مارگریٹ تھیچر
مارگریٹ تھیچر The Baroness Thatcher | |
|---|---|
| ذاتی تفصیلات | |
| پیدائش | Margaret Hilda Roberts 13 اکتوبر 1925 |
| وفات | 8 اپریل 2013ء (87 سال) |
| سببِ وفات | Stroke |
| جماعت | کنزرویٹو پارٹی |
| شریک حیات | Denis Thatcher (ش 1951ء–died 2003ء) |
| والدین | الفرڈ اور بیٹرس |
| مادر علمی | سومرویل کالج، اوکسفرڈ انز آ کورٹ |
مارگریٹ ہلڈا تھیچر (پیدائشی نام: مارگریٹ ہلڈا رابرٹس) (المعروف ٹھاکُر صاحب) برطانیہ کی معروف سیاست دان اور وزیر اعظم تھیں۔ آپ 13 اکتوبر 1925ء کو گرانتھم، لنکن شائر، انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ جامعہ آکسفورڈ میں تعلیم پائی۔ بعد ازاں قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1954ء تا 1957ء وکالت کے پیشے سے وابستہ رہیں۔ 1959ء میں قدامت پسند پارٹی کے ٹکٹ پر دارالعوام کی رکن منتخب ہوئیں۔ دو سال بعد قومی بیمہ اور پنشن کی وزارت میں مشترکہ پارلیمانی معتمد (جوائنٹ پارلیمنٹری سیکرٹری) مقرر کی گئیں۔ 1964ء تا 1970ء، جب قدامت پسند پارٹی اپوزیشن میں تھی، اپنی جماعت کی شیڈول کیبنٹ میں سماجی تحفظ کی نائب وزیر مملکت برائے تعلیم و سائنس رہیں۔ فروری 1974ء میں قدامت پسند پارٹی کی شکست کے بعد پارٹی کی شیڈول کیبنٹ میں شامل کی گئیں۔ 1975ء میں جماعت کی سربراہ منتخب ہوئیں۔ مئی 1979ء میں جماعت کی فتح کے بعد وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ اور 1990ء تک اس عہدے پر فائز رہیں۔
آپ برطانیہ کی تاریخ کی واحد خاتون ہیں جو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہیں۔ آپ لارڈ سالسبری کے بعد سب سے زیادہ عرصے تک اور 19 ویں صدی کے اوائل میں لارڈ لیورپول بعد مستقلاً سب سے زیادہ سالوں تک مسند اقتدار پر فائز رہنے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں یعنی آپ 20 ویں صدی میں سب سے طویل مدت تک برطانیہ کی وزیر اعظم رہیں۔ آپ برطانیہ میں کسی اہم سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور ملکی تاریخ کی واحد خاتون بھی جنھوں نے ریاست کے چار اہم مناصب پر خدمات انجام دیں۔
آپ سوویت اتحاد پر کڑی تنقید کرتی تھیں اور 1976ء میں سوویت قیادت کے خلاف ایک جارحانہ تقریر پر آپ کو "خاتونِ آہن" کا لقب ملا۔
آپ کے دور کے اہم واقعات میں سرد جنگ کے اختتامی ایام، شمالی آئر لینڈ میں بغاوت میں اضافہ، ایرانی سفارت خانے کا محاصرہ، فاک لینڈ جزائر پر ارجنٹائن کے ساتھ جنگ اور ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے کا معاہدہ شامل ہیں۔
1979ء میں برطانوی سرزمین پر امریکا کے جوہری کروز میزائلوں کی تنصیب پر آپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا اور ملک بھر میں اس فیصلے کے خلاف زبردست مظاہرے کیے گئے۔
1982ء میں بحر اوقیانوس میں واقع جزائر فاک لینڈ پر ارجنٹائن کے قبضے کے بعد عسکری مہم کے باعث آپ کو برطانیہ میں بڑی شہرت ملی۔ اس مہم کے نتیجے میں برطانیہ نے فاک لینڈ جزائر پر اپنا قبضہ بحال کرالیا۔ اسی جنگ کانتیجہ تھا کہ 1983ء کے انتخابات میں قدامت پسند جماعت بھاری اکثریت سے جیتی۔
1984ء میں قدامت پسند پارٹی کے ایک اجتماع میں بم دھماکے میں آپ بال بال بچیں جو آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) نے نصب کیا تھا۔
1986ء میں تھیچر نے امریکی افواج کو برطانیہ کے فضائی اڈوں سے لیبیا کے خلاف بمباری کرنے کی اجازت دی۔
1987ء کے عام انتخابات میں فتح کے بعد تھیچر 20 صدی میں مسلسل تیسری مرتبہ برطانیہ کی واحد وزیر اعظم بنیں۔ تاہم ان کے تیسرے عہد میں جماعت کے اندر تقسیم پیدا ہو گئی جس میں اہم کردار ان کے آمرانہ انداز کا تھا۔ علاوہ ازیں نئے محصولات نافذ کرنے سے بڑے پیمانے پر عوامی غیظ و غضب کو ابھارا۔ یہ محصول جو ہر بالغ شہری پر لگایاگیا 1989ء میں اسکاچستان اور بعد ازاں 1990ء میں انگلستان اور ویلز میں نافذ کیا گیا۔ برطانیہ کے کئی باشندوں نے محصول کی ادائیگی سے انکار کر دیا اور دوسری جانب تھیچر نے بھی اسے واپس لینے سے انکار کیا۔
آپ نے اپنی آپ بیتی دو جلدوں "قوت کا راستہ" (The Path to Power) اور "دی ڈاؤننگ اسٹریٹ" (The Downing Street Years) کے نام سے لکھی ہيں۔ 1993ء میں بی بی سی نے "دی ڈاؤننگ اسٹریٹ" کو ایک دستاویزی سلسلے کی شکل دی۔ 2002ء میں آپ کی تیسری کتاب "ریاست کاری" (Statecraft) میں منظر عام پر آئی جس میں 21 ویں صدی میں سیاسی معاملات پر آپ نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔
آپ کو آرڈر آف گارٹر، آرڈر آف میرٹ، ملکۂ عالیہ کی پریوی کونسل کی رکن، فیلو آف دی رائل سوسائٹی کے اعلیٰ ملکی اعزازات حاصل ہیں۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی سطح پر آپ کو صدارتی تمغۂ آزادی، جمہوری سینیٹوریل تمغۂ آزادی اور رونالڈ ریگن اعزاز آزادی بھی عطا کیے گئے۔
وفات
[ترمیم]مارگریٹ تھیچر 8 اپریل 2013ء کی صبح دل کا دورہ پڑنے سے رٹز ہوٹل، لندن میں انتقال کر گئیں۔[1][2] وہ اپنے چیسٹر اسکوائر گھر پر سیڑھیوں چڑہنے کی مشکل کی وجہ سے کرسمس کے بعد سے رٹز ہوٹل میں مقیم تھین۔[3]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Gordon Rayner؛ Steven Swinford۔ "Margaret Thatcher dies of stroke aged 87"۔ The Daily Telegraph۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-08
- ↑ "Obituary"۔ Margaret Thatcher Foundation۔ 8 اپریل 2013۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-08
- ↑ Steven Swinford۔ "Margaret Thatcher: final moments in hotel without her family by her bedside"۔ The Daily Telegraph۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-08
| ویکی ذخائر پر مارگریٹ تھیچر سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- 1925ء کی پیدائشیں
- 13 اکتوبر کی پیدائشیں
- نامعلوم پیرامیٹرز استعمال کرنے والے صفحات
- 2013ء کی وفیات
- اقدام قتل سے زندہ بچ جانے والے
- اکیسویں صدی کی برطانوی مصنفات
- اکیسویں صدی کے انگریز مصنفین
- انگریز آپ بیتی نگار
- انگریز مصنفات
- انگریز یاداشت نگار
- انگلستان میں سرطان سے اموات
- انگلستانی غیر افسانوی مصفنین
- برطانوی سیاستدان
- مملکت متحدہ کے وزرائے اعظم
- بیسویں صدی کی برطانوی مصنفات
- بیسویں صدی کی مصنفات
- بیسویں صدی کے انگریز مصنفین
- خواتین سربراہ حکومت
- خواتین قائدین حزب اختلاف
- خواتین وزرائے اعظم
- سرد جنگ کی شخصیات
- سرد جنگ کے رہنما
- سومرویل کالج، اوکسفرڈ کے فضلا
- قائدین حزب اختلاف (مملکت متحدہ)
- مارکسیت کے ناقدین
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1959–64ء
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1964–66ء
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1966–70ء
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1970–74ء
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1974ء
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1974–79ء
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1979–83ء
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1983–87ء
- مملکت متحدہ ارکان پارلیمان 1987–92ء
- مملکت متحدہ کی پریوی کونسل کے ارکان
- نسائیت کی نقاد خواتین
- وفيات بسبب اسٹروک
- یورپی اتحاد کے نقاد
- بیسویں صدی کی انگریز مصنفات
- اکیسویں صدی کی انگریز مصنفات
- بیسویں صدی کی برطانوی خواتین سائنس دان
- صدارتی تمغا آزادی کے وصول کنندگان
- انگریز خواتین وکلا
- انگریز میتھوڈسٹ
- برطانوی خواتین یاداشت نگار
- آئرش نژاد انگریز شخصیات
- مملکت متحدہ کی کابینہ کی خواتین ارکان
- مملکت متحدہ کے کنزرویٹو پارٹی کے وزرائے اعظم
- یورپ میں خواتین وزرائے اعظم
- بیسویں صدی کی خواتین وزرائے اعظم
- بیسویں صدی کی خواتین حکمران
- برطانوی خواتین وکلا
- عتاہت سے اموات
- قدامت پسندی
- مملکت متحدہ میں تدفین
- مملکت متحدہ میں حریت پسندی
- جامعہ اوکسفرڈ کے فضلا
- برطانوی خواتین سائنسدان
- لندن میں وفات پانے والی شخصیات
- انگریز شخصیات
- مملکت متحدہ کی سیاسی جماعتوں کے رہنما
- اشتراکیت مخالف
- سرمایہ دارانہ نظام
- لنکنشائر کی شخصیات
- مملکت متحدہ کے ارکان پارلیمان
- آپ بیتیاں
- پہلی خاتون وزرائے اعظم