لیلٰی عامریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(لیلٰی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
اگر یہ آپ کا مطلوبہ صفحہ نہیں تو دیکھیے، لیلٰی (ضد ابہام)

ليلى العامرية ( سنہ پیدائش: 28 هـ ، جائے پیدائش:نجد ) عربی شاعرہ تھی۔ اس کا تعلق قبيلہ هوازن سے تھا۔ وہ مجنوں یعنیقيس بن الملوح کی محبوبہ اور معشوقہ تھی۔ اس کی زندگی کا زمانہ خلیفہ مروان بن الحكم وعبد الملك بن مروان کا زمانہ تھا۔ اس نے عرب کی دیہات میں زندگی بسر کی۔ [1]

نسب نامہ[ترمیم]

ليلى بنت مہدي بن سعد بن مزاحم بن عدس بن ربيعہ بن جعده بن كعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعه من هوزان بن منصور بن عكرمہ بن خفصه من قيس عيلان ۔ اس کی کنیت ام مالک تھی۔

داستان عشق[ترمیم]

لیلٰی بني عامر، مجنوں یعنی قيس سے چار سال چھوٹی تھی۔ وہ النجوع شہر میں پیدا ہوئی۔ [2] دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے دونوں ایک ساتھ اپنے مویشی چرایا کرتے تھے۔ جب لیلی بڑی ہوئ تو قیس سے پردہ کرنے لگی۔ لیکن اس سے قیس کے عشق کی آگ اور بھڑک اٹھی۔ لیلی سے اس درجہ وارفتگی و عشق کی وجہ سے قیس کو مجنوں کا لقب دیا گیا۔ قیس نے گھر کو چھوڑا کہ لیلی سے اس کی شادی ہو جائے۔ ان کی محبت کی شہرت عرب میں پھیل گئی۔ وہ وارفتگی کے عالم میں شعر گنگناتا اور ویرانوں کی خاک چھانتا جگہ جگہ گھومنے لگا۔ کبھی اسے شام، کبھی نجد اور کبھی حجاز میں دیکھا گیا۔ با لآخر اسے پتھروں کے درمیان مردہ حالت میں پایا گیا اور اس کے گھر والے اس کی لاش  اٹھا کر لے گئے۔[3].

اشعار[ترمیم]

لیلی بھی قیس کی محبت کی گرفتار تھی اس کے اشعار اس بات کے گواہ ہیں:

[4]}}
كِلانا مُظهرٌ للناسِ بُغضاًوكلٌّ عندَ صاحبهِ مكينُ
تبلّغنا العيون بما أَردناوَفي القلبينِ ثمّ هَوىً دفينُ
وَأَسرار اللّواحظِ ليسَ تَخفىوَقد تغري بِذي الخَطأ الظنونُ
وَكَيف يَفوتُ هَذا الناس شيءوَما في الناسِ تظهرهُ العيونُ