ماریہ قبطیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ماریہ بنت شمعون سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ماریہ قبطیہ
(عربی میں: مارية القبطية ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Maria Al Qibtiyya.png 

معلومات شخصیت
پیدائش مصر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 فروری 637  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر محمد بن عبداللہ (630–8 جون 632)  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ابراھیم بن محمد  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی

ام المؤمنین ماریہ قبطیہ (عربی: مارية القبطية) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔ وہ پہلے مسیحی تھیں اور بازنطینی شاہ مقوقس نے 628ء میں انہیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بطور ہدیہ بھیجا تھا۔

تفصیل

سال ( 627ء ) میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرق وسطیٰ کے مختلف اکابرین اور بادشاہوں کو خطوط ارسال کیے جن میں اسلام کی حقانیت بیان کی گئی تھی اور ایک اللہ کی عبادت کرنے کا پیغام شامل ہوتا تھا۔ ان خطوط کی تفصیل ابن جریر طبری کی تصنیف تاریخ طبری میں موجود ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نکاح

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد نبوی سے ملحق اپنی ازواج کے حجروں میں رہتے تھے۔ بعض مؤرخین کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے شادی نہیں کی تھی لیکن بعض کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماریہ قبطیہ سے شادی کی تھی۔

اولاد

حضرت ماریہ، حضرت خدیجہ کے بعد دوسری بیوی ہیں جن سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد ہوئی۔ حضرت ماریہ محمد بن عبد اللہ کے بیٹے ابراہیم بن محمد کی ماں ہیں۔ ابراہیم کا نام نبی ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا۔ ابراہیم سولہ مہینے کی عمر میں ہی انتقال کر گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بیٹے کی جدائی کا بہت غم تھا۔

انتقال

مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے پانچ سال کے بعد محرم 16 ہجری میں حضرت ماریہ بھی انتقال کرگئیں۔ اُن کی تاریخ پیدائش نامعلوم ہے۔

وضاحت

زیادہ تر مصنفین ان کا شمار بحیثیت لونڈی کرتے ہیں، مولانا حسن مثنیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ سیدہ ماریہ ازواج مطہرات میں سے تھی ۔

حوالہ جات