لیو ان ریلیشن شپ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لیو اِن ریلیشن شپ ، لیو اِن یا ہم باشی (انگریزی: Cohabitation) میں دو بالغ مرد یا عورتیں باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنے، جنسی تعلق قائم کرنے اور قانونی رشتے کے بغیر مل جل کر گھر چلانے کو کہتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کی رو سے یہ جرم نہیں کیونکہ کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے۔ یہ تعلق کچھ عرصے کے لیے ہو سکتا ہے، لمبے عرصے تک جاری رہ سکتا ہے اور کچھ جگہوں پر یہ تا حیات جاری رہتا ہے۔ لیو ان ریلیشن شپ میں عام طور سے یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس میں مرکوزیت صرف دو شخصوں کے باہمی تال میل پر ہوتی ہے۔ اس میں خاندانوں کی وابستگی یا تو بالکیہ مفقود ہو سکتی ہے یا یہ دخل برائے نام ہوتا ہے۔ چونکہ قانونی بندش کا پہلو اس میں کم ہوتا ہے، اس لیے فریقین میں تفریق کی صورت میں قانونی داؤ پیچ اور مقدمے بازی بہت کم ہوتی ہے۔ لیو ان ریلیشن شپ زیادہ تر کم وقت کے لیے ہوتے ہیں۔ لوگ کچھ وقت کے لیے ساتھ ہوتے ہیں، جیسے کہ چند مہینے اور کچھ سال۔ لیو ان ریلیشن شپ کے مشارکت دار اکثر ایک رشتے کے ٹوٹنے کے بعد دوسرے رشتے داری میں بندھ جاتے ہیں۔ اس قسم کے رشتوں کے حامی لوگ ان میں قانونی پیچیدگیوں کے نہ ہونے ساتھ ساتھ ٹوٹنے کے بعد کڑواہٹ کی کمی کو اس کی خوبی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

بھارت میں لیو اِن ریلیشن شپ[ترمیم]

بھارت کی دالت عظمٰی نے لیو اِن ریلیشن شپ کو کسی بھی طرح کا جرم تسلیم نہیں کیا۔ عدالت کے مطابق دو بالغ مرد یا عورتیں باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرنا جرم نہیں کیونکہ کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی او رفطری معاملہ ہے۔[1]

بالی ووڈ میں عکاسی[ترمیم]

بالی وڈ اکثر بر صغیر کے سماج اور سماجی اقدار کا آئینہ سمجھا جاتا ہے، اگر چیکہ ہر فلمی کہانی عام زندگی کی عکاسی نہیں کرتی۔ 2019ء میں جاری کریتی سینون اور کارتیک آرین کی مشترکہ فلم لکا چھپی لیو ان ریلیشن شپ اور خاندانی تعلقات پر مبنی تھی۔فلم کی ہیروئن نے واضح کیا کہ لیو ان ریلیشن شپ کی افادیت، موزونیت یا اس کی ذاتی طور پر قبولیت بالکلیہ افراد اور متعلقین کا معاملہ ہے اور اس پر کوئی قاعدۂ کلیہ تجویز نہیں کیا جا سکتا۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]