ماجد علی جونپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ماجد علی جونپوری
Majid Ali Jaunpuri calligraphy.png
اسم خطاطی
لقبمحدث مانوی
ذاتی
پیدائشنامعلوم
وفات1935
مذہباسلام
دور حکومتبرطانوی ہند
فرقہسنی
فقہی مسلکحنفی
تحریکدیوبندی
بنیادی دلچسپیحدیث، منطق، فلسفہ
مادر علمیدار العلوم دیوبند
مرتبہ

مولانا ماجد علی جو محدث مانوی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، جونپور، اترپردیش کے نامور سنی عالم تھے۔ آپ منطق اور حدیث میں مہارت کی بنا پر جانے جاتے تھے۔ ان کا شمار اپنے وقت کے نامور عقلا میں ہوتا ہے۔[1] مشہور ہے کہ انہوں نے سنن ابی داؤد اور سنن ترمذی کا حاشیہ لکھا تھا۔[2]

سوانح[ترمیم]

ماجد علی جونپوری جونپوری کے گاؤں مانی کلاں میں پیدا ہوئے۔[3] انہوں نے عبدالحق خیرآبادی ، لطف اللہ علی گڑھی اور عبد الحق کابلی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔[4][5] انہوں نے 1896 میں دار العلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ دو سال رشید احمد گنگوہی کے درس حدیث میں شرکت کی جب کہ عقلیات کی تعلیم عبدالحق خیرآبادی اور احمد حسن کانپوری سے حاصل کی۔[1]

ماجد علی جونپوری نے مدرسہ العربیہ گلوٹھی، اور پھر مدرسہ العربیہ، مینڈھو، علی گڑھ میں پڑھایا۔ بعد میں، انہوں نے مدرسہ العزیزیہ بہار میں پڑھایا، اور پھر مینڈھو واپس آگئے، اور پڑھانا شروع کیا۔ جونپوری کلکتہ گئے جہاں ان کو مدرسہ عالیہ کا صدر مدرس منتخب کیا گیا۔[6][7] ماجد علی جونپوری نے منطق اور فلسفہ پڑھایا۔[3][8]انہوں نے دہلی کی اسلامی مدارس میں بھی پڑھایا۔ ـ عبد الغنی پھولپوری ، شکر اللہ مبارک پوری اور سید فخر الدین احمد آپ کے ممتاز شاگردوں میں سے ہیں. [1]

علم حدیث سے اشتغال[ترمیم]

حطیب الرحمن قاسمی لکھتے ہیں:

"گو محدث مانوی منطق و فلسفہ کے امام تھے، لیکن آپ رشید احمد گنگوہی سے چار سال کے ایام میں بے حد متاثر ہوئے جب آپ ان کے حلقئہ درس میں رہے۔ پھر آپ نے دیگر علوم کے ساتھ ساتھ زیادہ تر علمِ حدیث کی خدمت کی۔ آپ کو صحاح ستہ میں بخاری شریف اور ترمذی شریف سے زیادہ لگاؤ تھا اور دونوں پر دل کی گہرائیوں سے درس دیتے۔"[9]

وفات[ترمیم]

مولانا ماجد علی کی وفات 1935 میں ہوئی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ سید محبوب رضوی. تاریخ دار العلوم (جلد 2) (بزبان انگریزی). ترجمہ بذریعہ پروفیسر مرتض حسین ف قریشی. ادارہ اہتمام، دار العلوم دیوبند. صفحہ 55. 
  2. ^ ا ب کاروانِ رفتہ. دار المؤلفین، دیوبند. صفحہ 220. 
  3. ^ ا ب "Majid Ali Manwi Jaunpuri". K̲h̲udā Bak̲h̲sh Lāʼibreri jarnal (بزبان Urdu). خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری (103): 79. 1996. اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2020. 
  4. "Majid Ali Manwi Jaunpuri". Khuda Bakhsh Library Journal (بزبان Urdu). خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری (103, 104): 168. اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2020. 
  5. "Darul Uloom". دار العلوم دیوبند. July 1979: 11–12. 
  6. Abdul Hai Hasani. al-Ilām bi man fī Tārīkh al-Hind min al-Ālām al-musamma bi Nuzhat al-Khawātir wa Bahjat al-Masāmi wa an-Nawāzir. صفحہ 1336. اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2020. 
  7. Yusuf Marashli (2006). Nathr al-jawāhir wa-al-durar fī 'ulamā' al-qarn al-rābi' ' ashar, wa-bi-dhaylihi 'Iqd al-jawhar fī 'ulamā' al-rub' al- awwal min al-qarn al-khāmis 'ashar. بیروت: Dar El-Marefah. صفحات 996–997. ISBN 9953-446-01-6. اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2020. 
  8. "Epitome of Humility: Shaykh Muhammad Ayyub A'zimi (Part One)". Deoband.org. اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2019. 
  9. ماہنامہ دار العلوم، جولائی 1979. صفحہ 11-12.