریۂ ہند کے آر نارائن کے ہاتھوں نوازی گئیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Capt Lakshmi Sehgal, chief of INA women’s regt, is dead
  2. Kolappan، B. (24 July 2012). "A fulfilling journey that began in Madras". The Hindu. http://www.thehindu.com/news/cities/chennai/article3675707.ece۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 July 2012. 
  3. http://epaper.inquilab.com/showtext.aspx?boxid=71120903&parentid=196922&issuedate=24072012&edd123=mumbai
  4. "Freedom fighter Captain Lakshmi Sahgal dies". http://www.ndtv.com/article/india/freedom-fighter-captain-lakshmi-sahgal-dies-246468. 

بیرونی روابط[ترمیم]