لیلیٰ مراد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لیلیٰ مراد
(عربی میں: ليلى مراد ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Leila Mourad 3.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 17 فروری 1918[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ[2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 نومبر 1995 (77 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt.svg مصر[2]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات انور وجدی
فطین عبدالوہاب  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ذکی مراد[3]  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
منیر مراد  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ادکارہ[2]،  گلو کارہ[2]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

لیلیٰ مراد (انگریزی: Leila Mourad) ایک مصری گلوکارہ اور اداکارہ تھیں۔ وہ اپنے دور میں مصر اور پوری عرب دنیا کے سب سے ممتاز سپر اسٹارز میں سے ایک تھیں۔ ان کی پیدائش قاہرہ کے ال داہر ضلع میں 1918ء میں بطور للین ذکی مراد موردچائی ایک مصری یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں جو حب الوطنی کے لیے مشہور ہے۔ بعد میں انہوں نے اسٹیج نام کے طور پر اپنا نام بدل کر لیلیٰ مراد رکھ لیا۔ لیلیٰ نے تین شادیاں کیں لیکن تینوں طلاق پر منتج ہوئیں۔

زندگی[ترمیم]

لیلیٰ مراد 17 فروری 1918ء کو اپنے والدین ابراہیم زکی مراد موردچائی اور جمیلہ ابراہیم روشو کے ہاں پیدا ہوئیں، جمیلہ ابراہیم روشو، روشو کی بیٹی تھیں جو بیسویں صدی کے اوائل میں کنسرٹ کے مقامی ٹھیکیدار تھے، جنہوں نے زکی مراد کو کنسرٹس اور شادی کی تقریبات میں گانے کے لیے باقاعدگی سے بک کیا تھا۔ [4][5][6][7] اس کے والد ایک ممتاز گلوکار، موسیقار، اور مذہبی یہودی کنٹر (حزان) تھے۔ ان کے بھائیوں میں سے ایک، منیر مراد ایک اداکار اور موسیقار تھے۔

اس نے نو سال کی عمر میں قاہرہ کے سب سے کامیاب میوزک ہالوں میں سے ایک صلاۃ بدیع میں اپنا پہلا اسٹیج پروگرام پیش کیا۔ تھیٹر کی بنیاد اداکارہ اور رقاصہ بدیہ مسابنی نے 1926ء میں رکھی تھی جو مراد کی سرپرست بنیں۔ [8] پندرہ سال کی عمر میں اس کی پہلی فلم 1932ء میں آئی تھی، جو اصل میں ایک خاموش فلم کے طور پر بنائی گئی تھی۔

اس کی تربیت اس کے والد اور داؤد حسنی نے کی وہ بھی یہودی تھے۔ حسنی نے عربی زبان میں پہلا اوپیریٹا مرتب کیا تھا۔ مزید کامیابی اس وقت ملی جب ممتاز مصری موسیقار محمد عبد الوہاب نے اسے گاتے ہوئے سنا اور انہیں 1938ء میں اپنی فلم یحییٰ الحب میں ایک کردار دیا۔

1953ء میں انہیں ام کلثوم کی بجائے مصری انقلاب کی سرکاری گلوکارہ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اس کے فوراً بعد ایک افواہ کہ لیلی مراد نے اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں ان کا خاندان بھی تھا، اور انہوں نے فوج کو بڑی رقم بھی عطیہ کی۔ اس نے جاسوسی کے شبہات کو جنم دیا اور بعض عرب ریڈیو اسٹیشن ان کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی۔ [9] اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے اسرائیل کی فوج کے لیے رقم دی تھی۔ مصری حکومت نے تحقیقات کی اور اس نتیجے پر پہنچی کہ گلوکارہ کے خلاف الزامات بے بنیاد تھے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0609952 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 جولا‎ئی 2016
  2. ^ ا ب پ ت ٹ مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.oxfordreference.com/view/10.1093/acref/9780195382075.001.0001/acref-9780195382075 — مدیر: ایمائنول کواکو اور ہینری لوئس گیٹس — عنوان : Dictionary of African Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسISBN 978-0-19-538207-5
  3. http://www.amar-foundation.org/zaki-murad/ — اخذ شدہ بتاریخ: 21 ستمبر 2018
  4. "منير مراد۔۔ التهميش والطائفة والترفيہ". جريدة الرياض (بزبان عربی). اخذ شدہ بتاریخ 25 جون 2020. 
  5. Zaki، Tawfiq Abdel Hamid (1993). "Family Musical Groups. (AR: أسر موسيقية)". The contemporary pioneers of the arabic music (AR: المعاصرون من رواد الموسيقى العربية). Egypt – The Middle East.: The General Egyptian Book Organization. صفحات 83–86. 
  6. Laila Murad the daughter of the famous Egyptian Jewish composer Zaki Mourad 
  7. "ET commemorates birth anniversary of legendary Leila Mourad". Mourad was born to Ibrahim Zaki Mourad Mordechai and Gamilah Salmon. Her father, an Egyptian Jew, was a respected singer, musician, and religious Jewish cantor, Hazzan. Her mother was a Jewish Egyptian of Polish origins. 
  8. Danielson, Virginia (1977) The Voice of Egypt. Umm Kulthum, Arabic song, and Egyptian society in the twentieth century. AUC Press, Cairo. آئی ایس بی این 977 424 386 2۔ pp.48,67
  9. Beinin, Joel (1998)۔ The Dispersion of Egyptian Jewry۔ University of California Press. 1st edition. p. 84.