لہو گروہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اس وقت انسانی خون کی 30 مختلف سسٹم system کے تحت درجہ بندی کی جا سکتی ہے جس میں روزمرہ زندگی میں ABO اور Rh (یعنی Rhesus ) سسٹم سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ ABO سسٹم میں خون کے چار گروپ ہوتے ہیں یعنی AB, B, A اور O جبکہ Rh سسٹم ان ہی چاروں گروپ کو positive یا negative میں تقسیم کر دیتا ہے جس سے یہ آٹھ گروپ بن جاتے ہیں.

ABO سسٹم[ترمیم]

بلڈ گروپ کا دارومدار خون کے سرخ خلیوں پر A اور B اینٹی جن antigen کی موجودگی یا غیر موجودگی پر ہوتا ہے














٭جن لوگوں کا بلڈ گروپ A ہوتا ہے انکے خون کے سرخ خلیات RBC پر A اینٹی جن antigen موجود ہوتا ہے جبکہ انکے پلازمہ میں اینٹی B اینٹی باڈی antibody پائ جاتی ہے جو حاملہ ماں سے اسکے بچے تک نہیں پہنچ سکتی۔
٭جن لوگوں کا بلڈ گروپ B ہوتا ہے انکے خون کے سرخ خلیات RBC پر B اینٹی جن antigen موجود ہوتا ہے جبکہ انکے پلازمہ میں اینٹی A اینٹی باڈی antibody پائ جاتی ہے جو حاملہ ماں سے اسکے بچے تک نہیں پہنچ سکتی۔
٭جن لوگوں کا بلڈ گروپ AB ہوتا ہے انکے خون کے سرخ خلیات RBC پر A اورB دونوں اینٹی جن antigen موجود ہوتے ہیں جبکہ انکے پلازمہ میں دونوں اینٹی باڈی antibody نہیں پائ جاتیں ۔
٭جن لوگوں کا بلڈ گروپ O ہوتا ہے انکے خون کے سرخ خلیات RBC پردونوں اینٹی جن antigen موجود نہیں ہوتے جبکہ انکے پلازمہ میں دونوں اینٹی باڈی antibody پائ جاتی ہیں۔


Phenotype Genotype
A AA or AO
B BB or BO
AB AB
O OO


اینٹی A اینٹی باڈی antibody خون کے ان سرخ خلیات RBC پر عمل کرتی ہے جن بر A اینٹی جن antigen موجود ہوتا ہے اور انہیں باہم چپکا agglutinate کر توڑنے کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح اینٹی B اینٹی باڈی antibody بلڈ گروپ B کے سرخ خلیات کی دشمن ہوتی ہے۔

Rhesus یا Rh سسٹم[ترمیم]

جن لوگوں کا بلڈ گروپ positive ہوتا ہے انکے خون کے سرخ خلیات RBC پر Rhesus اینٹی جن antigen موجود ہوتا ہتاے جبکہ انکے پلازمہ میں اینٹی Rhesus اینٹی باڈی antibody نہیں پائ جاتی ہے۔
جن لوگوں کا بلڈ گروپ negative ہوتا ہے انکے خون کے سرخ خلیات RBC پر Rhesus اینٹی جن antigen موجود نہیں ہوتا ہے اور انکے پلازمہ میں بھی اینٹی Rhesus اینٹی باڈی antibody نہیں پائ جاتی۔ یعنی اینٹی Rhesus اینٹی باڈی قدرتی natural اینٹی باڈی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی negative شخص کو پہلی دفعہ positive خون لگ جاۓ تو بلڈ ری ایکشن نہیں ہوتا مگر اب اس شخص میں اینٹی Rhesus اینٹی باڈی بن جاتی ہیں جو آئندہ positive خون کے لگاۓ جانے پر جان لیوا ری ایکشن کر سکتی ہیں۔


Rhesus یا Rh سسٹم اور حمل[ترمیم]

ایک positive بلڈ گروپ کی خاتون کے حمل میں بچے کو کوئ خطرہ نہیں ہوتا.
ایک negative بلڈ گروپ کی خاتون کے پہلے حمل میں بچے کو کوئ خطرہ نہیں ہوتا خواہ وہ positive بلڈ گروپ کا بچہ ہو یا negative کا۔ مگر جب ایک negative بلڈ گروپ کی حاملہ خاتون positive بلڈ گروپ کے بچے کو جنم دیتی ہے تو دوران زچگی بچے کے کچھ سرخ خلیۓ ماں کے دوران خون میں شامل ہو کر ماں میں اینٹی Rhesus اینٹی باڈی antibody بنانے کا سبب بنتے ہیں (جو حاملہ ماں سے اسکے بچے تک پہنچ سکتی ہیں) اور مستقبل میں ہونے والے حمل کے دوران ماں کے جسم میں پرورش پاتے بچے کے سرخ خلیات کو توڑنے اور حمل ضائع ہونے کا سبب بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ negative بلڈ گروپ کی خاتون اگر positive بلڈ گروپ کے بچے کو جنم دے تو اسے جلد از جلد اینٹی Rhesus اینٹی باڈی کا انجکشن (مثلا RHEOGRAM ) لگا دیا جاتا ہے جو ماں کے خون میں داخل شدہ بچے کے سرخ خلیات کو تباہ کر دیتا ہے اور ماں کے جسم کو خود اینٹی Rhesus اینٹی باڈی بنانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسطرح مستقبل میں ہونے والے حمل کے دوران اس ماں کے جسم میں پرورش پاتے بچے کو خطرہ نہیں رہتا۔
اگر positive بلڈ گروپ کے بچے کی پیدائش کے بعد negative بلڈ گروپ کی خاتون کو یہ اینٹی Rhesus اینٹی باڈی کا انجکشن نہ لگے تو اسکے ہر اگلے positive بلڈ گروپ کے بچے کا دوران حمل مرنے کا خطرہ بڑھتا چلا جاۓ گا۔
negative بلڈ گروپ کی خواتین کے لیۓ بہتر یہی ہے کہ وہ negative بلڈ گروپ کے کسی مرد سے شادی کریں۔ اسطرح بچے بھی negative بلڈ گروپ کے ہوں گے اور حمل کے خطرات سے محفوظ رہینگے۔

انتقال خون Transfusion[ترمیم]

جب کسی مریض کو خون دیا جاتا ہے تو مریض کی اپنی اینٹی باڈی اور انتقال شدہ سرخ خلیات کے درمیان ری ایکشن کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے جبکہ مریض کے اپنے سرخ خلیات اور انتقال شدہ اینٹی باڈی کے درمیان ری ایکشن کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔


ویسے تو ہر مریض کو وہی خون دیا جاتا ہے جیسا کہ خود اسکا اپنا خون ہے مگر کبھی کبھی جب مریض کے گروپ کا خون دستیاب نہ ہو تو دوسرے گروپ کا خون بھی (احتیاط کے ساتھ) دیا جا سکتا ہے مگر اسکے کچھ قوائد ہیں

negative گروپ کے مریض کو positive گروپ کا خون نہیں دیا جا سکتا البتہ positive گروپ کے مریض کو negative خون دیا جا سکتا ہے۔
AB گروپ کے مریض دوسرے گروپ کے لوگوں کا خون لے سکتے ہیں مگر انہیں خون دے نہیں سکتے
O گروپ کے لوگ دوسرے گروپ والوں کو خون دے سکتے ہیں مگر خود کسی دوسرے گروپ کا خون قبول نہیں کر سکتے یعنی O گروپ کے مریض کو صرف O گروپ کا ہی خون لگ سکتا ہے.
A گروپ کا انسان گروپ B کو اور B گروپ کا انسان گروپ A کو خون نہ دے سکتا ہے اور نہ لے سکتا ہے

دستیابی[ترمیم]

زیادہ تر ممالک میں گروپ O positive اور A positive بکثرت پایا جاتا ہے جبکہ گروپ AB negative بہت ہی کمیاب ہوتا ہے یعنی ایک فیصد کے لگ بھگ یا اس سے بھی کم۔

ABO and Rh blood type distribution by nation (averages for each population)
Country O+ A+ B+ AB+  O−  A−  B− AB−
Austria[1] 30% 33% 12% 6% 7% 8% 3% 1%
Australia[2] 40% 31% 8% 2% 9% 7% 2% 1%
Belgium[3] 38.1% 34% 8.5% 4.1% 7% 6% 1.5% 0.8%
Canada[4] 39% 36% 7.6% 2.5% 7% 6% 1.4% 0.5%
Denmark[5] 35% 37% 8% 4% 6% 7% 2% 1%
Finland[6] 27% 38% 15% 7% 4% 6% 2% 1%
France[7] 36% 37% 9% 3% 6% 7% 1% 1%
Germany[8] 35% 37% 9% 4% 6% 6% 2% 1%
Hong Kong, China[9] 40% 26% 27% 7% <0.3% <0.3% <0.3% <0.3%
Ireland[10] 47% 26% 9% 2% 8% 5% 2% 1%
Korea, South[11] 27.2% 35.1% 26.1% 11.3% 0.1% 0.1% 0.1% 0.05%
Netherlands[12] 39.5% 35% 6.7% 2.5% 7.5% 7% 1.3% 0.5%
New Zealand[13] 38% 32% 9% 3% 9% 6% 2% 1%
Poland[14] 31% 32% 15% 7% 6% 6% 2% 1%
Sweden[15] 32% 37% 10% 5% 6% 7% 2% 1%
UK[16] 37% 35% 8% 3% 7% 7% 2% 1%
USA[17] 37.4% 35.7% 8.5% 3.4% 6.6% 6.3% 1.5% 0.6%



وراثت[ترمیم]

  • اگر ابا اور امی دونوں کا بلڈ گروپ O ہے تو بچوں کا گروپ بھی O ہوتا ہے.یعنی A, B یا AB نہیں ہو سکتا.
  • اگر ابا اور امی دونوں کا بلڈ گروپ AB ہے تو کسی بھی بچے کا بلڈ گروپ O نہیں ہو سکتا۔ ہاں B,A اور AB ہو سکتا ہے.
  • اگر ابا اور امی میں سے کسی ایک کا بلڈ گروپ AB ہے اور دوسرے کا O تو بچوں میں سے کسی کا بھی بلڈ گروپ AB یا O نہیں ہو سکتا۔ بچے یا تو A ہونگے یا B ۔
  • اگر ابا اور امی دونوں کا بلڈ گروپ negative ہے تو بچوں کا گروپ بھی negative ہوتا ہے. مگر اگر والدین positive ہوں تو بھی انکے بچے negative ہو سکتے ہیں۔


ویسے تو ہر انسان کا بلڈ گروپ ساری زندگی ایک ہی رہتا ہے مگر انتہائ شاذ و نادر مثالیں دستیاب ہیں جن میں liver transplant اور bone marrow transplant کے بعد مریض کا بلڈ گروپ بدل گیا

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]