مارگریٹ تھیچر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دی رائٹ اونر ایبل  ویکی ڈیٹا پر سابقہ شرف دہندہ (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مارگریٹ تھیچر
(انگریزی میں: Margaret Thatcher ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Photograph تفصیل=

وزیر اعظم مملکت متحدہ
مدت منصب
4 مئی 1979 – 28 نومبر 1990
بادشاہ ایلزبتھ دوم
نائب William Whitelaw
Geoffrey Howe
Fleche-defaut-droite-gris-32.png James Callaghan
جان میجر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Leader of the Opposition
مدت منصب
11 فروری 1975 – 4 مئی 1979
بادشاہ ایلزبتھ دوم
وزیر اعظم Harold Wilson
James Callaghan
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Edward Heath
James Callaghan Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Leader of the Conservative Party
مدت منصب
11 فروری 1975 – 28 نومبر 1990
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Edward Heath
جان میجر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Shadow Secretary of State for the Environment
مدت منصب
5 مارچ 1974 – 11 فروری 1975
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Anthony Crosland
Timothy Raison Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Secretary of State for Education and Science
مدت منصب
20 جون 1970 – 4 مارچ 1974
وزیر اعظم Edward Heath
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Edward Short
Reginald Prentice Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Shadow Secretary of State for Education and Science
مدت منصب
10 جنوری 1967 – 20 جون 1970
وزیر اعظم Edward Heath
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
Edward Short Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Parliamentary Secretary to the Minister for Pensions
مدت منصب
9 اکتوبر 1961 – 16 اکتوبر 1964
وزیر اعظم Harold Macmillan
Sir Alec Douglas-Home
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Patricia Hornsby-Smith
Norman Pentland Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن پارلیمان
for Finchley
مدت منصب
8 اکتوبر 1959 – 9 اپریل 1992
Fleche-defaut-droite-gris-32.png John Crowder
Hartley Booth Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Margaret Hilda Roberts)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 13 اکتوبر 1925[3][4][5][6][7][8][9]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 اپریل 2013 (88 سال)[3][4][5][6][7][8][10]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ[11][2][12]
Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ (–12 اپریل 1927)  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب کلیسائے انگلستان (1951–2013)
میتھوڈسٹ مسیحیت (1925–1951)
جماعت کنزرویٹو پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکنیت رائل سوسائٹی  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ خرف  ویکی ڈیٹا پر بیماری (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد Carol Thatcher
Mark Thatcher
عملی زندگی
مادر علمی سٹی لا کالج
سومرویل کالج، اوکسفرڈ (1943–1947)
جامعہ اوکسفرڈ[13]  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخصص تعلیم کیمیا  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بی ایس سی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان[14]، کیمیادان، آپ بیتی نگار، بیرسٹر، وکیل[15]، کمپنی منیجر[16]، ریاست کار[16]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[17]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
اعزازات
Presidential Medal of Freedom (ribbon).png صدارتی تمغا آزادی (1991)[18]
رائل سوسائٹی فیلو  (1983)[19]
Order of the Garter UK ribbon.png آرڈر آف گارٹر
Order of the White Lion.svg آرڈر آف دی وائیٹ لائن  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
مارگریٹ تھیچر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مارگریٹ ہلڈا تھیچر (انگریزی: Margaret Hilda Thatcher) (پیدائشی نام: مارگریٹ ہلڈا رابرٹس) (المعروف ٹھاکُر صاحب) برطانیہ کی معروف سیاست دان اور وزیر اعظم تھیں۔ آپ 13 اکتوبر 1925ء کو گرانتھم، لنکن شائر، انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ جامعہ آکسفورڈ میں تعلیم پائی۔ بعد ازاں قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1954ء تا 1957ء وکالت کے پیشے سے وابستہ رہیں۔ 1959ء میں قدامت پسند پارٹی کے ٹکٹ پر دارالعوام کی رکن منتخب ہوئیں۔ دو سال بعد قومی بیمہ اور پنشن کی وزارت میں مشترکہ پارلیمانی معتمد (جوائنٹ پارلیمنٹری سیکرٹری) مقرر کی گئیں۔ 1964ء تا 1970ء، جب قدامت پسند پارٹی اپوزیشن میں تھی، اپنی جماعت کی شیڈول کیبنٹ میں سماجی تحفظ کی نائب وزیر مملکت برائے تعلیم و سائنس رہیں۔ فروری 1974ء میں قدامت پسند پارٹی کی شکست کے بعد پارٹی کی شیڈول کیبنٹ میں شامل کی گئیں۔ 1975ء میں جماعت کی سربراہ منتخب ہوئیں۔ مئی 1979ء میں جماعت کی فتح کے بعد وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ اور 1990ء تک اس عہدے پر فائز رہیں۔

آپ برطانیہ کی تاریخ کی واحد خاتون ہیں جو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہیں۔ آپ لارڈ سالسبری کے بعد سب سے زیادہ عرصے تک اور 19 ویں صدی کے اوائل میں لارڈ لیورپول بعد مستقلاً سب سے زیادہ سالوں تک مسند اقتدار پر فائز رہنے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں یعنی آپ 20 ویں صدی میں سب سے طویل مدت تک برطانیہ کی وزیر اعظم رہیں۔ آپ برطانیہ میں کسی اہم سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور ملکی تاریخ کی واحد خاتون بھی جنہوں نے ریاست کے چار اہم مناصب پر خدمات انجام دیں۔

آپ سوویت اتحاد پر کڑی تنقید کرتی تھیں اور 1976ء میں سوویت قیادت کے خلاف ایک جارحانہ تقریر پر آپ کو "خاتونِ آہن" کا لقب ملا۔

آپ کے دور کے اہم واقعات میں سرد جنگ کے اختتامی ایام، شمالی آئر لینڈ میں بغاوت میں اضافہ، ایرانی سفارت خانے کا محاصرہ، فاک لینڈ جزائر پر ارجنٹائن کے ساتھ جنگ اور ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے کا معاہدہ شامل ہیں۔

1979ء میں برطانوی سرزمین پر امریکا کے جوہری کروز میزائلوں کی تنصیب پر آپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا اور ملک بھر میں اس فیصلے کے خلاف زبردست مظاہرے کیے گئے۔

1982ء میں بحر اوقیانوس میں واقع جزائر فاک لینڈ پر ارجنٹائن کے قبضے کے بعد عسکری مہم کے باعث آپ کو برطانیہ میں بڑی شہرت ملی۔ اس مہم کے نتیجے میں برطانیہ نے فاک لینڈ جزائر پر اپنا قبضہ بحال کرالیا۔ اسی جنگ کانتیجہ تھا کہ 1983ء کے انتخابات میں قدامت پسند جماعت بھاری اکثریت سے جیتی۔

1984ء میں قدامت پسند پارٹی کے ایک اجتماع میں بم دھماکے میں آپ بال بال بچیں جو آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) نے نصب کیا تھا۔

1986ء میں تھیچر نے امریکی افواج کو برطانیہ کے فضائی اڈوں سے لیبیا کے خلاف بمباری کرنے کی اجازت دی۔

1987ء کے عام انتخابات میں فتح کے بعد تھیچر 20 صدی میں مسلسل تیسری مرتبہ برطانیہ کی واحد وزیر اعظم بنیں۔ تاہم ان کے تیسرے عہد میں جماعت کے اندر تقسیم پیدا ہو گئی جس میں اہم کردار ان کے آمرانہ انداز کا تھا۔ علاوہ ازیں نئے محصولات نافذ کرنے سے بڑے پیمانے پر عوامی غیظ و غضب کو ابھارا۔ یہ محصول جو ہر بالغ شہری پر لگایاگیا 1989ء میں اسکاچستان اور بعد ازاں 1990ء میں انگلستان اور ویلز میں نافذ کیا گیا۔ برطانیہ کے کئی باشندوں نے محصول کی ادائیگی سے انکار کر دیا اور دوسری جانب تھیچر نے بھی اسے واپس لینے سے انکار کیا۔

آپ نے اپنی آپ بیتی دو جلدوں "قوت کا راستہ" (The Path to Power) اور "دی ڈاؤننگ اسٹریٹ" (The Downing Street Years) کے نام سے لکھی ہيں۔ 1993ء میں بی بی سی نے "دی ڈاؤننگ اسٹریٹ" کو ایک دستاویزی سلسلے کی شکل دی۔ 2002ء میں آپ کی تیسری کتاب "ریاست کاری" (Statecraft) میں منظر عام پر آئی جس میں 21 ویں صدی میں سیاسی معاملات پر آپ نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔

آپ کو آرڈر آف گارٹر، آرڈر آف میرٹ، ملکۂ عالیہ کی پریوی کونسل کی رکن، فیلو آف دی رائل سوسائٹی کے اعلیٰ ملکی اعزازات حاصل ہیں۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی سطح پر آپ کو صدارتی تمغۂ آزادی، جمہوری سینیٹوریل تمغۂ آزادی اور رونالڈ ریگن اعزاز آزادی بھی عطا کیے گئے۔

وفات[ترمیم]

مارگریٹ تھیچر 8 اپریل 2013ء کی صبح دل کا دورہ پڑنے سے رٹز ہوٹل، لندن میں انتقال کر گئیں۔[20][21] وہ اپنے چیسٹر اسکوائر گھر پر سیڑھیوں چڑہنے کی مشکل کی وجہ سے کرسمس کے بعد سے رٹز ہوٹل میں مقیم تھین۔[22]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.history.com/news/10-things-you-may-not-know-about-margaret-thatcher
  2. ^ ا ب https://www.history.com/news/10-things-you-may-not-know-about-margaret-thatcher — اخذ شدہ بتاریخ: 23 جولا‎ئی 2018 نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "e09458f0dafc22f70a961432dc302763eb92547d" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  3. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  4. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121412696 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Margaret-Thatcher — بنام: Margaret Thatcher — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  6. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6nm5gcj — بنام: Margaret Thatcher — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=108023705 — بنام: Margaret Thatcher — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. ^ ا ب ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/1059609 — بنام: Margaret Thatcher — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  9. https://www.telegraph.co.uk/news/politics/margaret-thatcher/8093504/Margaret-Thatcher-obituary-Her-early-life.html — اخذ شدہ بتاریخ: 6 جولا‎ئی 2018
  10. https://edition.cnn.com/2013/04/08/world/europe/uk-margaret-thatcher-dead/index.html — اخذ شدہ بتاریخ: 5 جولا‎ئی 2018
  11. https://www.bbc.com/news/world-europe-18023389
  12. https://libris.kb.se/katalogisering/fcrtwcjz2nsw253 — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 9 اپریل 2013
  13. http://www.ox.ac.uk/news/2013-04-09-margaret-thatcher-1925-2013 — اخذ شدہ بتاریخ: 6 جولا‎ئی 2018
  14. https://www.economist.com/briefing/2013/04/13/no-ordinary-politician — اخذ شدہ بتاریخ: 27 جولا‎ئی 2018
  15. https://www.city.ac.uk/news/2013/apr/margaret-thatcher-alumna-of-the-inns-of-court-school-of-law — اخذ شدہ بتاریخ: 27 جولا‎ئی 2018
  16. https://www.telegraph.co.uk/news/politics/margaret-thatcher/9997368/Margaret-Thatcher-described-as-retired-stateswoman-on-death-certificate.html — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2017
  17. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121412696 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  18. Speech receiving Medal of Freedom Award
  19. Margaret Thatcher at pre-election press conference — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اپریل 2014 — ناشر: رائل سوسائٹی
  20. Gordon Rayner؛ Steven Swinford۔ "Margaret Thatcher dies of stroke aged 87"۔ The Daily Telegraph۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 اپریل 2013۔
  21. "Obituary"۔ Margaret Thatcher Foundation۔ 8 اپریل 2013۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 اپریل 2013۔
  22. Steven Swinford۔ "Margaret Thatcher: final moments in hotel without her family by her bedside"۔ The Daily Telegraph۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 اپریل 2013۔