مارگریٹ ایٹ وڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مارگریٹ ایٹ وڈ

تعارف[ترمیم]

مارگریٹ الینر اٹ وڈ (Margaret Atwood) کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک معروف ادیبہ،شاعرہ، ناول نگار،تنقید نگار،مضمون نگار،استانی اور ماحولیاتی کارکن ہیں۔و ہ لونگ پین اور اس سے منسلک ٹیکنالوجیز کی موجد اور ڈیویلپر بھی ہیں جو بے واسطہ اور غیر مربوط مشینی تحریروں کے لیے سہولت پیدا کرتی ہیں۔مارگریٹ اَیٹ وُڈکی عمر اس وقت 77 برس ہے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر بہت پسند کیے جانے والے کئی ناولوں کی مصنفہ ہیں لیکن ان کا مشہور ترین ناول ’دا ہینڈمیڈز ٹیل‘ (The Handmaid's Tale) ہے۔ کینیڈا کی یہ خاتون ناول نگار ایک سرگرم سماجی کارکن بھی ہیں۔

حالاتِ زندگی اور تعلیم[ترمیم]

ایٹ وڈ ااوٹاوا،انٹاریو،کینیڈا میں 18 نومبر 1939 میں پیدا ہوئیں۔وہ کارل ایڈمنڈ ایٹ وڈ کے تین بچوں میں دوسرے نمبر پہ ہیں۔اُن کے والد ماہرِ حشریات تھے۔اُن کی والدہ مارگریٹ ڈوروتھی،وڈولے نووا سکاٹیا سے ماہرِ خوراک اور غذا ئیت تھیں۔ اپنے والد کی جنگلوں میں حشرات پہ تحقیق کی وجہ سے ایٹ وڈ کے بچپن کا زیادہ وقت شمالی قیوبک کی ناصاف شدہ جنگلی اراضی میں گزرا۔ اور وہ اوٹاوا ،سالٹ سٹے اور ٹورنٹو میں آتی جاتی رہیں۔انھوں نے مکمل طور پہ اسکول تب تک جانا نہیں شروع کیا جب تک وہ آٹھ سال کی نہیں ہوئیں۔انھوں نےلیسائڈ ہائی اسکول لیسائڈ میں داخلہ لیا اور وہاں سے 1957 میں گریجوئٹ کیا۔انھوں نے ڈرامے اور نظمیں چھ سال کی عمر میں لکھنی شروع کیں۔ایٹ وڈ نے وکٹوریا کالج جامعہ ٹورانٹو میں داخلہ لیا اور وہاں کالج کے ادبی رسالےآکٹا وکٹوریہ میں ان کے آرٹیکلز اور نظمیں چھپنے لگیں۔انھوں نے 1962 میں ریڈکلف سے ایم اے کیا۔1968 میں ایٹ وڈ نے ایک امریکی تحریر دان جم پوک سے شادی کی۔1973 میں ان کے درمیان طلاق ہو گئی۔فوراََِ بعد اپنے ایک ساتھی ناولسٹ گریمے گبسن سے تعلق بھی قائم کیا اور السٹن اوٹاریو کے نزدیک ایک فارم میں چلی گئیں۔۔اُن کی بیٹی الینر جیس ایٹ وڈ گِبسن 1976 میں پیدا ہوئی۔1980 میں اُن کا خاندان ٹورانتو منتقل ہو گیا۔

طرزِ تحریر[ترمیم]

ایک ناول نگار اور شاعرہ ہونے کے ناتا ایٹ وڈ کا کام مختلف موضوعات کا احاطہ کرتا ہے جیسا کہ زبان کی طاقت،جنس اور شناخت،مذہب اور دیومالا، ماحولیاتی تبدیلی اور اقتدار کی سیاست۔ اُن کی اکثر نظمیں روایتی دیومالائی قصوں اور پریوں کی کہانیوں کے زیرِ اثر ہیں کہ جن میں انھوں نے اپنے بچپن ہی سے دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔ ایٹ وڈ نےاپنے ناولوں میں بنی نوعِ انسان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا تخیّلاتی احوال اس کمال سے رقم کیا ہے کہ ان کو موجودہ زمانے کے سربرآوردہ لکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اُن کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں اور قارئین اُن کی ہر نئی کتاب کا شدّت سے انتظار کرتے ہیں۔

کتابیں[ترمیم]

ان کی شاعری کے سترہ مجموعے،سولہ ناول،دس غیر افسانوی کتابیں،آٹھ مختصر کہانیوں کے مجموعے،آٹھ ہی بچوں کی کتابیں،اور ایک مشرح ناول شائع ہوچکا ہے۔اخبار میں شاعری اور فکشن پہ چھوٹی چھوٹی تحریریں اس کے علاوہ ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

ایٹ وڈ اور اس کی تحریروں نے کئی ایوراڈز جیتے ہیں۔جن میں مین بکر پرائز، آرتھر سی کلارک ایوارڈ،گورنر جنرل ایوارڈ،فرینز کافکا پرائز،نیشنل بک کریٹکز اور پین سنیٹر یو ایس اے لائف اچیومنٹ ایوارڈز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کینیڈا کے ادب میں ایٹ وڈ کی شراکت کے ساتھ ساتھ گرفن پوئٹری پرائز اور رائٹرز ٹرسٹ آف کینیڈا کی خالق ہیں۔

امن انعام[ترمیم]

فرینکفرٹ کے عالمی کتاب میلے کے موقع پر جرمن کتابی صنعت کی طرف سے ہر سال دیا جانے والا امن انعام اس سال کینیڈا کی معروف مصنفہ اور شاعرہ مارگریٹ اَیٹ وُڈ کو دے دیا گیا۔ مارگریٹ اَیٹ وُڈ نے یہ اعزاز ذاتی طور پر وصول کیا۔ جرمنی کے مالیاتی مرکز اور ہر سال منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے کتاب میلے کے میزبان شہر فرینکفرٹ سے اتوار پندرہ اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے جاری امسالہ فرینکفرٹ بک فیئر کے اختتامی روز کینیڈا کی اس مشہور ناول نگار کو یہ انعام اسی شہر کے تاریخی سینٹ پال کلیسا میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں دیا گیا۔ مارگریٹ اَیٹ وُڈ مجموعی طور پر وہ دسویں خاتون ہیں، جنہیں جرمنی کے ’پیس پرائز آف جرمن بک ٹریڈ‘ کہلانے والے اس معروف ادبی انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ سالانہ انعام دینے کا سلسلہ 1950ء میں شروع کیا گیا تھا اور اس امن انعام کے ساتھ اس اعزاز کی حقدار شخصیت کو 25 ہزار یورو یا قریب 30 ہزار امریکی ڈالر کے برابر رقم بھی دی جاتی ہے۔ ان کے اعزاز میں اتوار پندرہ اکتوبر کو منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ہائنرش رِیٹ میولر نے کہا، ’’مارگریٹ اَیٹ وُڈ نے آج تک جتنا بھی فکشن یا نان فکشن تخلیق کیا ہے، اس میں انسانیت کی طرف سے انصاف اور برداشت کے جذبوں کی تلاش کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔‘‘ ہائنرش رِیٹ میولر نے کہا، ’’اَیٹ وُڈ امن اور آزادی کی چیمپئن ہیں۔ انہوں نے یہ واضح کر کے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں کہ اگر ہم پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری نہ کریں، تو یہی دنیا کتنی اداس اور تاریک نظر آنے لگے گی۔‘‘ یہ انعام وصول کرتے ہوئے مارگریٹ اَیٹ وُڈ نے تقریب کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا، ’’کہانیاں بہت طاقت ور ہوتی ہیں۔ وہ اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں کہ لوگ کیا سوچتے ہیں اور کیا محسوس کرتے ہیں۔ یہ اثر مثبت اور منفی دونوں طرح کا ہو سکتا ہے۔‘

=== مستقبل کے کتب خانہ میں شمولیت ===

ناول نگار مارگریٹ ایٹ وڈ ان سو مصنفین میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی ایک نئی کہانی جو کبھی نہیں پڑھی گئی، ’فیوچر لائبریری‘ کے منصوبے میں جمع کر دی ہے جسے سنہ 2114 میں شائع کیا جائے گا مارگریٹ ایٹ وڈ کی کہانیاں جن کاغذات پر چھاپی جائیں گی ان کے لیے شہر کے باہر ایک ہزار درخت لگائے گئے ہیں۔ بُکر پرائز‘ جیتنے والی مصنفہ کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ بڑا اعزاز ہے کہ وہ اس منصوبے کا حصہ بنی ہیں۔ دا ہینڈ میڈز ٹیل‘ اور’دا بلائنڈ اساسن‘ جیسی کہانیوں کی خالق مارگریٹ ایٹ ود کی یہ کہانی ان کی زندگی میں نہیں پڑھی جائے گی۔ اس منصوبے کو مستقبل کا کتب خانہ یا فیوچرز لائبریری کا نام دیا گیا ہے۔ مارگریٹ ایٹ وڈ پہلی ادیبہ ہیں جنھوں نے اس کتب خانے کے لیے اپنی تحریر بہم پہنچا کر اس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی ایک فن کارہ کیٹی پیٹرسن نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کی مدّت سو برس ہوگی اور جس میں شامل ہونے والے ادیبوں سے کہا جائے گا کہ اگلے سو برس تک، یعنی 2116ء تک ہر سال ایک کتاب تیار کریں اور یہ کتاب سو برس کے بعد سامنے آئے۔ ان کتابوں کی اشاعت جس کاغذ پر ہوگی اس کے لیے ایک ہزار درخت ایک جنگل میں اگائے جا رہے ہیں جو ناروے کے دار الحکومت اوسلو سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔ ۔فیوچر لائبریری کا منصوبہ سکاٹ لینڈ کی ایک فن کارہ کیٹی پیٹرسن نے شروع کیا ہے اور ان مصنفین کی کہانیوں کو ناروے کے شہر اوسلو میں ایک ٹرسٹ میں رکھا جائے گا۔ فیوچر لائبریری ٹرسٹ ہر سال ایک مصنف کو اپنی ایک نئی کہانی درج کرانے کی دعوت دے گا۔ ان کہانیوں کو اوسلو کی نئی دیچمین لائبریری میں رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ "اس منصوبے کے منتظمین کا خیال ہے کہ 100 سال بعد بھی انسانوں کا وجود ہو گا۔ فیوچر لائبریری کو آنے والی دہائیوں میں یقیناً بہت توجہ ملے گی اور لوگ ان تحریروں کی پیش رفت میں بھی دلچسپی لیں گے اور یہ بوجھنے کی کوشش کریں گے کہ مصنفین نے کس قسم کی کہانیاں درج کروائی ہو گی۔" کیٹی پیٹرسن کا کہنا تھا کہ "مجھے یہ جان کر مسرت ہوتی کہ انھوں نے کیا لکھا ہے۔ اگر ان کی تحریر مستقبل کے لیے اور مستقبل کے بارے میں ہے، تو میں سوچتی ہوں یہ دونوں کس حد تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھ سکتے ہیں۔ کیا یہ کہانی سچی ثابت ہو گی؟" ایک خصوصی تقریب میں مارگریٹ ایٹ وڈ نے اپنے مسودہ منتظمین کے حوالے کیا اور ناروے میں ان درختوں کو دیکھا جن سے سو برس کے بعد اس کتاب کی اشاعت کے لیے کاغذ تیار ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اس کتاب کا نام Scribber’s Moon ہے اور آئندہ سو برس تک اس کتاب کے بارے میں محض اسی قدر تفصیل معلوم ہو سکے گی۔ مارگریٹ ایٹ وڈ بھلا اس موقعے پر اپنے مخصوص انداز میں ادبی گفتگو سے کیسے چوک سکتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سارے سلسلے میں جادوکی جیسی باتیں ہیں۔ یہ ’حُسنِ خوابیدہ‘ یا Sleeping Beauty کی معروف کہانی جیسا ہے۔ یہ تحریریں اگلے سو برس تک نیند کے عالم میں رہیں گی اور جب دوبارہ جاگیں گی تو پھر جی اٹھیں گی۔ وقت کا یہ دورانیہ پریوں کی کہانی والا ہے۔ وہ شہزادی بھی تو سو برس تک سوتی رہتی تھی۔ اس موقع کے لیے مارگریٹ ایٹ وڈ نے خاص طور پر ایک مختصر مضمون بھی لکھا۔ ’’میں وقت کے دورانیے میں ایک مسوّدہ بھیج رہی ہوں۔۔۔ کیا اس کو وصول کرنے کے لیے کوئی انسان موجود ہوگا جو اس کا انتظار کر رہا ہو گا؟ کیا کوئی ’ناروے‘ باقی ہو گا؟ کوئی ’جنگل‘ باقی ہو گا؟ کوئی ’’کتب خانہ‘‘ ہو گا؟ یہ سوچنا بھی کس قدر عجیب ہے کہ میری آواز، جسے خاموش ہوئے بہت عرصہ بیت چکا ہوگا، سو برس کے بعد اچانک دوبارہ جاگ اٹھے گی۔۔۔‘‘ ایٹ وڈ نے اس مستقبل کا پورا نقشہ بھی کھینچ دیا۔ ’ہمیں نہیں معلوم کہ اس کو کون پڑھنے آئے گا؟ ہم وقت کے دورانیے میں زیادہ کی تبدیلی یا morphing سے بھی تو نبٹ رہے ہیں۔ ہم جو الفاظ آج استعمال کر رہے ہیں ان میں سے کون سے مختلف، قدیم اور متروک ہو جائیں گے؟ کون سے نئے الفاظ زبان میں داخل ہو چکے ہوں گے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کون سے فٹ نوٹ کی ضرورت محسوس ہوگی۔ کیا اس وقت لوگوں کے پاس کمپیوٹر ہوں گے؟ کیا وہ اس کو کسی اور نام سے پکاریں گے؟ وہ اسمارٹ فون کا مطلب کیا سمجھیں گے؟ کیا یہ لفظ اس وقت موجود ہو گا؟‘‘ مستقبل کے کتب خانے کے اس تصوّر میں انسان کے لیے امید کا امکان موجود ہے۔ اس منصوبے کی محرک کیٹی پیٹرسن نے کہا کہ اس سلسلے میں دنیا بھر کے ادیبوں میں سے انتخاب کیا جائے گا۔ وہ خود تو موجود نہیں ہوں گی لیکن یہ سلسلہ ان کے بعد بھی جاری رہے گا۔ مارگریٹ ایٹ وڈ نے کہا کہ اگر ہم سمندروں کو بچا سکے اور ہمہ گیر وبائی امراض سے محفوظ رہ گئے تو نسلِ انسانی بھی باقی رہے گی۔ اس سلسلے میں اگلے مصنّف برطانیہ کے ڈیوڈ مچل (David Mitchell) ہیں جنہوں نے اس اقدام کو اعتماد کا ووٹ قرار دیا ہے تباہی کے جس قدر وسیع امکانات کے سائے تلے ہم زندہ ہیں، اس کے باوجود مستقبل میں ایک ایسا روشن اور چمکیلا امکان ہوگا کہ جہاں ایسے فن کارانہ عمل کو مکمل کیا جا سکے جس کا آغاز سو برس پہلے کے لوگوں نے کیا تھا جو اس وقت تک مرکھپ چکے ہیں۔ حال ہی میں ڈیوڈ مچل نے اپنا مسودہ کتب خانے کے سپرد کیا تو یہ قصّہ پھر تازہ ہو گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

https://www.dw.com/ur/جرمن-کتابی-صنعت-کا-امن-انعام-کینیڈین-ادیبہ-اَیٹ-وُڈ-کے-لیے/a-40960383اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2018

http://www.humsub.com.pk/17866/asif-farrukhi-2/اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2018

https://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150526_margaret_atwood_akاخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2018

4.https://en.m.wikipedia.org/wiki/Margaret_Atwoodاخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2018