ماسٹر رام چندر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ماسٹر رام چندر
(ہندی میں: रामचन्द्र लाल ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Ramchundra.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1821[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پانی پت،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 اگست 1880 (58–59 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ذاکر حسین دہلی کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ریاضی دان،  صحافی،  معلم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو،  انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل ریاضی  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ذاکر حسین دہلی کالج،  انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روڑکی،  ریاست پٹیالہ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں فوائد الناظرین،  محب ہند  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ماسٹر رام چندر (انگریزی: Ramchundra، دیوناگری: रामचन्द्र लाल) (پیدائش: 1821ء - وفات: 11 اگست، 1880ء) ہندوستان کے ریاضی دان، دہلی کالج میں سائنس کے استاد اور صحافی تھے۔ 1945ء میں اخبار فوائد الناظرین اور 1847ء میں ایک علمی اور ادبی ماہنامہ محب ہند جاری کیا۔ ان کی دو کتابوں کی شہرت انگلستان تک پہنچی اور ایک کتاب کے لیے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی کورٹ آف ڈائریکٹرز نے انہیں ایک خلعت پنج پارچہ اور دو ہزار روپیہ نقد عطا کیا۔ رام چندر تعلیمِ نسواں کے بڑے حامی تھے۔ وہ لڑکیوں کی تعلیم کو محدود رکھنا نہیں چاہتے تھے بلکہ ان کی دلی خواہش تھی کہ بچیاں خانہ داری، علم الصحت اور دوسرے مضامین بھی پڑھیں اور ان کا نصاب لڑکوں سے مختلف ہونا چاہیے۔ وہ گونگوں اور بہروں کی تعلیم کے بھی مؤیّد تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

رام چندر 1821ء کو دہلی کے کائیستھ گھرانے میں پیدا ہوئے[5]۔ ان کے والد رائے سندر لال ماتھر ایسٹ انڈیا کمپنی کے محکمہ مالیات میں ملازم تھے۔ بارہ برس کی عمر میں انگریزی مدرے میں داخل ہوئے۔ فکر معاش نے مجبور کیا تو محرر ہو گئے، لیکن طبیعت حصولِ علم کے لیے بے چین تھی۔ اس لیے دہلی کالج میں داخل ہو گئے اور وہاں اپنی قابلیت کی وجہ سے اعلیٰ وظیفہ پایا۔ تین سال کی تعلیم کے بعد اسی کالج میں مدرس ہو گئے۔ ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی قائم ہوئی تو اس کے لیے اردو میں الجبرا اور علمِ مثلث پر کتابیں لکھیں[6]۔ 1854ء میں انہوں نے ہندو مذہب کو ترک کیا اور عیسائی مذہب قبول کیا، جس پر ان کے خلاف بہت لے دے ہوئی اور اعزہ و اقارب اور برادری نے مقاطعہ کر دیا۔ ان کی دو کتابوں کی شہرت انگلستان تک پہنچی اور ایک کتاب کے لیے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی کورٹ آف ڈائریکٹرز نے ایک خلعت پنج پارچہ اور دو ہزار روپیہ نقد عطا کیا۔ وہ ہندوستان کے مایہ ناز صحافی تھے۔ 1845ء میں انہوں نے ایک پندرہ روزہ علمی اخبار فوائد الناظرین اور 1847ء میں ایک علمی اور ادبی ماہنامہ محب ہند جاری کیا۔ غدر کے دوران میں چھپ چھپا کر زندگی بسر کی۔ غدر کے بعد اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔[7]

ملازمت[ترمیم]

رام چندر 31 دسمبر 1957ء کو دہلی کالج کی ملازمت سے باقاعدہ طور پر الگ ہو گئے اور روڑکی چلے گئے، وہاں انہیں 1858ء میں ڈھائی سو روپے ماہوار پر تھامسن انجنیئرنگ کالج (موجودہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کا نیٹیو ہیڈ ماسٹر (Native Head Master) مقرر کیا گیا۔ روڑکی میں چند ماہ رہنے کے بعد وہ پھر دہلی واپس آئے اور ستمبر 1858ء میں دہلی ڈسٹرکٹ اسکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ 1866ء میں 22 برس تک ایک فاضل، مقبول اور مشہور معلم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دینے کے بعد 45 برس کی عمر میں خرابی صحت کی بنا پر سبکدوش ہو گئے اور ایک سو پچاس روپے ماہوار پنشن مقرر ہوئی۔[8]

ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد 186ء میں انہیں راجا مہندر سنگھ کے اتالیق کی حیثیت سے ریاست پٹیالہ کے دربار میں ملازمت مل گئی۔ یہاں انہوں نے بڑی قابلِ خدمات اجام دیں جنہوں حکومتِ پٹیالہ اور حکومتِ ہند دونوں نے بے حد سراہا۔ جولائی 1868ء میں جب مہاراجا مہندر سنگھ تخت نشیں ہوئے تو انہیں ایک ہزار روپے کی جاگیر اور خلعت عطا کی گئی۔ 13 جون 1870ء کو جب ریاست پٹیالہ میں سر رشتہ تعلیم کا قیام عمل میں آیا تو رام چند ر اس کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ان کے دورِ ملازمت میں پٹیالہ میں تعلیم کو بہت فروغ ہوا۔ ان کی زیرِ نگرانی ایک مختصر مدت میں 38 نئے اسکول قائم ہو گئے۔ چنانچہ27 فروری 1871ء میں کلکتہ کا دربار منعقد ہوا تھا، گورنر جنرل ہند نے مہاراجا پٹیالہ کو ستارہ ہند (Star of India) کا خطاب دیتے ہوئے ریاست میں تعلیم کی ترقی پر خوشی کا اظہار کیا اور رام چندر کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے زیرِ نگرانی ریاست پٹیالہ میں تعلیم کو مزید ترقی ہوگی۔[9]

خرابی صحت اور وفات[ترمیم]

رام چندر کی صحت کبھی اچھی نہ تھی۔ 1862ء میں جب وہ چالیس برس کے تھے انہیں خرابی صحت کی بنا پر پنشن کی درخواست بھی دینی پڑی تھی۔ اس کے بعد صحت رفتہ رفتہ گرتی ہی گئی اور بالآخر 11 اگست، 1880ء کو 59 کی عمر میں انتقال کیا۔[10]

تصانیف[ترمیم]

  • A Treatise on Problems of Maxima and Minima Solved by Algebra، 1850 (مسائل کلیات و جزئیات)
  • تذکرۃ الکاملین
  • عجائبات روزگار
  • بھوت نہنگ
  • اعجاز قران
  • اصول علم ہیئت

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  2. او ایل آئی ڈی: https://openlibrary.org/works/OL2505975A — بنام: Ramchundra — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: آرون سوارٹز — اجازت نامہ: GNU Affero General Public License, version 3.0
  3. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/142579 — بنام: Ramchundra — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. سی ای آر ایل - آئی ڈی: https://data.cerl.org/thesaurus/cnp01422521 — بنام: Rām Candra — ناشر: Consortium of European Research Libraries — اجازت نامہ: Open Data Commons Attribution License اور Creative Commons Attribution 2.0 Generic
  5. صدیق الرحمٰن قدوائی، ماسٹر رامچندر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی،اگست 1961ء، ص 28
  6. ڈاکٹر عبد السلام خورشید، صحافت: پاکستان و ہند میں، مجلس ترقی ادب لاہور، نومبر 2016ء، ص 134
  7. ڈاکٹر عبد السلام خورشید، صحافت: پاکستان و ہند میں، مجلس ترقی ادب لاہور، نومبر 2016ء، ص 135
  8. صدیق الرحمٰن قدوائی، ماسٹر رامچندر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی،اگست 1961ء، ص 53
  9. صدیق الرحمٰن قدوائی، ماسٹر رامچندر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی،اگست 1961ء، ص 57-58
  10. صدیق الرحمٰن قدوائی، ماسٹر رامچندر، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی،اگست 1961ء، ص 59