مآثر الامراء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مآثر الامراء کا فارسی نسخہ جو ایشیاٹک سوسائٹی، بنگال، کلکتہ سے 1888ء میں شائع ہوا۔

مآثر الامراء سلطنت مغلیہ کے عہدِ اکبری سے عہدِ عالمگیری تک کے مغل امرا کی سوانح اور اُن سے متعلق واقعات پر مشتمل ایک مصدقہ تاریخی تصنیف ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے زائد تک کے عرصہ میں مغل امرا سے متعلق حقائق کے لیے ایک تاریخی ماخذ ہے۔ اِسے نواب صمصام الدولہ شاہنواز خان نے اورنگ آباد (مہاراشٹر) میں مرتب کیا اور بعد ازاں اُن کے فرزند عبد الحئی خان نے دوبارہ مرتب کیا۔

تاریخ[ترمیم]

مصنف کے متعلق تفصیلی مضمون: صمصام الدولہ شاہنواز خان

اس کتاب میں سلطنت مغلیہ کے اُن مشاہیر امرا کا مبسوط و مفصل تذکرہ ہے جو مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد سے لے کر محمد شاہ کے آخر عہدِ حکومت تک گزرے ہیں۔ طائرانہ طور پر یہ 963ھ/ 1556ء سے 1155ھ/ 1742ء تک کے مغل امرا اور دکن کے امرا و مشاہیر کے سوانح و واقعات پر مشتمل ہے۔ جب 1741ء میں نواب نظام الملک آصف جاہ اول نے شاہنواز کو صوبہ برار کی دیوانی سے معزول کر دیا تھا تو وہ تقریباً 9 سال تک گوشہ نشینی و عزلت میں رہے۔ اِسی گوشہ نشینی کے عرصہ میں شاہنواز خان نے اپنی تصنیف مآثر الامراء کی ابتدا کی اور 5 سال کی مسلسل محنت سے اِس کا بہت ضخیم حصہ مدون کر لیا تھا۔ غالباً اِس کتاب کی ابتدا 1155ھ/ 1742ء میں ہوئی اور اختتام 1160ھ/ 1747ء تک ہوچکا تھا۔

میر غلام علی آزاد بلگرامی کا تصحیح شدہ نسخہ[ترمیم]

11 مئی 1758ء کو شاہنواز خان فرانسیسیوں سے جھڑپ کے دوران قتل ہوا تو اِسی جھڑپ میں اُس کا گھر تباہ ہو گیا جس میں اِس کتاب کا اصل مسودہ بھی گم ہو گیا تھا۔ شاہنواز خان کے قتل کے وقت یہ مسودہ ابھی ناتمام تھا۔ مصنف کے قتل کے بعد میر غلام علی آزاد بلگرامی نے تقریباً ایک سال کی جستجو سے اِس مسودہ ناتمام کو تلاش کر لیا۔ میر غلام علی آزاد بلگرامی شاہنواز خان کے دوست اور دبیر تھے، علاوہ ازیں وہ نواب ناصر جنگ کے استاد بھی تھے۔ یہ نو دریافت مسودہ نامکمل تھا جس میں امرا و مشاہیر کے تراجم کی تعداد 261 تھی۔ میر غلام علی آزاد بلگرامی کو جو منتشر اجزائے کتاب دستیاب ہوئے تھے، اُن کو اُنہوں نے ازسر نو ترتیب دیا اور اِس کی ابتدا میں ایک دیباچہ اور مصنف شاہنواز خان کی سوانح حیات کا اضافہ کیا۔ وسط کتاب میں امرا کے 4 تذکروں کو اپنی تصنیف سروِ آزاد سے اخذ کرکے اِس کتاب میں شامل کیا۔ شاہنواز خان کے تحریر کردہ تراجم 261 تھے جو میر غلام علی آزاد بلگرامی کے اضافہ کردہ نسخہ میں 265 ہو گئے۔

میر عبد الحئی خان کا تصحیح شدہ نسخہ[ترمیم]

شاہنواز خان کے فرزند میر عبد الحئی خان (پیدائش:1142ھ/1729ء– وفات:1196ھ/1782ء) کو 1182ھ/ 1769ء میں اِس کتاب کے مزید کچھ اجزاء مل گئے جس میں 125 امرا کے حالات تحریر تھے۔ میر عبد الحئی خان نے 12 سال کی مسلسل محنت سے اپنے والد کی تصنیف کو سنہ 1194ھ/ 1780ء تک پہنچا دیا۔ میر عبد الحئی خان نے مزید 340 امرا و مشاہیر کی سوانح حیات لکھی اور اِن سب کو حروفِ تہجی پر تقسیم کر دیا۔ میر عبد الحئی خان کا یہ مرتب کردہ نسخہ 1194ھ/ 1780ء میں تکمیل کو پہنچا۔ اِس نسخہ کے آغاز میں دیباچہ از تحریر کردہ میر عبد الحئی خان، بعد از دیباچہ میر غلام علی آزاد بلگرامی موجود ہیں اور پھر مصنف شاہنواز خان کی سوانح حیات اور پھر تراجم کی مفصل فہرست مرتب شدہ شامل ہے، اِس کے بعد کتاب کے اصل نسخہ کا آغاز ہوتا ہے۔ 1194ھ/ 1780ء کے تصحیح شدہ نسخہ میں 530 تراجم موجود ہیں۔ میر عبد الحئی خان نے پہلا تصحیح شدہ مسودہ جسے میر غلام علی آزاد بلگرامی نے مرتب کیا تھا، کو بنیاد بنایا اور اصل مسودہ کے چند گمشدہ اجزاء جو بعد میں دریافت ہوئے، اُن کو بھی شامل کر لیا، پھر 30 تاریخی کتب کی مدد سے اضافہ کیا جن کے نام کتابِ ہذا کے دیباچہ میں موجود ہیں۔1194ھ/ 1780ء میں کتاب کا اختتام ہوا اور اب موجودہ کتاب میں 1780ء تک کے امرا کی سوانح اور حالات و واقعات موجود ہیں۔

مواد[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]