مارہرہ شریف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مارہرہ شریف[ترمیم]

خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ علم و فضل میں یگانہ ،روحانیت اور بزرگی میں عظیم الشان نجیب الطرفین ساداتِ زیدیہ کا مقدس مسکن ہے۔ گذشتہ کئی صدیوں سے ہدایت و ارشاد، تصنیف و تالیف، تزکیہ و طہارت اور اصلاحِ فکر و اعمال کے میدان میں اس خانقاہ کی نمایاں خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

خانقاہِ برکاتیہ کا خانوادہ حسینی زیدی سادات پر مشتمل ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے حضرت سیدنا زین العابدین امام علی بن امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے نسل حسینی آگے بڑھی۔ آپ کے شہزادگان میں حضرت امام باقر اور حضر ت زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہمادونمایاں نام ہیں۔ یہیں سے نسل حسینی شاخ در شاخ منقسم ہوئی جن میں باقری اور زیدی شاخیں مشہورِ عالم ہیں۔

حضرت امام زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پانچویں پشت میں ایک بزرگ حضرت سید علی ( بن حسین بن علی بن محمد بن عیسیٰ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہم) مدینۂ منورہ سے ہجرت کرکے عراق کے شہر واسط تشریف لائے اور یہیں مقیم ہو گئے۔ آپ کی ساتویں پشت میں ایک بزرگ حضرت سید ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے چار صاحب زادگان کے ساتھ غزنی میں سکونت پزیر ہوئے۔ کچھ عرصہ قیام فرماکر ایک صاحب زادے سید معز الدین کے ساتھ وطن واپس ہوئے۔ تین صاحب زادے سید ابوفراس، سید ابوالفضائل اور سید داؤد ہندوستان میں تشریف لائے۔ سید ابوفراس رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد سے سید ابوالفرح ثانی، اُن کے بیٹے سید حسین، اُن کے بیٹے سید علی، اُن کے صاحب زادے حضرت سید محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ( وصال : 645ھ) ہیں، جو ساداتِ زیدیہ بلگرام کے مورثِ اعلیٰ ہیں۔ آپ کی گیارہویں پشت میں حضرت میر سید عبدالواحد بلگرامی قدس سرہٗ ( ولادت: 916ھ/ وصال : 1017ھ) ہیں جن کا نام علمی اور صوفی حلقوں میں محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ ’سبع سنابل‘ آپ کی مایۂ ناز اور مشہورِ زمانہ تصنیف ہے ۔

آپ کے صاحب زادے حضرت سید میر عبدالجلیل چشتی بلگرامی قدس سرہٗ ( ولادت: 972ھ/ وصال : 1057ھ) وہ پہلے بزرگ ہیں جنھوں نے بلگرام سے ہجرت فرماکر مارہرہ کو اپنا وطن بنایا اور آج بھی وہیں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ کے بعد آپ کے صاحب زادے حضرت میر سید اویس قدس سرہٗ( وصال : 1097ھ) آپ کے خلیفہ اور جانشین ہوئے۔

حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقی ؔ پیمی مارہروی قدس سرہٗ ( وصال: 1142ھ) حضرت میر سید اویس قدس سرہٗ کے فرزند اور امام سلسلۂ برکاتیہ ہیں۔ مارہرہ مطہرہ اترپردیش کے مشہور شہر آگرہ سے ملحق ایٹہ کے مغربی حصے میں واقع صوفیاے کرام کا مسکن ہے۔ جہاں خاص شاہ راہ کے شمالی حصے میں وہ عظیم درگاہ ہے جہاں بڑے بڑوں نے اپنی جبینِ عقیدت فخر سے جھکائی ہے۔ یہ مہتم بالشان درگاہ، درگاہ شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ کے نام سے موسوم ہے ۔

خانوادۂ برکاتیہ میں گو کہ سلاسل چشتیہ و قادریہ وغیرہ تمام معروف سلاسل تھے، لیکن اکابر خانوادہ پر رنگ چشتیہ نظامیہ غالب رہا۔ حضرت سید شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ نے کالپی جاکر حضرت سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی قدس سرہٗ ( وصال : 1111ھ) سے اخذ فیض کیااور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے، واپس آکر اسی سلسلۂ قادریہ کالپویہ کا اجرا کیا اور مارہرہ مطہرہ میں خانقاہ قادریہ برکاتیہ کی بنیاد رکھی۔ تب سے اب تک یہ عظیم الشان خانقاہ دنیا بھر کے خوش عقیدہ مسلمانوں کا مرجع و مرکز ہے۔ ہندوستان ہی نہیں برصغیر ہندو پاک میں یہ سب سے بڑی قادریہ سلسلے کی خانقاہ ہے۔ وہ اس لیے بھی کہ سلسلۂ قادریہ کا اجرا اس خانقاہ کے مرشدانِ کرام اور خلفاے عظام کے ہاتھوں جس قدر عمل میں آیا، کسی دوسری خانقاہ کے مرشدانِ کرام اور خلفاے عظام کے ہاتھوں عمل میں نہیں آیا۔ حضرت سید شاہ برکت اللہ قدس سرہٗ کی اس درگاہ کے جنوبی رخ کی خانقاہ میں ان کے پوتے حضرت سید شاہ حقانی ابن سید شاہ آل محمد قدس سرہما کا دیوان خانہ تھا۔ یہ وہی شاہ حقانی ہیں جن کاترجمۂ قرآن اور تفسیر قرآن ’’ نعت رسول کی ‘‘ اور ’’ عنایت رسول کی‘‘ اردو تراجم و تفاسیر میں اولیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ خانقاہِ برکاتیہ کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں کے مرکزی برکاتی گنبد کے سایے میں سات اقطاب آرام فرما رہے ہیں۔

ڈاکٹرمحمد حسین مشاہدرضوی کے ایک مضمون سے اقتباس