لی کوان یئو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لی کوان یئو
Lee Kuan Yew

GCMG CH
李光耀
Lee Kuan Yew.jpg
Prime Minister of Singapore
عہدہ سنبھالا
3 جون 1959 – 28 نومبر 1990
صدر William Goode (Governor)
Yusof Ishak
Benjamin Sheares
Devan Nair
Wee Kim Wee
ڈپٹی Toh Chin Chye
Goh Keng Swee
Goh Chok Tong
پیشرو Position established
جانشین Goh Chok Tong
Senior Minister of Singapore
عہدہ سنبھالا
28 نومبر 1990 – 12 اگست 2004
وزیر اعظم Goh Chok Tong
پیشرو S. Rajaratnam
جانشین Goh Chok Tong
Minister Mentor of Singapore
عہدہ سنبھالا
12 اگست 2004 – 21 مئی 2011
وزیر اعظم Lee Hsien Loong
پیشرو Position established
جانشین Position abolished
Secretary-General of the People's Action Party
عہدہ سنبھالا
21 نومبر 1954 – 1 نومبر 1992
پیشرو Position established
جانشین Goh Chok Tong
Member of Parliament
for Tanjong Pagar GRC
Tanjong Pagar SMC (1955–1991)
عہدہ سنبھالا
2 اپریل 1955 – 23 مارچ 2015
پیشرو Constituency established
جانشین TBD
ذاتی تفصیلات
پیدائش ہیری لی کوان یئو
16 ستمبر 1923 (1923-09-16)
سنگاپور، مستعمرات آبنائے
وفات 23 مارچ 2015(2015-30-23) (عمر  91 سال)
Singapore General Hospital، سنگاپور
سیاسی جماعت People's Action Party
شریک حیات Kwa Geok Choo (1950–2010)
اولاد Hsien Loong
Wei Ling
Hsien Yang
مادر علمی London School of Economics
فٹز ولیم
مذہب لامعرفت[1]


لی کوان یئو
چینی 李光耀

لی کوان یئو پیدائشی نام ہیری لی کوان یئو (16 ستمبر 1923 – 23 مارچ 2015) سیاست دان اور پہلے وزیر اعظم سنگا پور جنہوں نے تین دہائیوں تک حکمرانی کی۔انہیں جدید سنگاپور کا بانی ماناجاتا ہے۔اور یہ تیسری دنیا سے واحد مثال ہے کہ صرف ایک نسل کو جدید دنیا کے مقابل لا کھڑا کیا۔[2][3][4][5][6][7]

ابتدائی دور[ترمیم]

انھوں نے سنگاپور کے ایک انگریزی سکول میں تعلیم حاصل کی لیکن 1942 میں جب جاپان نے سنگاپور پر قبضہ کر لیا تو ان کی تعلیم میں تعطل آ گیا۔ اگلے تین سال وہ بلیک مارکیٹ سے جڑے رہے اور چونکہ انھیں انگریزی بولنے میں مہارت حاصل ہو گئی تھی، انھوں نے جاپان کے پروپیگینڈا کے محکمۂ میں بھی کام کیا۔جنگ کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے لندن سکول آف اکنامکس بھی گئے۔ وہاں سے کیمرج یونیورسٹی چلے گئے اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ انھیں قانون میں ’ڈبل فرسٹ‘ حاصل کرنے کا اعزاز بھی ملا۔ انگلینڈ میں اپنی قیام کے دوران مسٹر لی، بی بی سی ہوم سروس اور ریڈیو فور سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہے اور انھوں نے یورنیورسٹی کے ایک دوست کی انتخابی مہم میں بھی شرکت کی جو ڈیون کے دیہی علاقے سے پارلیمنٹ کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔ لی جو زمانۂ طالب علمی سے ہی پکے سوشلسٹ تھے سنگار پور واپس آنے کے بعد ٹریڈ یونین کے ایک نمایاں وکیل بن گئے۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

1954 میں وہ پیپلز ایکشن پارٹی کے بانی اور پہلے سیکریٹری جنرل بنے اور اگلے چالیس سالہ عرصے میں یہ عہدہ کم و بیش انہی کے پاس رہا۔ 1959 کے انتخابات میں پیپلز ایکشن پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں اور سنگاپور، برطانیہ کے مکمل کنٹرول سے نکل کر خود مختار ریاست بن گیا۔ دس سال بعد مسٹر لی نے سنگاپور کا ادغام ملیشیا کے ساتھ کر دیا لیکن اس تعلق کی عمر تھوڑی تھی۔ نظریاتی کشیدگی اور نسلی گروپوں کے درمیان میں پُرتشدد جھڑپوں کی وجہ سے سنگار پورکو فیڈریشن سے باہر نکلنا پڑا اور یہ مکمل طور پر آزاد ملک بن گیا۔ یہ فیصلہ مسٹر لی کے لیے مشکل تھا۔ وہ ملائیشیا کے ساتھ اتحاد کو علاقے کے نوآبادیاتی ماضی سے بالآخر چھٹکارے کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔ اس واقعہ کو انھوں نے ’تکلیف کا لمحہ‘ قرار دیا۔ان کے کچھ مخالفین نے یہ کہا کہ انھیں پارلیمانی انتخابات میں اتنی زیادہ اکثریت اور نتیجتاً سکیورٹی مل گئی تھی کہ انھیں ایسے جابرانہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کمیونزم مخالف نظریے کا توڑ کمیونزم ہے اور مغرب کے آزاد جمہورت کے تصورات کا اطلاق سنگاپور پر نہیں ہو سکتا۔ وہ کمیونزم کے خلاف تھے لیکن ان پر الزام لگا کہ انھوں نے کمیونسٹ اندازِ حکمرانی اختیار کیا تاکہ اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھا سکیں، اگرچہ کئی کمیونسٹ حکومتوں کے برعکس ان کے عہد میں سنگاپور کے لوگوں کو مالی فوائد حاصل ہوئے۔990 میں جب سات مرتبہ الیکشن جیتنے کے بعد لی نے اقتدار چھوڑا تو وہ دنیا میں وزیرِ اعظم کے عہدے پر سب سے طویل عرصے تک فائز رہنے والے شخص تھے۔[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Days of reflection for the man who defined Singapore: A transcript of Minister Mentor Lee Kuan Yew's interview with The New York Times". ٹوڈے (Singapore): pp. 14–17. 13 ستمبر 2010. Archived from the original on 13 ستمبر 2010. http://www.webcitation.org/5siZa8Szv. 
  2. Reporter: Peter Day (5 جولائی 2000). "Singapore's elder statesman". From Our Own Correspondent. BBC. World Service. 
  3. Hume، Tim (20 مارچ 2011). "The lost world of a wild tribe". Sunday Star Times (Auckland, NZ). http://www.stuff.co.nz/sunday-star-times/features/4784929/The-lost-world-of-a-wild-tribe. "His memoir sits on display in Singapore airport between biographies of founding statesman Lee Kuan Yew and Donald Rumsfeld" 
  4. "Wife of Lee Kuan Yew dies at 89". Bangkok Post. Agence France-Presse. 2 اکتوبر 2010. http://www.bangkokpost.com/print/199362. "The wife of Singapore's founding father, Lee Kuan Yew, whom the statesman called his "great source of strength and comfort"" 
  5. "US, Japan must help out Asia, says Kuan Yew". New Sunday Times. Reuters (Kuala Lumpur). 22 جنوری 1998. http://news.google.com/newspapers?id=luYVAAAAIBAJ&sjid=-RQEAAAAIBAJ&pg=2803٬1615974. "Singapore's elder statesman Lee Kuan Yew said today.۔۔" 
  6. "Lagacy of Lee Kuan Yew, 1923–2015". Meet the Press. 23 مارچ 2015. CNBC. CNBC Asia. 
  7. Cite error: حوالہ بنام BBCdeath کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  8. http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/03/150323_obituary_lee_kwan_yew_singapore_zs بی بی سی اردو