مندرجات کا رخ کریں

مؤید محمد بن قاسم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مؤید محمد بن قاسم
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1582ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1644ء (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ امام   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مؤيد محمد بن قاسم (پیدائش: 1582ء – وفات: ستمبر 1644ء) وہ 1620ء سے 1644ء تک یمن میں زیدی ریاست کے امام تھے۔ وہ قاسمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو نبی محمد ﷺ کی نسل سے ہے۔ انھوں نے عثمانیوں کو مکمل طور پر یمن سے نکال باہر کیا اور عدن شہر کے علاوہ پورے ملک میں زیدی امامت کو بحال کر کے یمن کی آزادی کو مستحکم کیا۔[1] [2]

پس منظر

[ترمیم]

محمد بن امام منصور قاسم، جنھوں نے زیدی امامت کو دوبارہ زندہ کیا تھا، اپنے والد کی وفات کے بعد 1620ء میں اقتدار سنبھالا۔ اُس وقت یمن کا شمالی حصہ زیدیوں کے قبضے میں تھا، جبکہ عثمانیوں کے ساتھ ایک غیر مستحکم صلح قائم تھی۔

1622ء میں صعدہ اور اس کے اطراف کے باشندوں نے امام کو خراج (ٹیکس) دینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ امام مؤید محمد نے اپنے بھائی سیف اسلام حسن کو بغاوت ختم کرنے کے لیے بھیجا۔ حسن نے علاقائی اصلاحات کے ذریعے مقامی لوگوں کا اعتماد جیت لیا اور امام کی طرف سے گورنر مقرر ہوا۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں قاسمی خاندان کا اثر و رسوخ شمالی یمن میں بڑھ گیا۔

شمال کی قبائل نے امام کی دعوت کو پرجوش انداز میں قبول کیا اور عثمانیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں۔ جنوبی یمن کے کئی علاقے امام کے قبضے میں آ گئے اور صنعاء کا محاصرہ کیا گیا۔ اس دوران شاہ عباس کبیر کی طرف سے عراق میں ترکوں پر حملوں نے عثمانیوں کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔

عثمانیوں کی بے دخلی

[ترمیم]

1629ء میں امام مؤید محمد نے عثمانیوں سے صلح کی پیشکش کی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان کی فوجوں کو کچھ آرام ملے۔ عثمانی حاکم حیدر پاشا نے یہ تجویز قبول کی اور 9 مارچ 1629ء کو صنعاء کی چابیاں امام کے بیٹے علی کے حوالے کر دی گئیں۔ عثمانی فوجیں امام کی حفاظت میں ساحلی علاقوں کی طرف نکل گئیں اور امام کے دوسرے بیٹے یحییٰ کو صنعاء کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اسی سال تعز سمیت دیگر بڑے شہر بھی امام کے قبضے میں آگئے۔

1635ء میں عثمانیوں نے ایک بار پھر حملہ کیا مگر انھیں شکست ہوئی۔ آخر کار دونوں فریقوں نے زبید، المخا اور جزیرہ کمران جیسی جنوبی شہروں کی واگزاری پر اتفاق کیا۔ یوں یمن میں عثمانی حکومت کا پہلا دور ختم ہو گیا۔

حکمرانی اور شخصیت

[ترمیم]

امام مؤید محمد نے اپنی حکومت کا زیادہ تر حصہ عثمانیوں سے جنگ اور یمن کی قبائل کو متحد کرنے میں گزارا۔ اس مشن میں ان کے بھائی حسن (وفات 1639ء)، حسین (وفات 1640ء) اور احمد (وفات 1650ء) شریک تھے۔

امام خود بھی علمی و فقہی تحریریں لکھتے تھے۔ ان کے تیرہ قلمی نسخے محفوظ ہیں، جن میں بیشتر زیدی فقہ اور شرعی اجتہادات پر مشتمل ہیں۔ انھوں نے قبائلی اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے بعض شرعی قوانین کے نفاذ میں نرمی برتی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی المتوکل اسماعیل نے اقتدار سنبھالا، تاہم کچھ سیاسی اختلافات بھی پیدا ہوئے۔

تصنیفات

[ترمیم]

امام مؤید محمد کی ایک معروف کتاب ہے: «الاعتصام بحبل الله المتين وحرمة التفريق في الدين» (یعنی: "اللہ کی مضبوط رسی کو تھامے رہنا اور دین میں تفرقہ ڈالنے کی حرمت")[3]

اقوالِ علما

[ترمیم]

علامہ محمد بن علی شوکانی نے اپنی کتاب البدر الطالع میں امام مؤید محمد کے بارے میں لکھا:

"وہ عدل و انصاف اور شریعت کے احکام پر سختی سے کاربند رہنے میں مشہور تھے۔ نرمی مزاج، متواضع، اہلِ علم کے قدردان، غریبوں کے ہمدرد اور بیت المال کو صحیح مقامات پر خرچ کرنے والے تھے۔ ان سے پہلے کسی امام کے زمانے میں پورا یمن، بغیر کسی مخالف کے، صعدہ سے عدن تک یکجا نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے اپنے بھائیوں کی مدد سے عظیم معرکوں کے بعد پورے یمن کو متحد کیا۔ ان کی وفات 27 رجب 1054ھ کو ہوئی اور انھیں اپنے والد کے قریب شہارہ میں دفن کیا گیا۔"[4]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. خیر الدین زرکلی (2002)، الأعلام: قاموس تراجم لأشهر الرجال والنساء من العرب والمستعربين والمستشرقين (بزبان عربی) (15 ایڈیشن)، بیروت: دار العلم للملایین، ج السابع، ص 6، OCLC:1127653771، QID: Q113504685
  2. الأئمة الزيديون في اليمن آرکائیو شدہ 2016-03-04 بذریعہ وے بیک مشین
  3. أرشيف.أورج آرکائیو شدہ 2020-03-27 بذریعہ وے بیک مشین
  4. البدر الطالع بمحاسن من بعد القرن السابع (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية للنشر والتوزيع۔ 1929۔ 2020-12-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا