لتھیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(لیتھیئم سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
Lithium,  3Li
Lithium paraffin.jpg
General properties
Pronunciation/ˈlɪθiəm/, LI-thee-əm
Appearancesilvery white (seen here in oil)
Lithium in the دوری جدول
Hydrogen (diatomic nonmetal)
Helium (noble gas)
Lithium (alkali metal)
Beryllium (alkaline earth metal)
Boron (metalloid)
Carbon (polyatomic nonmetal)
Nitrogen (diatomic nonmetal)
Oxygen (diatomic nonmetal)
Fluorine (diatomic nonmetal)
Neon (noble gas)
Sodium (alkali metal)
Magnesium (alkaline earth metal)
Aluminium (post-transition metal)
Silicon (metalloid)
Phosphorus (polyatomic nonmetal)
Sulfur (polyatomic nonmetal)
Chlorine (diatomic nonmetal)
Argon (noble gas)
Potassium (alkali metal)
Calcium (alkaline earth metal)
Scandium (transition metal)
Titanium (transition metal)
Vanadium (transition metal)
Chromium (transition metal)
Manganese (transition metal)
Iron (transition metal)
Cobalt (transition metal)
Nickel (transition metal)
Copper (transition metal)
Zinc (transition metal)
Gallium (post-transition metal)
Germanium (metalloid)
Arsenic (metalloid)
Selenium (polyatomic nonmetal)
Bromine (diatomic nonmetal)
Krypton (noble gas)
Rubidium (alkali metal)
Strontium (alkaline earth metal)
Yttrium (transition metal)
Zirconium (transition metal)
Niobium (transition metal)
Molybdenum (transition metal)
Technetium (transition metal)
Ruthenium (transition metal)
Rhodium (transition metal)
Palladium (transition metal)
Silver (transition metal)
Cadmium (transition metal)
Indium (post-transition metal)
Tin (post-transition metal)
Antimony (metalloid)
Tellurium (metalloid)
Iodine (diatomic nonmetal)
Xenon (noble gas)
Caesium (alkali metal)
Barium (alkaline earth metal)
Lanthanum (lanthanide)
Cerium (lanthanide)
Praseodymium (lanthanide)
Neodymium (lanthanide)
Promethium (lanthanide)
Samarium (lanthanide)
Europium (lanthanide)
Gadolinium (lanthanide)
Terbium (lanthanide)
Dysprosium (lanthanide)
Holmium (lanthanide)
Erbium (lanthanide)
Thulium (lanthanide)
Ytterbium (lanthanide)
Lutetium (lanthanide)
Hafnium (transition metal)
Tantalum (transition metal)
Tungsten (transition metal)
Rhenium (transition metal)
Osmium (transition metal)
Iridium (transition metal)
Platinum (transition metal)
Gold (transition metal)
Mercury (transition metal)
Thallium (post-transition metal)
Lead (post-transition metal)
Bismuth (post-transition metal)
Polonium (post-transition metal)
Astatine (metalloid)
Radon (noble gas)
Francium (alkali metal)
Radium (alkaline earth metal)
Actinium (actinide)
Thorium (actinide)
Protactinium (actinide)
Uranium (actinide)
Neptunium (actinide)
Plutonium (actinide)
Americium (actinide)
Curium (actinide)
Berkelium (actinide)
Californium (actinide)
Einsteinium (actinide)
Fermium (actinide)
Mendelevium (actinide)
Nobelium (actinide)
Lawrencium (actinide)
Rutherfordium (transition metal)
Dubnium (transition metal)
Seaborgium (transition metal)
Bohrium (transition metal)
Hassium (transition metal)
Meitnerium (unknown chemical properties)
Darmstadtium (unknown chemical properties)
Roentgenium (unknown chemical properties)
Copernicium (transition metal)
Nihonium (unknown chemical properties)
Flerovium (unknown chemical properties)
Moscovium (unknown chemical properties)
Livermorium (unknown chemical properties)
Tennessine (unknown chemical properties)
Oganesson (unknown chemical properties)
H

Li

Na
heliumlithiumberyllium
جوہری عدد (Z)3
Group, periodgroup 1 (alkali metals), period 2
Blocks-block
Standard atomic weight (Ar)6.941(2)
برقی تشکیل1s2 2s1
Electrons per shell
2, 1
Physical properties
Phasesolid
نقطۂ انجماد453.69 کیلون ​(180.54 °C, ​356.97 °F)
نقطہ کھولاؤ1615 K ​(1342 °C, ​2448 °F)
کثافت near درجہ حرارت کمرہ0.534 g/cm3
when liquid, at m.p.0.512 g/cm3
Critical point(extrapolated)
3223 K, 67 MPa
سخانۂ ائتلاف3.00 جول فی مول
Heat of 147.1 kJ/mol
Molar heat capacity24.860 J/(mol·K)
بخاری دباؤ
پ (پاسکل) 1 10 100 1 کے 10 کے 100 کے
 دح پر (کیلون) 797 885 995 1144 1337 1610
Atomic properties
تکسیدی عددs+1, -1 ​strongly basic oxide
برقی منفیتPauling scale: 0.98
جوہری رداسempirical: 152 پیکومیٹر
Covalent radius128±7 pm
وانڈروال رداس182 pm
Miscellanea
قلمی ساخت ​(bcc)
Body-centered cubic crystal structure for lithium
آواز کی رفتار thin rod6000 m/s (at 20 °C)
حرارتی پھیلاؤ46 µm/(m·K) (at 25 °C)
حر ایصالیت84.8 W/(m·K)
مزاحمیت92.8 n Ω·m (at 20 °C)
مقناطیسیتparamagnetic
Young's modulus4.9 GPa
Shear modulus4.2 GPa
Bulk modulus11 GPa
موس پیمانہ0.6
کیمیائی شعبۂ اخلاص اندراجی عدد7439-93-2
Main isotopes of lithium
ہم جا Abun­dance ہاف لائف (t1/2) اشعاعی تنزل Pro­duct
6Li 7.5% 3 تعدیلوں کیساتھ Li مستحکم ہے
7Li 92.5% 4 تعدیلوں کیساتھ Li مستحکم ہے
6Li content may be as low as 3.75% in
natural samples. 7Li would therefore
have a content of up to 96.25%.
| references | in Wikidata
لتھیم

لتھیم یا سنگصر (lithium) ایک کیمیائی عنصر کا نام ہے جس کا جوہری عدد 3 ہے (یعنی اس کے ہر جوہر میں تین اولیہ ہوتے ہیں) اور انگریزی نظام میں اس کی علامت Li اختیار کی جاتی ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

اس عنصر کو ایک سنگ جواہر بنام (LiAlSi4O10) petalite میں دریافت کیا گیا تھا؛ ابتدا میں اس کی شناخت کسی القالی (alkali) خاصیت والی شے کی حیثیت سے ہوئی تھی اور اسی وجہ سے اس کو lithion کا نام دیا گیا۔ پھر اسی سے القالی میں موجود دھات کا نام lithium ماخوذ گیا گیا ہے جہاں ium ایک لاحقہ ہے برائے عنصر کے اور اسے اردو میں صر کے لاحقے سے لکھا جاتا ہے جبکہ lithium نام کا ابتدائیییی حصہ یونانی lithos سے لیا گیا ہے جس کے معنی پتھر (سنگ) کے ہوتے ہیں (کیونکہ یہ petalite پتھر میں دریافت ہوا)۔ اردو میں اس کا متبادل lithos یعنی سنگ اور ium یعنی صر (عنصر) کو ملا کر سنگصر اختیار کیا جاتا ہے۔

بہتات[ترمیم]

سنگصر دنیا میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ دنیا بھر کی کانوں سے دیڑھ کروڑ قلع سنگصر نکل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سمندروں کے پانی میں 200 ارب قلع سنگصر حل شدہ حالت میں موجود ہے۔

استعمال[ترمیم]

سنگصر بیٹریوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور پژمردگی (ڈپریشن) کے علاج میں بھی۔ مگر اس کا سب سے اہم استعمال نیوکلیئر ری ایکٹر اور جوہری ہتھیاروں میں ہے جہاں اس کی فشن سے ٹرائیٹیئم بنائی جاتی ہے جسے ڈیوٹیریئم سے فیوزن میں استعمال کرتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

1917 میں تابکاری سے حاصل ہونے والے الفا ذرات کی بوچھاڑ کو سنگصر سے ٹکرانے پر ایک عنصر سے دوسرے عناصر بننے کا پہلی دفعہ مشاہدہ کیا گیا۔
1932 میں کوکروفٹ اور والٹن نے اولیہ کو بلند وولٹیج سے تیز رفتار بنا کر سنگصر 7Li سے ٹکرایا جس سے بلوصر (بریلیئم) 8Be کا جوہر وجود میں آیا لیکن نا پائیدار ہونے کی وجہ سے وہ فوراً ٹوٹ کر شمصر بن گیا۔ جوہر کے مرکزے کو اس طرح پہلی دفعہ توڑا گیا۔

کاسل براوو کا تجربہ[ترمیم]

یکم مارچ 1954 کو امریکا نے Castle Bravo میں ایک آبگرقنبلہ (ہائیڈروجن بم) کا تجربہ کیا لیکن توقع کے برخلاف یہ دھماکا ضرورت سے کہیں زیادہ بڑا ثابت ہوا۔ اس وقت تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف 6Li میں fission ممکن ہے۔ بعد کی تحقیق سے پتا چلا کہ 7Li بھی تعدیلہ (نیوٹرون) جذب کر کے ٹرائیٹیئم بناتا ہے جو آبگرقنبلہ کا اہم ترین اور مہنگا ترین ایندھن ہے لیکن ناپائیداری کی وجہ سے اسے ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وجہ سے پانچ کی بجائے پندرہ میگا ٹن کا دھماکا ہو گیا۔ صرف ایک ثانیہ (سیکنڈ) میں سات کلومیٹر بڑا آگ کا گولا بن گیا۔ امریکا نے آج تک اس سے بڑا دھماکا نہیں کیا۔ دھماکے کی جگہ پر دو کلو میٹر بڑا گڑھا پڑ گیا جو اتنا گہرا تھا کہ حبیب بینک پلازہ جیسی عمارت بھی اس میں با آسانی سما جائے۔

جوہری ایندھن[ترمیم]

ہلکے عناصر میں سنگصر وہ واحد عنصر ہے جس میں fusion کی بجائے fission اور توانائی کا اخراج ممکن ہے۔
آبگرقنبلہ میں سنگصر ڈیوٹیرائیڈ سب سے اہم جز ہوتا ہے جو سنگصر اور ڈیوٹیریئم کا مرکب ہے۔ اس میں سنگصر میں فشن ہوتا ہے جبکہ ڈیوٹیریئم فیوزن میں استعمال ہوتا ہے۔ سنگصر ڈیوٹیرائیڈ پائیدار ہوتا ہے اور بم فائر کرنے پر نا پائیدار ٹرائیٹیئم بھی بناتا ہے۔

قدرتی طور پر پائے جانے والے سنگصر کے ہر 13 جوہروں میں سے 12 جوہر 7Li کے ہوتے ہیں اور صرف ایک جوہر 6Li کا۔
سنگصر6 کے دو جوہروں سے شمصر4 کے تین جوہر بن سکتے ہیں جبکہ سنگصر7 اولیہ (پروٹون) جذب کر کے شمصر4 کے دو جوہر بناتا ہے اور 17.34MeV توانائی خارج کرتا ہے۔[1]
تعدیلہ (نیوٹرون) پر کوئی برقی چارج نہیں ہوتا اس لیے اس کی رفتار ذراتی مسرع سے کنٹرول نہیں کی جا سکتی۔ اس کے برعکس اولیہ کی توانائی پارٹیکل ایکسلیریٹر کی مدد سے باآسانی بڑھائی جا سکتی ہے۔

7Li سے تعدیلہ کا عمل جاذب حرارت (endothermic) ہوتا ہے اس لیے صرف وہی تیز رفتار تعدیلہ 7Li کو توڑ سکتے ہیں جن کی توانائی 40 لاکھ برقی وولٹ سے زیادہ ہو۔ ایسے تیز رفتار تعدیلہ نویاتی اسلحہ (ایٹم بم) اور نیوکلیئر ری ایکٹر کے اندر یورینیئم کے مرکزے کے ٹوٹنے سے نکلتے ہیں۔

7
3
Li
 
n  →  4
2
He
 
3
1
T
 
n

اس عمل میں 2.466 MeV توانائی جذب ہوتی ہے۔[2]

اس عمل سے نہ صرف قیمتی ٹرائیٹیئم بنتی ہے بلکہ ایک سست رفتار تعدیلہ (Thermal neutron) بھی بنتا ہے جس کی رفتار صرف 2.2 کلو میٹر فی ثانیہ ہوتی ہے اور جو 6Li سے عمل کرتا ہے جس سے مزید ٹرائیٹیئم بنتی ہے اور MeV 4.8 توانائی کا اخراج بھی ہوتا ہے۔

6
3
Li
 
n  →  4
2
He
 
2.05 MeV  3
1
T
 
2.75 MeV  )

ٹرائیٹیئم کا ڈیوٹیریئم سے فیوزن نسبتاً آسانی سے ہوتا ہے

3
1
T
 
2
1
D
 
→  4
2
He
 
n

اس عمل میں 17.6 MeV توانائی خارج ہوتی ہے جو ایک بہت بڑی مقدار ہے۔ خارج ہونے والے اس تعدیلہ کی توانائی 14.1 MeV ہوتی ہے اور رفتار 52,000 کلومیٹر فی ثانیہ (سیکنڈ) ہوتی ہے یعنی روشنی کی رفتار کا 17 فیصد ہوتی ہے۔ یہ تیز رفتار تعدیلہ ایسے بھاری مرکزوں (heavy nuclei) کو بھی با آسانی توڑ دیتے ہیں جو عام طور پر نہ ٹوٹنے والے (non fissile) کہلاتے ہیں مثلاً یورینیئم 238 جس سے ایٹمی ہتھیاروں کا بیرونی خول بنا ہوتا ہے۔
امریکا میں لگ بھگ 65 فیصد نیوکلیئر ری ایکٹر ایسے ہیں جو 6Li بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ یہ 6Li چین اور روس میں 7Li سے الگ کیا جاتا ہے۔ امریکا میں یہ 1963 تک بنایا جاتا تھا مگر بہت بڑی فالتو مقدار بن جانے کے بعد امریکا نے اسے بنانا بند کر دیا تھا۔ اس فالتو مقدار کا ذخیرہ اب ختم ہونے کے قریب ہے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.alternative-energy-action-now.com/aneutronic-fusion.html
  2. Hisham Zerriffi (January 1996). "Tritium: The environmental, health, budgetary, and strategic effects of the Department of Energy's decision to produce tritium". Institute for Energy and Environmental Research. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2010. 
  3. نیو یارک ٹائمز