لکھمی چند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لکھمی چند
معلومات شخصیت
پیدائش 12 فروری 1497  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سلطان پور لودھی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 اپریل 1555 (58 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کرتارپور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد گرونانک  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ماتا سلکھنی  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی

بابا لکھمی چند یا لکھمی داس (12 فروری 1497ء-9 اپریل 1555ء) گرو نانک سے چھوٹے بیٹے تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بابا لکھمی چند کی ولادت 12 فروری 1497ء کو ماتا سلکھنی کے بطن سے سلطان پور لودھی موجودہ کپورتھلہ، پنجاب، بھارت میں ہوئی۔ بکرمی سمبت کے حساب سے ان کی ولادت 19 فالگن 1553 کو ہوئی۔ اپنے بڑے بھائی سری چند کے برخلاف لکھمی چند نے شادی کی اور ایک گھریلو زندگی بسر کی۔ پنجاب کا بیدی خاندان یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ لکھمی چند کی اولادیں ہیں۔

بیدی خاندان[ترمیم]

سکھ مت کی متون میں بیدی خاندان کا آبائی تعلق گرو نانک کے دوسرے بیٹے لکھمی چند سے بتایا جاتا ہے۔ لوگ انہیں احتراما بابا لکھمی چند مہاراج کہا کرتے تھے۔ سکھ روایات کے مطابق بابا لکھمی مہاراج شکار کے بہت زیادہ شوقین تھے اور انہوں نے جنگل کے اندر جا کر کئی خطرناک جانوروں کا شکار کیا تھا۔ لیکن بعد میں انہوں نے چھوٹے کا شکار کرنا بند کر دیا۔[1]

بھائی کی نصیحت[ترمیم]

بابا سری چند مہاراج نے بڑے بھائی اور صوفی ہونے کے ناطے انہیں نصیحت کی کہ خدا کے دربار میں جب انصاف کا ترازو سب کے سامنے ہو گا اور نامہ اعمال تولا جائے گا تب انہیں جانوروں کے قتل کا حساب دینا ہوگا۔ بابا لکھمی چند اس نصیحت سے بہت دل برداشتہ ہوئے اور غصہ میں اپنی اہلیہ ماما دھنونتی اور اپنے نومولود بیٹے بابا دھرم چند کے پاس آئے اور ان دونوں کو گھوڑے پر سوار کراکر اپنے بھائی اور ان کے اہل خانہ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ انہیں نے بھائی سے بس اتنا کہا کہ وہ ‘سچ کنڈ‘ (سچائی کا گھر) جا رہے ہیں تاکہ اپنے تمام قتل کا حساب دے سکیں۔

بابا دھرم چند[ترمیم]

ان کے بیٹے کا نام بابا دھرم چند تھا اور ان کی شادی بابا اتم دیوان چند اور بی بی لاجونتی کی بیٹی سے ہوئی۔ ان سے دو بیٹے پیدا ہوئے جن کے نام مانک چند اور مہر چند تھے۔

وفات[ترمیم]

ان کا کرتارپور (نزد راوی) میں 13 بیساکھ 1612 (بکرمی سمبت) مطابق 9 اپریل 1555ء میں انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • Kohli, Surindar Singh, ed., Janam`idkhi Bhai Bald. Chandigarh
  • Vir Singh, Bhai cd., Purdtan Jannm Sdkhi. Amritsar, 1982
  • Sant-okh Singh, Bhai, Sn Gur Pratdp Suraj Granth. AmriLsar, 1927-33
  • Chhibbar, Kesar Singh, Kansdvalindmd Dasdn Pdfshdhidn Kd. Chandigarh, 1972
  • Macanliffc, M.A., The Sikh Religion. Oxford, 1909
  • Notes of Udasin Mahant Bikram Das