لیلی بعلبکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لیلی بعلبکی
(عربی میں: ليلى بعلبكي ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1934 (عمر 84–85 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بیروت  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Lebanon.svg لبنان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ناول نگار، صحافی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

لیلی بعلبکی (پیدائش: 1936ء ) لبنان کی ممتاز ناول نگار اور صحافی ہیں جن کا ناول انا احیاء (میں زندہ ہوں) بہت مشہور و معروف ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

لیلی بعلبکی کی ولادت 1936ء کو بیروت، لبنان کے ایک تجارت پیشہ شیعہ گھرانے میں ہوئی۔[1] ابھی کم سن ہی تھیں کہ عام رسم و رواج کے مطابق والدین نے کسی نادیدہ مہربان کے ساتھ شادی طے کردی، لیکن رسم و رواج کے عین خلاف لیلی نے صریح طور پر انتخاب کو رد کر دیا۔ لیلی نے بیروت کی جیسٹ یونیورسٹی میں تعلیم پائی، گو عارضی طور پرانہیں سلسلۂ تعلیم منقطع کرنا پڑا اور اس دوران لبنانی پارلیمنٹ میں سیکریٹری کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنی پڑی۔ لیلیٰ بعلبکی نے یورپ میں ایک سالہ وظیفہ ملنے کی وجہ سے پارلیمنٹ کی نوکری چھوڑ دی، جس کے تجربات بعد میں ان کی تحریروں میں آزادیٔ اظہار کی صورت میں جا بجا ملتے ہیں۔ 1960ء میں چند ماہ کے لیے لیلی کا پیرس میں قیام رہا، آخرالامر انہوں نے اپنی پسند سے لبنان کے ایک مسیحی شخص کے ساتھ شادی کرلی۔[2]

ادبی خدمات[ترمیم]

لیلی نے ادبی زندگی کا آغاز مقامی اخبار اور رسالے بطور صحافی سے شروع کیا۔[1] لیلی کی تصانیف میں دو ناول ہیں جن میں پہلا "انا احیاء" (میں زندہ ہوں) کافی مشہور ہوا۔ یہ انہوں نے کم عمری میں لکھا تھا لیکن اشاعت کے مراحل سے 1958ء میں گزرا۔ اس کا فرانسیسی ترجمہ 1960ء میں پیرس سے شائع ہو چکا ہے۔ ایک افسانوی انتخاب بھی ہے جس کا عنوان سفینہ الحنان الی القمر ہے۔ یہ 1962ء میں شائع ہوا۔ لیلی بعلبکی کی تحریر بالعموم اس ٹکراؤ اور الجھن کو پیش کرتی ہے جس کا کسی ایسے معاشرے میں رونما ہونا ناگزیر ہے جو روایت شکنی سے ہوتا ہوا جدید زندگی میں اپنی کایا پلٹ کے دردزہ میں مبتلا ہو۔ چنانچہ لیلی بعلبکی کی تحریریں آزادی نسواں، مغربیت، فرد کی آزادی اور روایت پرست معاشرے کے خلاف احتجاج جیسے معاصر مسائل پر ارتکاز کرتی ہیں۔[3]

تصانیف[ترمیم]

ناول[ترمیم]

  • 1958ء - انا احیاء (میں زندہ ہوں)
  • 1960ء - الالھا الممسوخۃ

افسانہ[ترمیم]

  • 1963ء - سفینہ الحنان الی القمر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب عرب وومن رائٹرز آن لائن
  2. عربی کہانیاں، انتخاب و ترتیب اجمل کمال، آج، کراچی، 2002ء، ص268
  3. عربی کہانیاں، انتخاب و ترتیب اجمل کمال، آج، کراچی، 2002ء، ص268-269