مالک اشتر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مالک بن اشتر
مالک بن حارث
مالک اشتر

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 585  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یمن
وفات سنہ 658 (72–73 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات زہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن مصر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
لقب اشتر
اولاد ابراہیم بن مالک اشتر

اسحاق بن مالک اشتر

رشتے دار والد: حارث بن عبد یغوث بن مسلمہ
عملی زندگی
نسب انصار
خصوصیت صحابی رسول و جانثار امیر المؤمنین علی بن ابی طالب
پیشہ عسکری قائد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ یرموک،  جنگ جمل،  جنگ صفین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے خاص اصحاب اور آپ کے لشکر کے کمانڈروں میں سے تھے۔ آپ کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بہت بڑے شجاع تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی شجاعت، آپ کے صبر و استقلال پر غالب نہیں آتی تھی۔ جنگ صفین میں بھرپور شجاعت کے عالم میں منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد صرف امیر المومنین امام علی بن ابی طالب کے حکم کی وجہ سے صبر کیا اور معاویہ بن ابو سفیان کے قتل سے پرہیز کرتے ہوئے واپس چلے آئے۔ آپ کی ممتاز شخصیت تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے اور تا قیامت ثبت رہے گی۔

لقب[ترمیم]

مالک بن حارث جو مالک اشتر نخعی کے نام سے مشہور ہیں، فتح روم کے موقع پر دشمن فوج کی طرف سے پھینکا گیا ایک تیر آپ کی آنکھ میں جا لگا جس کے بعد سے آپ کو مالک اشتر کہا جانے لگا۔[1] جبکہ ابن عساکر اس واقعے کو جنگ یرموک سے جوڑتے ہیں۔[2]

نسب[ترمیم]

ابن ابی الحدید کے مطابق مالک اشتر کا نسب یوں ہے:
مالک بن حارث بن عبد یغوث بن مسلمۃ بن ربیعۃ بن خزیمظ بن سعد بن مالک ابن نخع بن عمرو بن علۃ بن خالد بن مالک بن أدد۔[3] (آپ یعرب بن قحطان کی نسل سے تعلق رکھتے تھے)۔

یمن سے کوفہ تک کی زندگی[ترمیم]

مالک اشتر کی تاریخ ولادت کے بارے میں کوئی معلومات تاریخ میں ثبت نہیں ہے لیکن اس بات میں شک نہیں کہ آپ یمن میں پلے بڑے ہیں اور سنہ 11 یا 12 ہجری قمری کو وہاں سے ہجرت کی۔[4] آپ نے زمانہ جاہلیت کو بھی درک کیا ہے اور اپنی قوم کے سرکردگان میں سے تھا۔یمن سے آنے کے بعد کوفہ میں مقیم ہوئے اور ان کے بعد کوفہ میں ان کی نسل باقی رہی ہے۔ جنگ یرموک میں شرکت کیا اور اسی جنگ میں ان کی ایک آنکھ پر تیر لگا اور آپ آیک آنکھ سے محروم ہو گئے۔ جنگ یرموک میں آپ نے دشمن کے 13 افراد کو واصل جہنم کیا۔[5]

جلاوطنی[ترمیم]

سعید بن عاص جو عثمان بن عفان کی طرف سے کوفہ کا گورنر تھا، نے ایک دفعہ کسی محفل میں کہا کہ ”سواد“ (عراق کا ایک منطقہ جو باغات پر مشتمل ایک سرسبز علاقہ تھا) قریش اور بنی امیہ کی ملکیت ہے۔ مالک اشتر اور بعض دوسرے افراد نے اس کے ان باتوں کی مخالفت کی اور سخت اعتراض کیا، جس کی وجہ سے کوفہ کے لشکر کے کمانڈر سے ان کی لڑائی ہوئی۔ اس واقعے کے بعد سعید بن عاص نے عثمان بن عفان کے حکم پر مالک اشتر سمیت 9 افراد کو شام کی طرف جلاوطن کر دیا۔[6]

ابن ابی الحدید کے مطابق مالک اشتر کے ساتھ شام میں جلاوطن ہونے والے افراد میں: مالک بن کعب ارحبی، اسود بن یزید نخعی، علقمہ بن قیس نخعی، صعصعہ بن صوحان عبدی وغیرہ شامل تھے۔ شام میں مالک اشتر اور ان کے ساتھیوں کا معاویہ بن ابو سفیان کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں معاویہ بن ابو سفیان نے عثمان بن عفان سے انہیں دوبارہ کوفہ پلٹانے کی درخواست کی۔ کوفہ واپس آنے کے بعد انہوں نے سعید بن عاص اور عثمان بن عفان کی مخالفت جاری رکھی یوں سعید بن عاص کی جانب سے ان کے بارے میںعثمان بن عفان کو دی گئی رپورٹ پر عثمان بن عفان نے انہیں حمص میں عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے ہاں دوبارہ جلاوطن کیا۔[7]

چنانچہ ابن شبہ کہتے ہیں کہ مالک اشتر اور اس کے ساتھی سعید بن عاص کو کوفہ سے اخراج کرنے تک حمص میں مقیم رہے اس کے بعد کوفیوں کے خطوط ملنے پر یہ افراد کوفہ واپس آگئے۔[8]

گورنری[ترمیم]

مالک اشتر کے حمص سے کوفہ واپس آنے کے بعد کوفہ کے بزرگان نے مالک اشتر کے ساتھ عہد و پیمان باندھا کہ سعید بن عاص مدیہ گیا ہواہے، اس کو دوبارہکوفہ آنے نہیں دیا جائے گا۔ یوں مالک اشتر کوفہ کے گورنر بن گئے اور انہوں نے نماز جمعہ کی امامت کا عہدہ سنبھالیا، جبکہ دوسرے نمازوں کی امامت کا فریضہ کسی قاری کے سپرد کیا گیا اور ایک اور شخص کو بیت المال کی تقسیم پر مأمور کیا۔[9]
مالک اشتر نے خلیفہ عثمان بن عفان کے ساتھ خطوط کے ذریعے ابو موسی اشعری اور حذیفہ کی کوفہ پر گورنری پر رضایت کا اظہار کیا۔ یوں عثمان بن عفان نے ان دونوں کو خط لکھ کی انہیں کوفہ کا گورنر بنا دیا۔[10]

جنگ جمل[ترمیم]

مالک اشتر جنگ جمل میں امیر المومنین علی بن ابی طالب کے لشکر کے دائیں طرف کے سپہ سالار تھے۔[11] اس جنگ میں مالک اشتر کی عبد اللہ ابن زبیر سے دو بدو لڑائی ہوئی (جو عائشہ بنت ابی بکر کے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے تھے) اور مالک اشتر عبد اللہ ابن زبیر پر غالب آگئے، عبد اللہ ابن زبیر کے چیخنے پر ان کے ساتھ آئے اور انہیں نجات دلائی۔
جنگ جمل کے اختتام پر مالک اشتر نے ایک قیمتی اونٹ خریدا اور اسے حضرت عائشہ بنت ابی بکر کو دے دیا اس اونٹ کے بدلے میں جو جنگ میں مارا گیا تھا۔[12]

جنگ صفین[ترمیم]

مالک اشتر جنگ صفین میں امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب کے لشکر کے سپہ سالار تھے اور جب آپ معاویہ بن ابو سفیان کے لشکر کو چیرتے ہوئے معاویہ بن ابو سفیان کے آخری ٹھکانے پر حملہ آور ہوئے تو اس وقت معاویہ بن ابو سفیان کو اپنی شکست اورامیر المومنین علی بن ابی طالب کی کامیابی کے آثار نمایاں دکھائی دینے لگے تو اس نے علی بن ابی طالب کے سادہ لوح سپاہیوں کو فریب دینے کی خاطر قرآنکو نیزوں پر اٹھایا اور قرآن کی حکمیت کی طرف دعوت دیا۔ حضرت علی بن ابی طالبکے سپاہیوں میں سے تقریباً 20000 سپاہی امام کے گرد جمع ہو گئے اور آپ سے مالک اشتر کو واپس بلانے کی درخواست کی اور نہ مانے کی صورت میں امیر المومنین علی بن ابی طالب کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ علی بن ابی طالب نے ان کو معاویہ بن ابو سفیان اور عمرو عاص کی فریب کاری سے باخبر کرایا اور کچھ اور لمحوں کی مہلت مانگی تاکہ برائی اور فتنہ و فساد کے آخری ٹھکانے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے لیکن انہوں نےآپ کی بات نہ سنی اور مالک اشتر کو واپس بلانے پر اصرار کرنے لگے یوں حضرت علی بن ابی طالب نے مجبور ہوکر مالک کو واپس بلا لیا۔
مالک اشتر لیلۃ الہریر کی صبح معاویہ بن ابو سفیان کے لشکر کے آخری ٹھکانے پر حملہ آور ہو رہے تھے اس لیے قاصد کو واپس بھیجا اور کہا کہ اب میرے واپس آنے کا وقت نہیں ہے مجھے اور تھوڑی بہت مہلت دے دیں تو شاید خدا آج میرے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح نصیب کرے گا لذا مجھے واپس نہ بلایا جائے۔
قاصد علی بن ابی طالب کی خدمت میں آیا اور مالک اشتر کا پیغام پہنچایا اس وقت معترضین حضرت علی سے بھی بدبین ہو گئے اور کہا کہ کیا آپ نے مالک اشتر کو بلایا بھی ہے کہ نہیں؟ آپ نے فرمایا میں نے تمہارے سامنے اسے پیغام بھیجا ہے اور تم نے خود میری باتوں کو سنا بھی ہے۔ انہوں نے آپ کو دوبارہ مالک اشتر کی طرف پیغام بھیجنے پر مجبور کیا اور کہا کہ اگر تم واپس نہیں آؤگے تو ہم آپ خلافت سے عزل کرینگے۔ اس وقت علی بن ابی طالب نے قاصد سے کہا کہ مالک اشتر سے کہو واپس آجائیں کیوں کہ فتنے نے سر اٹھایا ہے۔ قاصد نے مالک اشتر کے پاس جا کر جب یہ پیغام سنایا تو انہوں نے کہا کہ آیا یہ فتنہ اس قرآن کے نیزوں پر بلند ہونے کی وجہ سے ہے؟ قاصد نے جواب دیا ہاں۔ اس وقت مالک اشتر نے کہا خدا کی قسم جب قرآن نیزوں پر بلند ہوا تو میں سمجھ گیا تھا کہ یہ چیز ہمارے درمیان اختلاف کا سبب بنے گا لیکن کیا اس سنہرے موقع(فتح) کو ہاتھ سے جانے دینا عقل مندی کا کام ہے؟ قاصد نے مالک اشتر سے کہا اچھا کیا تمہیں پسند ہے کہ تم یہاں معاویہ بن ابو سفیان پر جیت جاؤ اور وہاں امیر المؤمنین اپنے لشکریوں کے ہاتھوں شہید ہو جائے؟ مالک اشتر نے کہا سبحان اللہ ہرگز مجھے ایسا پسند نہیں ہے۔ قاصد نے کہا انہوں نےامیر المومنین سے کہا ہے کہ یا مالک اشتر واپس آئے یا ہم آپ کو شہید کر دیں گے جس طرح عثمان بن عفان کو قتل کیا ہے یا یہ کہ آپ کو دشمن کے حوالے کر دیں گے۔
یوں مالک اشتر میدان جنگ سے واپس آئے۔ جنگ سے واپس آکر آپ نے مخالفین سے مذاکرات کیے اور ان کی سرزنش کی اور ایک دوسرے سے لڑنے لگے یہاں تک کہ حضرت علی بن ابی طالب نے ان کو ٹوکا اور اس کام سے انہیں باز رکھا۔ مالک اشتر حکمیت کے مخالف تھے لیکن چونکہامیر المومنین نے اسے قبول کیا تھا اس لیے آپ نے امام کی پیروی کی۔[13]

شہادت[ترمیم]

مالک اشتر جنگ صفین سے واپس آنے کی بعد جزیرہ میں رہ رہے تھے لیکن چونکہ اس وقت مصر جس کی گورنری محمد بن ابی بکر کر رہے تھے، کی حالات نہایت پرآشوب تھی اس لیے امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب نے مالک اشتر کو جو اس وقت نصیبین میں تھے، بلایا اور اسے مصر کی گورنری پر منصوب کیا۔ جب معاویہ بن ابو سفیان کے جاسوسوں نے مالک اشتر کا مصر کی گورنری پے منصوب ہونے کی خبر پہنچائی تو وہ سمجھ گیا کہ اگر مالک اشتر کے قدم مصر تک پہنچ جائے تو مصر پر قبضہ کرنا بہت ہی دشوار ہو جائے گا۔ لہذا اس نے ایک شخص کو پیغام بھیجا جس سے وہ مالیات لیتا تھا کہ اگر تم مالک اشتر کو قتل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو جب تک میں اور تم زندہ ہو میں تم سے مالیات نہیں لونگا۔ جب مالک اشتر قلزم نامی جگہے پر پہنچے تو اس شخص نے جسے معاویہ بن ابو سفیان نے مالک کی قتل پر مأمور کیا تھا بھی اسی جگہ سے اس کا تعلق تھا، مالک اشتر کا استقبال کیا اور انہیں وہاں قیام کرنے کی دعوت دی اور اس کے لیے کھانے کا بندوبست کیا۔ جب کھانے سے فارغ ہوا تو مالک اشتر کے لیے زہر ملا ہوا شربت لایا گیا جب انہوں نے وہ شربت پیا تو اس سے مسموم ہوئے، یوں مالک اشتر اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ [14]
علقمه بن قیس نخعی کہتے ہیں: امیر المومنین علی بن ابی طالب مالک اشتر کی موت پر ہمیشہ افسوس فرماتے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ صرف آپ ہی مالک اشتر کی موت پر غمگین اور مصیبت زدہ ہیں نہ کہ قبیلہ نخع۔[15]
معاویہ بن ابو سفیان جب مالک اشتر کی موت سے آگاہ ہوا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا: "اما بعد، علی بن ابی طالب کے دو بازوں تھے ایک کو صفین میں قطع کیا گیا جو عمار بن یاسر تھا اور دوسرے کو آج قطع کیا گیا جو مالک اشتر تھا"[16]

اولاد اور نسل[ترمیم]

  • مختار ثقفی نے جب امام حسین ابن علی کے خون کا بدلہ لینے کے لیے قیام کیا تو مالک اشتر کے فرزند ابراہیم بن مالک اشتر ان کے ساتھیوں میں سے تھے ۔[17]
  • نعمان بن ابراہیم بن مالک اشتر[18]
  • محمد بن مالک بن ابراہیم بن مالک اشتر جو محدثین میں سے تھے۔[19]
  • جعفر بن محمد بن عبد اللہ بن قاسم بن ابراہیم بن مالک اشتر جو محدثین میں سے تھے۔[20]
  • ابی الحسین، ورام بن ابی فراس عیسی بن ابی النجم، بن ورّام ابن حمدان بن خولان بن إبراہیم بن مالک اشتر ۔
  • بوالقاسم النخعی الکوفی الفقیہ، معروف بہ ابن کاس، مالک اشتر کی نسل سے تھے۔[21]

اس کے علاوہ آپ کی نسل سے بہت سے قبائل آباد ہوئے جس میں سے کلباسی جو ایران اور عراق میں آباد ہیں۔
لبنان میں آباد آپ کی نسل کے افراد اشتری لقب استعمال کرتے ہیں۔

مدفن[ترمیم]

مالک اشتر کا مدفن مصر ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ترجمہ الفتوح،متن،ص:145
  2. تاریخ مدینۃ دمشق، ج 56، ص 380
  3. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج 15، ص 98.
  4. المہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص 33
  5. تاریخ مدینۃ دمشق، ج56، ص 380
  6. الامین، اعیان الشیعہ، ج 9، ص 40.
  7. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 2، صص 130-133.
  8. ابن شبۃ النمیری، تاریخ المدینۃ المنورۃ، ج 3، ص 1142.
  9. مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص 62.
  10. البلاذری، انساب الاشراف، ج 5، ص 535-536؛ مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص 63.
  11. مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص 83.
  12. الطبری، ج 4، ص 542؛ طبق نقل مہاجر، مالک الاشتر سیرتہ و مقامہ فی بعلبک، ص 84.
  13. الامین، اعیان الشیعہ، ج 9، ص 39.
  14. الامین، اعیان الشیعہ، ج 9، صص 38-39.
  15. الثقفی، الغارات، ج 1، صص 265-266.
  16. امینی، ترجمہ اعلام نہج البلاغہ، ص 40؛ الثقفی، الغارات، ج 1، ص 262.
  17. الامین، اعیان الشیعۃ، ج2، ص200.
  18. الاعلام ج8ص 35
  19. التحصین، ابن طاوس،ص:542
  20. کمال الدین و تمام النعمۃ، ج2، ص: 407
  21. تاریخ الاسلام،ج24،ص:159